Column

شادی سے قبل وزن میں کمی کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان

شادی سے قبل وزن میں کمی کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان
تحریر: رفیع صحرائی
انڈسٹری کوئی بھی ہو، اس کی کامیابی کا راز مناسب تشہیر میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی پراڈکٹ کو مقبولِ عام اور قبول عام بنانے کے لیے اس کی تشہیری مہم کے لیے بھاری بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسیز اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے کامیاب ایڈورٹائزنگ کے ذریعے قبولِ عام کو ضرورتِ عوام بنا کر اپنے پیسے کھرے کر لیتی ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ جس چیز کو وہ سونا بنا کر پیش کر رہے ہیں حقیقت میں وہ پیتل بھی نہیں۔ ایڈورٹائزنگ کے ذریعی نت نئے فیشن، رجحانات اور معیارات کو تخلیق اور فروغ دیا جاتا ہے۔
کبھی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا بھرا بھرا جسم وجاہت اور خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آج کل یہ تصوّر آئوٹ آف ڈیٹ ہو چکا ہے۔ جنہیں کبھی نازک، پنسل نما، سُوکھا سڑا یا کمزور جسم کی وجہ سے طنزاً ٹی بی کا مریض کہا جاتا تھا وہ آج کل آئیڈیل جسامت کے حامل بن گئے ہیں۔ انہیں آئیڈیل بنانے میں سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کا بھرپور کردار ہے۔
معاشرے میں بدلتے ہوئے رجحانات انسان کی ترجیحات اور سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں ایک نئی اور تیزی سے مقبول ہوتی روش سامنے آئی ہے اور وہ روش شادی سے قبل وزن کم کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے جس میں نوجوان لڑکیاں نئے معیار پر پورا اترنے یعنی دُبلا ہونے کے لیے ’’ خصوصی انجیکشنز‘‘ کا سہارا لے رہی ہیں۔ بظاہر یہ عمل خوبصورتی اور خوداعتمادی کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر اس کے پسِ پردہ چھپے خطرات نہایت سنگین اور تشویشناک ہیں۔ یہ انجیکشنز جو دراصل مخصوص بیماریوں جیسے ذیابیطس کے علاج کے لیے تیار کیے گئے تھے، اب بغیر مناسب طبی مشورے کے محض وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس رجحان کے کئی سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ظاہری حسن کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، خاص طور پر شادی جیسے مواقع پر تو دلہن کے لیے ’’ پرفیکٹ لک‘‘ کا تصور میڈیا، سوشل میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے اس قدر مضبوط کر دیا گیا ہے کہ نوجوان لڑکیاں خود کو ایک خاص معیار پر لانے کے لیے بے چین دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا واحد مقصد ہی دوسروں کے معیار پر پورا اترنا رہ گیا ہے۔ نتیجتاً وہ فطری طریقوں کے بجائے فوری نتائج دینے والے غیر محفوظ راستے اختیار کر لیتی ہیں۔ وہ دبلا ہونے یا وزن کم کرنے کے لیے ادویات کا سہارا لیتی ہیں۔ انہیں ان ادویات کے مضر اثرات کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ شادی ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے اسے اب ایک ’’ نمائش‘‘ کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے خوبصورتی کے غیرحقیقی معیار قائم کر دیئے ہیں۔ دلہن اور دلہا کے لیے دبلا، اسمارٹ اور پرفیکٹ نظر آنا جیسے ایک لازمی شرط بن چکا ہے۔ یہی وہ دبا ہے جو نوجوانوں کو فوری نتائج کے حصول کے لیے خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انجیکشنز یا ادویات کے ذریعے وقتی طور پر وزن کم تو ہو جاتا ہے لیکن جیسے ہی ان کا استعمال ترک کیا جاتا ہے، وزن دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔ یوں یہ ایک ختم نہ ہونے والا چکر بن جاتا ہے جو جسم کو کمزور سے کمزور تر کرتا چلا جاتا ہے جو کئی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
خبر کے مطابق شادی سے پہلے وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ یہ ادویات وقتی طور پر بھوک کم کر کے وزن گھٹانے میں مدد دیتی ہیں، لیکن ان کے مضرِ صحت اثرات کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ادویات استعمال کرنے والوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ یہ ادویات دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، ہارمونل بگاڑ، ذہنی دبا، بی خوابی اور معدے کے مسائل جیسے سنگین نتائج سامنے لا سکتی ہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو یہ ادویات مستقل صحت کے مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ چند دن کی خوبصورتی کے لیے زندگی بھر کی صحت کو دائو پر لگا دینا کیا کسی بھی طور دانشمندی ہے؟ بے شک شادی ایک خوشی کا موقع ہے مگر اس کے لیے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچانا ایک غیر متوازن فیصلہ ہے۔ صحت مند جسم ہی اصل حسن کا مظہر ہوتا ہے۔ وقتی طور پر گھٹایا گیا وزن صحت مندی نہیں کہلا سکتا۔
ماہرینِ صحت وزن گھٹانے اور دبلا ہونے کے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے کسی بھی دوا کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ادویات جو بھوک کو دبانے یا میٹابولزم کو مصنوعی طور پر تیز کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، انسانی جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ دیکھا دیکھی اپر کلاس سے مڈل کلاس اور اب لوئر مڈل کلاس میں بھی یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہمیں اس رجحان کی روک تھام کرنا ہو گی۔ حکومت کو چاہیے کہ ان ادویات کی فروخت اور استعمال پر سخت نگرانی کرے جبکہ طبی ماہرین عوام میں ان کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ والدین، اساتذہ، میڈیا اور معاشرتی رہنما سب کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں نوجوان نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ خوبصورتی کا تعلق صرف جسمانی ساخت سے نہیں بلکہ صحت، کردار اور اعتماد سے بھی ہے۔ وزن کم کرنا اگر واقعی ضروری ہو تو اس کے لیے قدرتی اور محفوظ طریقے اپنانے چاہئیں، جیسے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور ذہنی سکون۔ یہ طریقے اگرچہ وقت لیتے ہیں مگر دیرپا اور محفوظ نتائج فراہم کرتے ہیں۔ ضرورت محنت کی ہے۔ سستی چھوڑ کر باقاعدگی سے ورزش اور رات دیر تک سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر کے جلد سونے، جلد جاگنے اور کم از کم آٹھ گھنٹے کی نیند کو یقینی بنانا ہو گا۔ فاسٹ فوڈ اور مضرِ صحت کھانوں سے پرہیز اختیار کر کے خالص اور متوازن خوراک کا استعمال جسم کو صحتمند بنانے کے ساتھ ساتھ جلد کو بھی نکھار دیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ’’ پرفیکٹ باڈی‘‘ کے غیر حقیقی تصورات نے نوجوانوں کو ایک ایسے جال میں جکڑ دیا ہے جہاں وہ خود کو مسلسل دوسروں سے موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ اس رجحان کو متوازن کرنے کے لیے میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور حقیقی خوبصورتی کے تصور کو فروغ دینا ہوگا۔ الیکٹرانک میڈیا اور تشہیری ایجنسیوں کو بھی ضابطے میں لانے کی ضرورت ہے جو محض مصنوعات کی فروخت اور فروغ کے لیے خطرناک رجحانات کو پروان چڑھا کر عوام کو نہ صرف لوٹ رہے ہیں بلکہ انہیں مختلف بیماریوں کے حوالے کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ہر اشتہار کا متن حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کے ایکسپرٹس سے منظور کروانا ضروری قرار دیا جائے۔ پراڈکٹ کا لیبارٹری میں سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد اس کی منظوری دی جائے۔
شادی زندگی کا ایک اہم اور خوشگوار موڑ ہے مگر اس کی تیاری میں اپنی صحت کو قربان کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل خوبصورتی صحت مند جسم اور مطمئن ذہن میں پوشیدہ ہے۔ وقتی چمک دمک کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ہمیں پائیدار اور متوازن زندگی کو ترجیح دینی چاہیے۔ نوجوانوں کو باور کرانا چاہیے کہ خوبصورتی صحت، کردار اور اعتماد میں ہے نہ کہ وقتی اور مصنوعی طریقوں میں ہے۔
یاد رکھیے! ’’ حسن وہ نہیں جو آنکھ کو بھانے کے لیے سوئی کی نوک سے حاصل کیا جائے، حسن وہ ہے جو زندگی کو سنوارے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button