سکیورٹی فورسز کے آپریشنز48 خوارج ہلاک

سکیورٹی فورسز کے آپریشنز
48 خوارج ہلاک
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 48خوارج کی ہلاکت ایک بڑی، اہم اور قابلِ ذکر کامیابی ہے، جس نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نہ صرف پُرعزم بلکہ ہر لمحہ فعال بھی ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق میران شاہ اور اس کے گرد و نواح میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ان منظم اور انتہائی درستی پر مبنی آپریشنز میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف بڑی تعداد میں خوارج ہلاک ہوئے بلکہ پورے علاقے میں ان کے نیٹ ورک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو آخری مرحلے تک لے جانے کے لیے پوری طرح سنجیدہ اور متحرک ہے۔ گزشتہ 72گھنٹوں کے دوران ہونے والی شدید جھڑپوں میں مزید 21 دہشت گردوں کی ہلاکت، جن میں چار اہم کمانڈرز بھی شامل تھے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست کسی بھی صورت میں دہشت گرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے یا اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کمانڈرز کا تعلق ایسے گروہوں سے بتایا گیا ہے جو نہ صرف سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہے بلکہ بے گناہ شہریوں کے قتل، تخریب کاری اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوششوں میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔ ان کا خاتمہ انسداد دہشت گردی کی جاری مہم میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔ یہ حقیقت بھی انتہائی اہم ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی تمام کارروائیاں جدید انٹیلی جنس، مربوط حکمت عملی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے گزشتہ برسوں میں انسداد دہشت گردی کے میدان میں جو تجربہ اور مہارت حاصل کی ہے، وہ دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے۔ ان آپریشنز میں استعمال ہونے والی درست حکمت عملی، بروقت معلومات کا تبادلہ اور زمینی حقائق کی مکمل سمجھ بوجھ نے دہشت گردوں کے لیے کسی بھی قسم کی مزاحمت کو ناممکن بنا دیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی حفاظت کو ہر صورت میں مقدم رکھا گیا، جو سیکیورٹی فورسز کی ذمے دارانہ سوچ اور انسانی اصولوں سے وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے جس میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی گئی ہیں۔ فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور عام شہریوں نے مل کر اس ناسور کے خلاف بے مثال جدوجہد کی ہے۔ آج ملک کے مختلف حصوں میں جو نسبتاً امن قائم ہے، وہ انہی عظیم قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ شمالی وزیرستان جیسے حساس علاقوں
میں حالیہ کامیاب کارروائیاں اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں، جن کا مقصد باقی ماندہ دہشت گرد عناصر کو بھی مکمل طور پر ختم کرنا ہے تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گرد عناصر مسلسل اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں، چھپنے کے نئے طریقے اپناتے ہیں اور بعض اوقات بیرونی سرپرستی کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ہر بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف ان چیلنجز کو سمجھتی ہیں بلکہ ان کا مثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس نیٹ ورک اور فوری ردعمل کی حکمت عملی نے دہشت گردوں کے لیے زمین مزید تنگ کردی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حالیہ آپریشنز میں ایسے عناصر کو نشانہ بنایا گیا جو بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔ ان گروہوں کا مقصد نہ صرف پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانا ہے بلکہ ترقی کے عمل کو بھی سبوتاژ کرنا ہے۔ تاہم ریاست پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ کسی بھی بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ پیغام نہ صرف دشمن عناصر کے لیے واضح تنبیہ ہے بلکہ اندرونی و بیرونی سطح پر پاکستان کے موقف کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری اور ’’ عزمِ استحکام‘‘ کے وژن کے تحت جاری انسداد دہشت گردی مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی صفحے پر ہیں۔ یہ قومی یکجہتی اس جنگ میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، کیونکہ دہشت گردی جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لیے صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ مکمل قومی اتفاق رائے بھی ضروری ہوتا ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنا اسی قومی عزم کا اظہار ہے جس کے تحت ریاست اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں ہر لمحہ خطرہ موجود رہتا ہے۔ ان جوانوں نے اپنی زندگیاں دائو پر لگا کر ملک کے اندر امن قائم رکھنے کی جو جدوجہد کی ہے، وہ کسی بھی قوم کے لیے باعث فخر ہے۔ قوم بھی اپنے ان محافظوں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے اور ان کی کامیابیوں کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شمالی وزیرستان میں ہونے والی یہ کامیاب کارروائیاں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہیں۔ یہ نہ صرف ایک عسکری کامیابی ہے بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دہشت گردی، انتہاپسندی یا بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔ ریاست، افواج اور عوام کا یہ مشترکہ عزم اس بات کی ضمانت ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ اب کچھ وقت کی بات ہے۔ پاکستان ایک پرعزم، باحوصلہ اور متحد قوم ہے جس نے ہر مشکل دور میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج بھی یہی اتحاد اور یہی عزم اس بات کی ضمانت ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا اور آنے والا وقت امن، استحکام اور ترقی کا ہوگا۔ یہ آپریشنز اسی روشن مستقبل کی طرف ایک مضبوط قدم ہیں اور وہ دن دُور نہیں جب پاکستان مکمل طور پر دہشت گردی کے ناسور سے پاک ہو کر ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔
خون عطیہ کرنے کا عالمی دن
پاکستان سمیت دُنیا بھر میں اتوار کو خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا گیا، یہ دن ہر سال اس مقصد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ عوام میں خون عطیہ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس نیک اور انسانی خدمت کے کام کی طرف راغب کیا جا سکے۔ یہ دن دراصل ان افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے جو رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کر کے انسانی زندگیاں بچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جدید دنیا میں صحت کے نظام کی بنیاد بڑی حد تک رضاکارانہ خون عطیات پر قائم ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی صرف محدود فیصد لوگ باقاعدگی سے خون عطیہ کرتے ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ شرح اس سے بھی کم ہے، اور پاکستان میں یہ شرح تین فیصد سے بھی نیچے ہے۔ پاکستان جیسے بڑے آبادی والے ملک میں ہر سال لاکھوں بلڈ بیگز کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مختلف حادثات، آپریشنز، زچگی کی پیچیدگیاں اور تھیلیسیمیا و ہیموفیلیا جیسے امراض کے مریضوں کے لیے خون زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں سالانہ 25سے 30لاکھ بلڈ بیگز کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں دستیاب عطیات بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے اکثر اسپتالوں میں مریضوں کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کمی نہ صرف نظام صحت پر دبائو ڈالتی ہے بلکہ کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں خون عطیہ کرنے کے حوالے سے آگاہی کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ خون دینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے، حالانکہ طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند مرد یا عورت تین ماہ کے وقفے سے خون عطیہ کر سکتا ہے اور یہ عمل نہ صرف محفوظ ہے بلکہ جسم میں نئے اور صحت مند خون کی تشکیل کا باعث بھی بنتا ہے۔ خون عطیہ کرنے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے، جسم میں آئرن کا توازن برقرار رہتا ہے اور مجموعی طور پر انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، میڈیا، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی مل کر اس حوالے سے موثر مہم چلائیں تاکہ عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے۔ اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر آگاہی پروگرامز، بلڈ ڈونیشن کیمپس اور عوامی مہمات اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح مذہبی رہنماں اور سماجی شخصیات کو بھی اس نیکی کے کام کی ترغیب دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ انسانی جان بچانا اسلام اور انسانیت دونوں کے نزدیک ایک عظیم عمل ہے۔ اگر معاشرے میں خون عطیہ کرنے کا رجحان بڑھ جائے تو نہ صرف اسپتالوں کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے بلکہ ایک مضبوط اور خود کفیل بلڈ بینک نظام بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں نہ کوئی مالی نقصان ہے اور نہ ہی جسمانی نقصان، بلکہ اس کے بدلے میں کسی کی جان بچانا سب سے بڑی انسانیت ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ آخر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خون عطیہ کرنا صرف ایک طبی عمل نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔ اگر ہر صحت مند فرد سال میں کم از کم چند بار رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے کا عہد کرے تو پاکستان میں خون کی کمی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا نیک عمل ہے جو نہ صرف دوسروں کی زندگی بچاتا ہے بلکہ عطیہ کرنے والے کے لیے بھی اجر اور اطمینان کا باعث بنتا ہے۔





