Column

چراغ جو آندھیوں میں بھی جلتا رہا

چراغ جو آندھیوں میں بھی جلتا رہا
تحریر: محمد محسن اقبال
قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب تقدیر ان کے عزم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتی ہے۔ ایسے لمحات محض اتفاق سے جنم نہیں لیتے۔ یہ مسلسل محنت، ایثار اور جدوجہد کا حاصل ہوتے ہیں۔ یہ نیک نیتی اور سچے جذبے سے پروان چڑھتے ہیں۔ جب اخلاص اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور وہ جسے چاہے عزت عطا فرماتا ہے۔
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کا دن بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ تھا۔ ایک خواب حقیقت میں ڈھل گیا۔ اس سرزمین کے باسیوں نے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے اپنے خون اور آنسوئوں سے آزادی کی داستان لکھی تھی۔ مگر جب آزادی نصیب ہوئی تو ان کے چہروں پر خوشی کی روشنی جھلک رہی تھی اور دل شکر گزاری سے لبریز تھے کہ اللہ نے انہیں ایک آزاد وطن کی نعمت سے نوازا۔
اس دن کے بعد پاکستان کا سفر شروع ہوا۔ یہ سفر آسان نہ تھا۔ ہر موڑ پر آزمائشیں تھیں۔ مشکلات تھیں اور اندیشے بھی۔ کئی بار راستہ دھندلا سا محسوس ہوا، مگر قوم کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ یہ قافلہ چلتا رہا۔ جیسے کوئی کوہ پیما بلند چوٹی کو سر کرنے کے لیے ہر رکاوٹ سے لڑتا ہے، ویسے ہی پاکستان اپنے سفر میں آگے بڑھتا رہا۔
آج اللہ کے فضل و کرم سے یہ سفر ایک قابلِ ذکر بلندی تک جا پہنچا ہے۔ پاکستان دنیا میں سربلند کھڑا ہے۔ اس نے سفارت کاری میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ اس نے اخلاقی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ اس نے امن کے قیام کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھی ہیں۔ زندگی کے ہر میدان میں اس نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ ایسے مواقع قوموں کو صدیوں بعد نصیب ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں خطہ شدید آزمائش سے گزرا۔ فضا میں کشیدگی کے بادل منڈلا رہے تھے۔ جنگ کا خدشہ ہر دل میں گھر کر گیا تھا۔ انسانی زندگی خطرے میں تھی۔ عالمی معیشت لڑکھڑا رہی تھی اور نظامِ حیات جیسے مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں بصیرت کی ضرورت تھی، حوصلے کی ضرورت تھی، اور سب سے بڑھ کر اخلاص کی ضرورت تھی۔
ایسے میں پاکستان نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ اس کی سول اور عسکری قیادت نے معاملے کی نزاکت کو سمجھا اور نہایت تدبر کے ساتھ اقدامات کیے۔ موثر سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسے بحران کو ٹال دیا گیا جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔ یہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم خدمت تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت۔ اس کڑے امتحان میں پاکستان کو عزت سے نوازا گیا۔ دنیا نے اس کا کردار دیکھا۔ اس نے ایک ایسے ملک کو پہچانا جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتا ہے، جو انتشار کے بجائے استحکام کا خواہاں ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہو۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جب دنیا نے مدد کی پکار کی تو پاکستان نے بلا تامل لبیک کہا۔ اس نے اپنے نقصان کی پروا نہ کی۔ اس نے اپنے مفادات کا حساب نہیں لگایا۔ اس نے خلوصِ نیت سے قدم آگے بڑھایا۔ اس کی قیمت بہت بھاری تھی۔ ہزاروں جانیں قربان ہوئیں۔ معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔ مگر پاکستان اپنے عزم پر قائم رہا اور امن کی راہ اختیار کیے رکھی۔
ان کٹھن حالات میں بھی، جب خطہ تباہی کے دہانے پر تھا، پاکستان نے پل کا کردار ادا کیا۔ اس نے متحارب قوتوں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ اس نے مکالمی کے دروازے کھولے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ سخت ترین حالات میں بھی سفارت کاری وہ کام کر سکتی ہے جو طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں ہوتا۔
آج دنیا اس کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔ ہر طرف سے تحسین کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ جو کبھی خاموش رہتے تھے، اب اعترافِ حقیقت پر مجبور ہیں۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اس اعتماد کا اظہار ہے جو پاکستان نے اپنے کردار سے حاصل کیا ہے۔
اس سارے عمل میں پاکستان نے کئی ممالک کی مدد کی۔ اس نے ان کے استحکام میں کردار ادا کیا۔ اس نے ان کی عزت و وقار کی بحالی میں حصہ ڈالا۔ اس نے ایک مثبت ثالث کا کردار ادا کیا۔ یہ سب کچھ انسانیت اور امن کے نام پر کیا گیا۔
یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ ممالک ان خدمات کو یاد رکھیں۔ وہ پاکستان کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں۔ وہ اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔ وہ مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ سچی دوستی کا امتحان بھی ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظرسرحد پار ایک مختلف منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھارت ان پیش رفتوں پر افسردہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کا میڈیا بھی ان حالات میں حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ بعض حلقے چاہے کتنی ہی ہچکچاہٹ کیوں نہ دکھائیں، پاکستان کی کامیابی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اس سے قبل بھی ایسی سفارتی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ بیس فروری انیس سو ننانوے کو ایک تاریخی واقعہ پیش آیا۔ بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر لاہور کا دورہ کیا۔ یہ خیرسگالی کا ایک اہم قدم تھا۔ اگلے روز انہوں نے مینارِ پاکستان جا کر پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا۔ یہ سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی تھی۔
آج تاریخ خود کو دہراتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان نے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ عالمی افق پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ اس کی آواز میں وزن ہے۔ اس کے اقدامات میں اعتماد جھلکتا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ ایمان اور عزم سے سرشار قومیں ہر مشکل پر قابو پا سکتی ہیں۔
اللہ کرے یہ روشنی ہمیشہ قائم رہے۔ پاکستان امن کا پیامبر بنا رہے۔ وہ ہمیشہ ان اصولوں پر قائم رہے جنہوں نے اسے جنم دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت سے اس وطن کو ہمیشہ محفوظ اور سربلند رکھے۔

جواب دیں

Back to top button