ColumnRoshan Lal

پاکستان کا ایک اور ’’ نامراد ‘‘ بجٹ

پاکستان کا ایک اور ’’ نامراد ‘‘ بجٹ
روشن لعل
علم معاشیات کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے لوگوں کواپنے مالی معاملات راست سمت میں رکھنے کے لیے اکثر بجٹ تیار کرنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ دو قسم کے بجٹ ایسے ہیں جو موجودہ دور میں عام آدمی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک بجٹ وہ ہے جسے حکومت بناتی یا پیش کرتی ہے اور دوسرا بجٹ کسی گھر یا خاندان کا ہوتا ہے۔ پہلی قسم کے بجٹ کو پبلک اور دوسرے کو پرائیویٹ بجٹ کہا جاتا ہے۔ پرائیویٹ بجٹ کے بہتر اور مناسب ہونے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ حکومت کے پیش کردہ بجٹ میں عام آدمی کی آمدن میں اضافہ، روزگار کے تحفظ اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے کس حد تک اقدامات کیے گئے ہیں۔ پبلک یا حکومت کا بجٹ تیار کرتے وقت پہلے اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور پھر ان اخراجات کے مطابق ٹیکس اور دوسرے محصولات عاید کر کے ریونیو کے حصول کے ذرائع پیدا کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پرائیویٹ بجٹ کے لیے عام آدمی یہ نہیں سوچتا کہ اس کی ضروریات کیا ہیں بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ مہنگائی کس حد تک ہے اور مہنگائی کی مناسبت سے اخراجات کے لیے اس کی آمدن کیا ہے۔
پاکستان کے ہر گزشتہ بجٹ کی طرح حالیہ بجٹ 2026۔27میں بھی اعداد و شمار کی شعبدہ بازی کرتے ہوئے ملک میں افراط زر کی شرح کم سے کم دکھانے اور مہنگائی میں کمی کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے دعوے کرنے کا سلسلہ یہاں عرصہ دراز سے جاری ہے۔ ایسے دعووں کا کھوکھلا پن عام لوگوں پر اس حد تک عیاں ہو چکا ہے کہ اب کوئی بھی ان پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ اعداد و شمار کی شعبدہ بازی کے ذریعے، کھوکھلے دعوے کرنے والوں کے سامنے جب عام لوگوں کی مشکلات کے ناقابل تردید ثبوت رکھے جائیں تو وہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہاں مہنگائی کی شرح میں جس طرح سے اضافہ ہوا اس مناسبت سے عام آدمی، خصوصاً تنخواہ دار طبقہ کی آمدن ہر گز نہیں بڑھ سکی۔ اس صورتحال میں عام آدمی کے لیے مالی مشکلات میں اضافہ کی وجہ سے حالات مشکل سے دشوار ترین ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں دستیاب آمدن میں عام آدمی کے لیے اپنے گھر کا بجٹ بنانا یا ضروریات زندگی پوری کرنا ہر طرح سے نا ممکن نظر نہیں آتا۔ مقتدر حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود عام لوگوں کی معاشی مشکلات کو ختم یا کم کرنے کے لیے کبھی ضروری اقدامات کرنے کو تیار نظر نہیں آئے۔ ہمارا وزیر خزانہ کوئی بھی ہو ، وہ ہر بجٹ کی تیاری سے پہلے اور بعد میں بھی عام لوگوں کی مشکلات سے بے نیاز ہو کر بے حسی کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے۔ یہاں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بے حسی کی ایک ایسی مثال پیش کی جارہی ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے سال 2015ء کا بجٹ پیش کرنے کے بعد کیا تھا۔ مذکورہ بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ڈار صاحب سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ان کی طرف سے مقرر کردہ تنخواہ کی کم از کم حد 13000 روپے میں کیا وہ کسی عام آدمی کے گھر کا بجٹ تیار کر کے دے سکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب چارٹرڈ اکائونٹنٹ، وزیر خزانہ نے یہ دیا کہ تیرہ ہزاز کیا عام آدمی کے گھر کا بجٹ تو15000روپے میں بھی تیار نہیں کیا جا سکتا۔ اس جواب سے نہ صرف اسحاق ڈار بلکہ پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ کے مائنڈ سیٹ کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
ہمارے وزیر خزانہ اورنگ زیب صاحب نے جو بجٹ پیش کیا، ہو سکتا ہے کہ اس کی تعریف میں کیے گئے ان کے دعوے حکومت کے خیر خواہوں کے لیے انتہائی تسلی بخش ہوں مگر معاشیات اور مالیاتی امور کے حقیقت پسند ماہرین کے تبصروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان دعووں سے قطعاً متاثر نہیں ہیں۔ اس حوالہ سے، یہاں وزیر خزانہ کے پیش کردہ بجٹ کے متضاد اعدادوشمار کا خلاصہ پیش کرنے کی بجائے صرف یہ بتانا کافی ہے کہ تمام تر معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بجٹ کا جائزہ لینے والے ماہرین کے مطابق وزیر خزانہ نے ملک کے بوسیدہ معاشی ڈھانچے کے تحفظ کو اپنی ترجیح بنا کر حالیہ بجٹ تیار اور پیش کیا ہے۔ وزیر خزانہ کی ترجیحات کی موجودگی میں خسارے سے پاک بجٹ پیش ہو ہی نہیں سکتا۔ ہمارے وزیر خزانہ نے بوسیدہ معاشی ڈھانچے کو توڑنا تو دور کی بات، اسے چھیڑنا تک گوارا نہیں کیا ۔ ایسی صورتحال میں ، وزیر خزانہ کے اس دعویٰ پر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ ان کا تیار کردہ بجٹ ملک کے لیے خوشحالی کا پیغامبر ثابت ہوگا۔ ماہرین موجودہ وزیر خزانہ صاحب کے دعووں کو طفل تسلیاں قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے سابق وزرائے خزانہ قوم کو گزشتہ کئی برسوں تک جو لالی پوپ دیتے رہے، اورنگزیب صاحب کے پاس بھی دینے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ملک کا معاشی ڈھانچہ حسب سابق جوں کا توں ہے، خزانے کے محصولات کا بڑا انحصار اب بھی براہ راست ٹیکسوں کی بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر کیا گیا ہے ۔ ماضی کی طرح اب بھی Regressive Tax عائد کرنے کی اسی گھسی پٹی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے جس کے تحت امراء اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں سے یکساں شرح سے سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ اس پالیسی کے تحت بڑے بڑے کاروباروں کے حامل ، منافع خوروں کے مالیاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ریونیو کی وصولی کا زیادہ تر بوجھ عام اور چھوٹے کاروباری حضرات پر ڈال دیا جاتا ہے۔
سابقہ پالیسیوں کے تحت تیار کردہ جو حالیہ بجٹ پیش کیا گیا ہے ، خیال کیا جارہا ہے کہ ماضی کی طرح اس کا حاصل وصول بھی یہ ہوگا کہ قرضوں کی صورت میں حاصل کی گئی رقوم ایسے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائیں گی جن سے صرف خاص لوگوں کے کاروبار کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا اور منظور نظر کاروباری گروہوں کو ہی منافع کمانے کے زیادہ مواقع میسر آسکیں۔ ماضی کی پالیسیوں پر عمل پیرائی سے فائدہ تو چند لوگوں یا کاروباری خاندانوں کو ہوگا مگر قرضوں کی ادائیگی کا زیادہ تر بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ گزشتہ بجٹ کی طرح سب سے زیادہ فنڈز اس مرتبہ بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ فنڈ حسب سابق سڑکوں اور پلوں کی تعمیر پر خرچ ہونگے اور اس مشق سے کون کس حد تک منافع کمائے گا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
ہمارا حالیہ بجٹ، 18.77ٹریلین روپے کا ہے جبکہ گزشتہ سال کا بجٹ 17.57ٹریلین روپے کا تھا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ، ہدف کے مطابق 2.20ٹریلین روپے کے نہ وصول ہو نے والے محصولات، حالیہ بجٹ 2026۔27کو ورثے میں ملے ہیں۔ گزشتہ برس 14.13روپے ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باوجود حالیہ بجٹ میں 15. 26ٹریلین روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کرلیا گیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کو خوش فہمی کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس طرح کی خوش فہمیوں کے تحت تیار کردہ بجٹ کو ’’ نامراد بجٹ ‘‘ نہیں تو پھر اور کیا کہا جائے۔

جواب دیں

Back to top button