
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے حوالے سے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ ایرانی وفد کے ساتھ اہم بات چیت میں شرکت کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی وفد کی آمد کے حوالے سے تاحال کوئی واضح سرکاری یا غیر سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ وفد کب اسلام آباد پہنچے گا، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔
دارالحکومت میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون، جو جمعے کی دوپہر تک صحافیوں کے لیے جزوی طور پر کھلا تھا، اب مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ریڈ زون سے ملحقہ علاقوں میں مقامی اور غیر ملکی صحافی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور کسی بھی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے میڈیا نمائندگان کے لیے جناح کنونشن سینٹر کو مخصوص کیا گیا ہے جہاں سے وہ صورتحال کو کور کر رہے ہیں۔
مذاکرات سے قبل امریکی مؤقف بھی خاصا سخت دکھائی دے رہا ہے۔ روانگی سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ وہ امریکی صدر کی واضح ہدایات کے ساتھ پاکستان جا رہے ہیں اور اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکا مثبت ردعمل نہیں دے گا، تاہم نیک نیتی کا جواب اسی انداز میں دیا جائے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے مذاکرات کی ناکامی کو سنگین نتائج سے جوڑا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات نہایت حساس اور دباؤ سے بھرپور ماحول میں ہوں گے۔
موجودہ صورتحال میں اسلام آباد نہ صرف سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے بلکہ عالمی میڈیا اور مبصرین کی توجہ بھی ان مذاکرات پر مرکوز ہے، جہاں کسی بھی پیش رفت کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔







