
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر، سابق مشیر برائے تجارتی امور وزیراعلیٰ پنجاب محمد علی میاں نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں اور مالیاتی نظم و ضبط کے تقاضوں کے باوجود حکومت نے ایک ایسا بجٹ پیش کیا ہے جس میں معاشی استحکام، کاروباری اعتماد، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس اصلاحات کے درمیان مناسب توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ محمد علی میاں نے کہا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم اس بات کی مستحق ہے کہ انہیں پاکستان کو ڈیفالٹ کے سنگین خطرات سے نکال کر معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششوں کا کریڈٹ دیا جائے۔ مشکل ترین معاشی حالات میں بھی مختلف شعبوں کے لیے ٹیکسوں میں کمی، بعض محصولات کا خاتمہ اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت محض ریونیو اکٹھا کرنے کے بجائے اقتصادی نمو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات وزیراعظم شہباز شریف کی عملی سوچ اور کاروبار دوست پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی ایک خوش آئند اقدام ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں یہی طبقہ ٹیکس بوجھ کا سب سے بڑا حصہ برداشت کرتا رہا ہے۔ اسی طرح کاروباری شعبے پر سپر ٹیکس میں کمی سرمایہ کاری، توسیع اور صنعتی ترقی کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہے۔محمد علی میاں نے تعمیراتی شعبے کے لیے دی جانے والی ٹیکس سہولتوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس کی شرحوں میں کمی سے نہ صرف ہاؤسنگ سیکٹر بلکہ اس سے وابستہ درجنوں صنعتوں میں بھی مثبت سرگرمیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کا شعبہ روزگار پیدا کرنے اور معاشی پہیہ تیز کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی اور برآمدی شعبے کے لیے دی گئی مراعات کو بھی قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کا انحصار برآمدات میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے





