ColumnQadir Khan

مفاہمت کا دھندلا سراب: پاک، افغان تعطل کا جائزہ

مفاہمت کا دھندلا سراب: پاک، افغان تعطل کا جائزہ

قادر خان یوسف زئی

بارود کی بو میں لپٹی پاک افغان سرحد پر جب عید الفطر کا چاند طلوع ہونے کو ہے، تو اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار سے ایک عارضی جنگ بندی کی نوید سنائی دی ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا یہ بیان کہ پاکستان نے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے، ایک طرف سفارتی کشادہ دلی کی جھلک دکھاتا ہے تو دوسری جانب خطے کے سلگتے ہوئے حقائق پر ایک گہرا سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتا ہے۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے پیر کی رات تک کا یہ محدود وقفہ، محض بندوقوں کی وقتی خاموشی نہیں ہے، بلکہ ان رشتوں کی بحالی کی ایک موہوم سی امید ہے جو دہائیوں کی بدگمانیوں، جغرافیائی تنائو اور سرحد پار کی دراندازیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

کابل اور اسلام آباد کے درمیان یہ کیسی خلیج ہے جو کسی پل پاٹے نہیں پٹ رہی؟ کلمہ پڑھنے والے، ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرنے والے، جب ایک دوسرے کے سینوں میں گولیاں اتارتے ہیں تو کیا آسمان نہیں کانپتا؟ حالات کے اس نہج پر پہنچنے کا دکھ اس وقت اور بھی گہرا ہو جاتا ہے جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں جن ماں کے لال افغان رجیم کی بے ثمر جنگ میں خاک و خون میں نہلا دیے گئے، ان کی عید کیسی ہوگی؟ افغان وزیرِ داخلہ کا جوابی حملے کا انتباہ اور ادھر سے پاکستانی وزیر کا یہ دوٹوک پیغام کہ کسی بھی ڈرون یا دہشت گرد حملے کی صورت میں کارروائیاں پوری شدت سے دوبارہ شروع کر دی جائیں گی، اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ یہ وقتی امن کتنا کچا اور کتنی باریک ڈور سے بندھا ہوا ہے۔ دونوں جانب کی یہ کڑواہٹ ان گہرے زخموں کی نشاندہی کرتی ہے جنہیں بھرنے کے لیے محض ایک عارضی جنگ بندی کافی نہیں۔ لیکن کیا محض دھمکیوں اور طاقت کے زور پر دل جیتے جا سکتے ہیں؟ اسلامی شعائر اور اقدار ہمیں کیا سکھاتی ہیں؟ عید الفطر تو روزوں کی ریاضت کے بعد اللہ کی طرف سے انعام کا دن ہے۔ یہ معاف کرنے، گلے ملنے اور پرانی رنجشیں بھلا دینے کا تہوار ہے۔ اسلام آباد کا یہ کہنا کہ یہ فیصلہ ’’ نیک تمنائوں اور اسلامی روایات کے عملی اظہار‘‘ کے طور پر کیا گیا ہے، ایک خوش آئند قدم ضرور ہے، لیکن کیا اسے صرف ایک عارضی حکمت عملی یا سفارتی دبا تک محدود رہنا چاہیے؟ قطعا نہیں۔ اس عبوری وقفے کو محض چند گھنٹوں کی مہلت نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی امن کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔ مسلم ممالک کو، بالخصوص ان عالمی طاقتوں کو جنہوں نے اس ثالثی میں کردار ادا کیا، یہ احساس کرنا ہوگا کہ امتِ مسلمہ کا خون اب مزید ارزاں نہیں ہونا چاہیے۔

خطے کی سیاست آج ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ افغانستان میں کئی دہائیوں کی جنگ اور خونریزی کے بعد جب عبوری حکومت آئی، تو پاکستان کی بجا طور پر یہ توقع تھی کہ اب افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ مگر کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کی کارروائیوں نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی وہ فضا قائم کی جس کا انجام سرحد پار حملوں کی صورت میں نکلا۔ تاہم، طاقت کا استعمال کبھی بھی حتمی اور پائیدار حل نہیں ہوتا۔ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ جیسی اہم اسلامی طاقتوں کا اس معاملے میں سفارتی سطح پر کودنا اور فریقین کو تحمل کا مشورہ دینا اس امرکی واضح دلیل ہے کہ مسلم امہ اب باہمی تنازعات سے تھک چکی ہے۔ یہ وقت ہے کہ اس عارضی مہلت کو غنیمت جان کر ان بنیادی مسائل کا ادراک کیا جائے جو اس خطے کے عوام کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

آج جب غزہ میں مائوں کی گودیں اجڑ رہی ہیں، جب مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سسک رہی ہے، ایران جنونیوں کے نشانے پر ہے۔ مسلم امہ منقسم ہے، اور دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کا عفریت سر اٹھا رہا ہے، ایسے میں دو اہم ترین اور ہمسایہ اسلامی ممالک کا آپس میں الجھنا کسی عظیم المیے سے کم نہیں۔ دشمن طاقتیں تو ہمیشہ سے یہی چاہتی ہیں کہ مسلمان آپس میں دست و گریبان رہیں تاکہ ان کی توجہ اپنے اصل مسائل سے ہٹی رہے۔ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ غربت، افلاس، جہالت، اور معاشی بدحالی،یہ وہ اصل اور سفاک دشمن ہیں جن کے خلاف کابل اور اسلام آباد دونوں کو مل کر اعلانِ جنگ کرنا تھا۔ بدقسمتی سے، ہم نے اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، سرحدوں پر بارود بچھانے اور الزام تراشیوں میں صرف کر دی ہیں۔ پاکستان کے عوام ہوں یا افغانستان کے، دونوں نے دہائیوں تک دہشت گردی کا عفریت بھگتا ہے۔ ان مظلوم عوام کی آنکھوں میں دیکھیں تو ان میں سفارتی چالوں اور جیو پولیٹیکل گیمز سے زیادہ دو وقت کی روٹی، اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل اور ایک پرامن رات کی تڑپ نظر آتی ہے۔ کیا کابل اور اسلام آباد کے حکمران، عید کے اس پرمسرت موقع پر، ان عوام کو مستقل امن کی نوید کا تحفہ نہیں دے سکتے؟

جذباتی اور تند و تیز بیانات سے وقتی تالیاں تو بجوائی جا سکتی ہیں، خبروں کی شہ سرخیاں تو بنائی جا سکتی ہیں، مگر تاریخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو اپنی انا کی تسکین یا وقتی سیاسی مفادات کے لیے قوموں کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔ افغان قیادت کو بھی پوری بردباری سے یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا استحکام خود افغانستان کے مفاد میں ہے۔ اگر پاکستان میں عدم استحکام کی آگ لگے گی تو اس کی تپش سے کابل بھی ہرگز محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہ جو چند روز کا سفارتی اور عسکری وقفہ ملا ہے، اسے محض بندوقوں کی صفائی اور مزید گولہ بارود جمع کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بلکہ اسے سفارت کاری کے ان دروازوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے استعمال کیا جائے جن پر کافی عرصے سے غلط فہمیوں اور بداعتمادی کا زنگ لگ چکا ہے۔ شعائر اسلامی کی پاسداری کا اصل تقاضا یہی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے خون کے محافظ بنیں۔ اگر ہم نے اس عارضی مہلت کو ایک حقیقی امن عمل میں تبدیل نہ کیا تو پیر کی درمیانی شب گزرتے ہی پھر سے وہی بارود کی بو، وہی سائرن کی آوازیں اور وہی ماتم ہو گا۔

عید کا چاند جب آسمان پر مسکراتا ہے تو وہ سرحد کے دونوں اطراف یکساں روشنی اور کرنیں بکھیرتا ہے۔ وہ یہ تفریق نہیں کرتا کہ یہ کابل کی فضا ہے یا اسلام آباد کی۔ قدرت کے اس خاموش، لطیف اور گہرے پیغام کو سمجھنے کی شدید ضرورت ہے۔ مسلم امہ کو درپیش موجودہ عالمی چیلنجز کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندرونی خلفشار کو ختم کریں۔ اسلامی اقدار کا احترام صرف عید کے چند دنوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے ہماری خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کا مستقل اور اٹوٹ محور ہونا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button