جنگی کشیدگی میں پاکستان کا بجٹ

جنگی کشیدگی میں پاکستان کا بجٹ
تحریر : شکیل سلاوٹ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات براہِ راست ان ممالک تک پہنچ رہے ہیں جو توانائی کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتے ہیں، اور پاکستان ان میں سرِفہرست ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ہے، یہ عالمی حالات حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ دنیا کے تیل کے ذخائر کا مرکز ہے، اور خلیجی ممالک سے بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ جب اس خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلا اور فوری اثر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھا دیتا ہے۔ زیادہ ڈالر خرچ ہونے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو بڑھتا ہے، جبکہ تجارتی خسارہ بھی وسیع ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے درآمدی اشیاء مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا معاشی چکر ہے جو مہنگائی کو مسلسل بڑھاتا ہے اور عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے۔
مہنگائی کا مسئلہ پاکستان میں پہلے ہی ایک سنگین شکل اختیار کر چکا ہے، اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے یہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھاتا ہے، جس کا اثر خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء پر پڑتا ہے۔ یوں ایک عام شہری کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے اور متوسط طبقہ شدید دبا کا شکار ہو جاتا ہے۔
ایسے حالات میں حکومت کو آئندہ بجٹ تیار کرنا ہے، جو بظاہر ایک نہایت مشکل کام دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ریونیو بڑھانا ہے، جبکہ دوسری طرف عوام کو مہنگائی سے ریلیف بھی دینا ہے۔ اس کے علاوہ مالیاتی خسارے کو کنٹرول میں رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ مزید قرضوں کا بوجھ نہ بڑھے۔ یہ تمام اہداف بیک وقت حاصل کرنا ایک پیچیدہ چیلنج ہے، خاص طور پر موجودہ عالمی حالات میں۔ پاکستان اس وقت بین الاقوامی مانیٹرنگ فنڈ کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت حکومت کو سخت مالیاتی اصلاحات نافذ کرنا ہوتی ہیں ۔ ان اصلاحات میں سبسڈی میں کمی، ٹیکس نیٹ کا پھیلائو اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ بجٹ میں حکومت کے پاس عوامی ریلیف دینے کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے، جبکہ ٹیکسوں میں اضافے اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ممکنہ طور پر حکومت سیلز ٹیکس میں اضافہ، پٹرولیم لیوی میں اضافہ اور نئے ٹیکسز کے نفاذ جیسے اقدامات کر سکتی ہے تاکہ ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے۔ اسی طرح بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں خسارے کو کم کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ اقدامات مالیاتی نظم و ضبط کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کا براہِ راست اثر عوام پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔دوسری جانب، حکومت پر یہ دبا بھی ہوگا کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرے اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ریلیف فراہم کرے۔
گزشتہ کئی بجٹوں میں پینشن والے بزرگوں کو صرف دس فیصد کا ہی اضافہ دیا جاتا رہا ہے، جو کہ مہنگائی کے حساب سے بہت کم تھا۔ تاہم، محدود وسائل کے باعث اس بار یہ ریلیف شاید بہت زیادہ نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والا بجٹ ایک ’’ سخت بجٹ‘‘ کے طور پر سامنے آ سکتا ہے، جس میں عوام کو فوری ریلیف کم اور مالیاتی استحکام پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔کاروباری اور صنعتی شعبہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوگا۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ٹیکسوں کا بوجھ صنعتی لاگت کو بڑھا دے گا، جس سے پیداوار اور برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر، جو پاکستان کی برآمدات کا اہم ستون ہے، اس دبائو کو شدت سے محسوس کرے گا۔ اگر صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے تو اس کا اثر روزگار پر بھی پڑے گا، اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ طویل المدتی اصلاحات پر توجہ دے۔ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس نظام میں شفافیت بھی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت ان شعبوں میں سنجیدہ اقدامات کرے تو نہ صرف موجودہ بحران کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
عرب دنیا میں جاری کشیدگی نے پاکستان کے لیے معاشی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آنے والا بجٹ نہ صرف ایک مالیاتی منصوبہ ہوگا بلکہ ایک ایسا امتحان بھی ہوگا جس میں حکومت کی پالیسی سازی، معاشی بصیرت اور عوامی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے کی صلاحیت کا امتحان لیا جائے گا۔ اگر دانشمندانہ فیصلے کیے گئے تو پاکستان اس مشکل مرحلے سے نکل سکتا ہے، بصورت دیگر معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔





