ٹرمپ کا نیا بیان

ٹرمپ کا نیا بیان
محمد مبشر انوار
مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال قدرے بدلتی دکھائی دے رہی ہے اور معاملات بظاہر کسی کروٹ بیٹھتے نظر آتے ہیں تاہم اس جنگ میں تاحال واضح طور پر ایران کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے اور شدید ترین حملوں اور نقصانات کے باوجود ایران خم ٹھونک کر میدان میں کھڑا امریکی و اسرائیلی جارحیت کا نہ صرف مقابلہ کر رہا ہے بلکہ جوابی حملوں میں امریکہ و اسرائیل دونوں کو ناکوں چنے چبوا رہاہے۔ تاریخ میں ایسے مناظر خال ہی نظر آتے ہیں کہ امریکہ نے جس ملک پر بھی جارحیت کی ہے، اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنی موجودگی کو یقینی بنا کر ہی وہاں سے نکلتا رہا ہے مگر حالیہ تاریخ میں امریکی اپنے اس طریقہ کار میں بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں اور بالعموم اب امریکہ جوتے چھوڑ کر بھاگتا دکھائی دیتا ہے تاہم وینزویلا میں معاملہ الٹ ہوا ہے۔ وینزویلا میں امریکہ اپنے آپریشن میں کامیاب تو ہوا ہے مگر اس کے باوجود ابھی تک شنید یہی ہے کہ وہاں سے تیل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود دنیا کو یہ باور کروانے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ دنیا موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے، تیل امریکہ سے خرید سکتی ہے کہ امریکہ کے پاس تیل کے وافر وسائل موجود ہیں۔ ممکنہ طور پر امریکہ پس پردہ ایسی کارروائیوں یا معاملات کو طے کرنے میں مشغول ہے کہ جس سے اس کا براہ راست کنٹرول وینزویلا کے معدنی ذخائر پر ہو جائے اور وہ دنیا کو تیل فراہم کرنے والا ملک بھی بن جائے۔ عالمی سطح پر، امریکہ نے ایسے حالات تو پیدا کر دیئے ہیں کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لئے تیل کی فروخت و ترسیل ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور ان کی صرف معاشی صورتحال ہی نہیں بلکہ دیگر اشیائے صرف کی ترسیل بھی سنگین صورتحال سے دوچار دکھائی دیتی ہے اور جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، اس کے اثرات خلیجی ریاستوں میں بڑھتے نظر آرہے ہیں کہ وہاں اجناس دوسرے ممالک سے منگوائی جاتی ہیں کہ مقامی طور پر ایسی کوئی پیداوار موجود نہیں ہے اور زیادہ تر انحصار امپورٹ پر ہے، جس کی عدم موجودگی میں شہریوں کے لئے شدید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ حقیقت اب واضح اور کنفرم دکھائی دیتی ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ، اسرائیلی خواہشات کی خاطر اترا ہے اور ایران پر بلا جواز جنگ مسلط کرنے کا مرتکب ہوا ہے جبکہ پس پردہ مذاکرات کی میز بھی سجا رکھی تھی اور دوسری مرتبہ بھی امریکہ نے دوران مذاکرات، ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور جارحیت کا ارتکاب کر کے، ایرانی اعتماد کو تو ٹھیس پہنچائی اس کے ساتھ ساتھ سفارتی آداب کا گلا گھونٹنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ بہرکیف امریکہ نے اس مرتبہ بھی ایران پر جارحیت بلاجواز کی لیکن اس مرتبہ یہ کوشش امریکہ کو الٹا گلے پڑ چکی ہے اور ایران نے اس مرتبہ نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل کا بھی بھرکس نکال دیا ہے۔ امریکہ کو برار راست نشانہ تو بہرحال ایران نے نہیں بنایا کہ ابھی تک ایرانی میزائل اور ڈرونز، جو منظر عام پر آئے ہیں، ان کی حد زیادہ سے زیادہ اسرائیل تک نظر آئی ہے لہذا اسرائیل گو کہ اپنے نقصانات کو چھپانے اور دنیا سے اوجھل رکھنے کی ہر ممکن کوششوں میں ہے لیکن اس کے باوجود اس کے اندرونی حالات کی جھلک بیرونی دنیا تک پہنچ چکی ہے اور جو درندگی اسرائیل نے غزہ میں کی ہے، اس کا کچھ حصہ اسرائیل کو وصول ہوا ہے اور اس کے شہریوں نے نیتن یاہو کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے جبکہ ایک بڑی تعداد اسرائیل چھوڑ کر جا چکی ہے۔ جب بنکرز کو اسرائیلی اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں تصور کرتے تھے، بعینہ حزب اللہ کے کمانڈر سید حسن نصراللہ کی طرح، ایرانی پے در پے میزائلوں نے پہلے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ کیا اور پھر ان محفوظ بنکروں کو بھی توڑنا پھوڑنا شروع کیا اور ان میں چھپے یہودیوں کو جہنم واصل کیا ہے۔ اسرائیل اپنے تئیں ان بنکروں کو فقط دو تین دن کے لئے تیار کئے بیٹھا تھا کہ صرف اسرائیلی شہریوں کو دو یا تین دن کے لئے ان بنکروں میں چھپنا پڑے گا اور اسرائیل کسی بھی جارحیت سے ان دو تین دنوں میں نپٹ لے گا، اسے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ کوئی بھی ملک اسرائیل پر اس تواتر و تسلسل کے ساتھ میزائل و ڈرونز فائر کرے گا کہ اس کے شہریوں کو دو تین دن کی بجائے مہینہ بھر ان بنکروں میں چھپنا پڑے گا، اندازے کی اس غلطی نے ان بنکروں میں موجود سہولیات کو ناکارہ کر دیا ہے بلکہ عوام بھی ایسی زندگی سے تنگ آ گئی ہے، جو بہرطور نیتن یاہو کے گلے کا طوق بنتی نظر ہے۔ دوسری طرف گو امریکہ تک براہ راست یا امریکی سرزمین تک کوئی بھی میزائل یا ڈرون نہیں پہنچا مگر خطہ عرب میں موجود امریکی اڈے کی درگت ساری دنیا دیکھ چکی ہے اور بالخصوص مشرق وسطی کی ریاستیں اس صورتحال کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہیں کہ جس ملک کو انہوں نے اپنی سیکورٹی، اعتماد اور مہارت کی بنا پر سونپ رکھی ہے، وہ اپنے اڈوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے اور ایرانی میزائل اس کی درگت بنارہے ہیں۔ یوں خلیجی ریاستوں میں یہ عمومی تاثر بیدار ہو رہا ہے کہ ان کی سیکورٹی نااہل ہاتھوں میں ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل کی یہ چال بری طرح ناکام رہی ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کو اکسا کر، یا ان ریاستوں پر ایرانی حملوں کا بہانہ بنا کر، ان ریاستوں کو جنگ میں شامل کر لے گا گو کہ اس مقصد کے لئے اسرائیل کی جانب سے کئی ایک فالس فلیگ آپریشن بھی ان ریاستوں میں کئے گئے تا کہ ان کو جوش دلا کر ایران کے خلاف کھڑا کیا جاسکے مگر آفرین ہے عرب قیادتوں پر، بالخصوص محمد بن سلمان جو خلیجی ممالک کے لئے ایک متفقہ قائد کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ایسی کسی کارروائی سے طیش میں نہیں آئے اور نہ ہی جنگ کا حصہ بننے کو آمادہ دکھائی دیئے اور یوں اسرائیلی چال کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس سارے کھیل کے پیچھے، حقیقت یہی تھی کہ کسی طرح عرب ریاستوں کو اس کھیل کا حصہ بنا کر، یہ جنگ خلیجی ریاستوں کی بنائی جائے اور اس جنگ کا سارا خرچ مع سود ان ریاستوں سے وصول کیا جائے، یوں ایک تیر سے کئی شکار کئے جائیں، جو خلیجی ریاستوں کے ملوث نہ ہونے کے باعث ناکام دکھائی دے رہا ہے تو دوسری طرف یہ ریاستیں اب امریکی سہارے سے آزاد ہونے کے متعلق بھی سوچ رہی ہیں کہ کسی طرح اس بہانے سے عرب خیمے میں مدخل امریکی اونٹ کو نکال باہر کیا جا سکے، واللہ اعلام بالصواب۔ رہی سہی کسر ٹرمپ کے حالیہ تضحیک آمیز بیان نے پوری کر دی ہے، جس کے بعد پرنس سلطان بیس میں امریکی طیاروں کی درگت والی فوٹیج دنیا کے سامنے آ چکی ہے اور دنیا امریکہ کا تمسخر اڑا رہی ہے جبکہ امریکہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
اس صورتحال میں ٹرمپ کی جانب سے ایک اور غیر یقینی بیان سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ کی بوکھلاہٹ کا اظہار واضح ہے کہ ٹرمپ نے اپنے نئے بیان میں کہا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے جا رہا ہے چاہے آبنائے ہرمز بند رہے اور جن ممالک کے پاس نیٹ فیول نہیں ہے بالخصوص برطانیہ، ان ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا، میری ان کے لئے ایک تجویز ہے کہ تیل ہم سے خرید لیں کہ ہمارے پاس وافر تیل موجود ہے یا تھوڑا حوصلہ پیدا کریں اور آبنائے ہرمز طاقت کے زور پر کھلوا لیں، سیکھو کہ اپنے حق کے لئے کیسے لڑا جاتا ہے لیکن امریکہ تمہارے لئے اب وہاں موجود نہیں ہو گا کیونکہ تم ہمارے لئے وہاں موجود نہیں تھے جب امریکہ وہاں جنگ کر رہا تھا۔ ہم ایران کو پہلے ہی بہت کمزور کر چکے ہیں، جائو او جا کر اپنا حق حاصل کر لو۔ ٹرمپ کی اس بوکھلاہٹ کے پیچھے درحقیقت، فرانس، جرمنی، پولینڈ و دیگر کئی ممالک کی طرف سے جنگ میں شمولیت سے انکار ہے کہ یہ ممالک اس جنگ کو ناحق و ناجائز سمجھتے ہیں، رہی بات آبنائے ہرمز کھلوانے کی، تو امریکہ کے جنگ سے نکلنے کے بعد مذاکرات کے ذریعہ اور چند شرائط کے عوض بشمول راہداری فیس، آبنائے ہرمز پہلے کی طرح سب کے لئے کھل جائیگی بشرطیکہ ٹرمپ مزید بوکھلاہٹ میں انتہائی اقدام سے باز رہا۔





