
امریکا کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسِتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ کے حوالے سے آئندہ چند روز فیصلہ کُن ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو معلوم ہے اس کے پاس اب عسکری طور پر آپشنز نہ ہونے کے برابر ہیں لہٰذا انہیں سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاہدہ کرلینا چاہیے۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسِتھ نے ایران جنگ پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فضائیہ ایران میں مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے اور اس جنگ میں آئندہ چند روز فیصلہ کُن ثابت ہوں گے۔
پیٹ ہیگسِتھ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہفتے کے روز مشرقِ وسطیٰ کا دورہ اور ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں مصروف امریکی افواج سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد زمینی صورت حال کا خود جائزہ لینا تھا تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اس دورے کی تفصیلات اور مقامات کو خفیہ رکھا گیا۔
امریکی وزیرِ جنگ کا کہنا تھا کہ امریکا بھرپور طاقت کے ساتھ ایران میں حملے کر رہا ہے۔ ایرانی فوج کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور وہ مایوسی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز ایران میں 200 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، امریکا کے پاس مزید آپشنز بھی موجود ہیں، جب کہ ایران کے پاس اب محدود آپشنز رہ گئے ہیں۔
انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران معاہدہ نہیں کرتا تو امریکا مزید سخت فیصلے کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں، تاہم ایران کو دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاہدہ کرنا ہوگا۔
پیٹ ہیگسِتھ نے کہا کہ آنے والے دن جنگ کے حوالے سے فیصلہ کُن ہوں گے اور ایران اب زیادہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی نئی قیادت کو پہلے سے زیادہ سمجھ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اس موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی سپلائی چین کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور بنانے کا عمل جاری ہے۔






