میڈیااور کانٹینٹ کریئیٹرز کی ذمہ داریاں

میڈیا اور کانٹینٹ کریئیٹرز کی ذمہ داریاں
امتیاز احمد شاد
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے، جہاں چند لمحوں میں کوئی بھی ویڈیو، تصویر یا بیان لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عام سا واقعہ قومی بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ یہ پلیٹ فارمز جہاں اظہارِ رائے کی آزادی اور معلومات کی تیز تر رسائی کا ذریعہ ہیں، وہیں یہ معاشرتی اقدار، اخلاقی حدود اور اجتماعی شعور کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ثابت ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہم نے بارہا دیکھا کہ کسی جوڑے کا متنازعہ انٹرویو، غیر مناسب حرکات و سکنات پر مبنی ویڈیو یا نجی زندگی کے پہلوئوں کو نمایاں کرنے والا مواد وائرل ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کوئی ویڈیو کتنی وائرل ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس سے ہمارے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ہم بحیثیت قوم کس سمت جا رہے ہیں۔
معاشرے کی اصلاح کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم مسئلے کی جڑ کو سمجھیں۔ سوشل میڈیا نے شہرت کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ اب شہرت کے لیے نہ برسوں کی محنت درکار ہے اور نہ ہی کسی خاص میدان میں مہارت؛ اکثر اوقات متنازعہ یا چونکا دینے والا مواد ہی لوگوں کو چند گھنٹوں میں مشہور کر دیتا ہے۔ یہی رجحان نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتا ہے کہ توجہ حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کردار، علم، اخلاق یا خدمتِ خلق ضروری نہیں، بلکہ کوئی غیر معمولی یا غیر روایتی حرکت کافی ہے۔ جب معاشرے میں عزت اور شہرت کا معیار بدلنے لگے تو اقدار بھی بتدریج تبدیل ہو جاتی ہیں، اور یہی تبدیلی اصلاح کے بجائے بگاڑ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر معاشرے کی اپنی تہذیبی اور اخلاقی بنیادیں ہوتی ہیں۔ ہمارا معاشرہ خاندانی نظام، حیا، باہمی احترام اور بزرگوں کی عزت جیسے اصولوں پر قائم ہے۔ جب سوشل میڈیا پر ایسا مواد عام ہو جاتا ہے جو ان اصولوں کے منافی ہو، تو صرف ایک ویڈیو نہیں پھیلتی بلکہ ایک سوچ بھی پھیلتی ہے۔ نوجوان ذہن، جو ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہوتے ہیں، وہ اس مواد سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر بار بار ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں جن میں سنجیدگی کی جگہ سطحیت، شائستگی کی جگہ شوخی اور وقار کی جگہ نمائش کو اہمیت دی جائے، تو آہستہ آہستہ یہی چیز معمول بن جاتی ہے۔ معاشرتی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہم اس معمول کو چیلنج کریں اور مثبت اقدار کو دوبارہ مرکزیت دیں۔
اصلاح کا مطلب صرف تنقید کرنا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کسی بھی وائرل واقعے کے بعد دو انتہائیں سامنے آتی ہیں: ایک طرف شدید غصہ، گالم گلوچ اور کردار کشی؛ دوسری طرف اندھی حمایت اور ہر عمل کو ذاتی آزادی کا نام دے دینا۔ دونوں رویے نقصان دہ ہیں۔ اصلاح کا راستہ اعتدال سے گزرتا ہے۔ اگر کوئی مواد واقعی معاشرتی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اس پر مہذب انداز میں تنقید ہونی چاہیے، دلائل کے ساتھ بات کی جائے، اور یہ واضح کیا جائے کہ ہمیں کس چیز پر اعتراض ہے اور کیوں۔ اسی طرح اگر کوئی معاملہ قانونی اور اخلاقی حدود کے اندر ہے مگر محض روایتی سوچ سے مختلف ہے، تو ہمیں برداشت اور مکالمے کی راہ اپنانی چاہیے۔ معاشرہ نہ تو صرف سختی سے چلتا ہے اور نہ ہی مکمل آزادی سے؛ بلکہ توازن سے آگے بڑھتا ہے۔
میڈیا اور کانٹینٹ کریئیٹرز کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ جو افراد انٹرویوز کرتے ہیں یا وائرل مواد تیار کرتے ہیں، انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ ان کا کام صرف ویوز اور لائکس حاصل کرنا نہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل بھی ہے۔ ہر سوال، ہر کلپ اور ہر عنوان کسی نہ کسی سوچ کو تقویت دیتا ہے۔ اگر مقصد صرف سنسنی پھیلانا ہو تو وقتی فائدہ تو ہو سکتا ہے، لیکن طویل المدتی طور پر معاشرے میں سطحی پن بڑھتا ہے۔ اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے، ذاتی زندگیوں کو بلا ضرورت اچھالنے سے گریز کرے، اور ایسے موضوعات کو ترجیح دے جو تعلیم، صحت، ہنر، کردار سازی اور قومی ترقی سے متعلق ہوں۔
خاندان بھی معاشرتی اصلاح کا بنیادی ستون ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں سے کھل کر بات کریں، انہیں سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوئوں سے آگاہ کریں، اور خود بھی اپنے عمل سے مثال قائم کریں تو بہت سی خرابیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔ محض پابندیاں لگا دینا کافی نہیں؛ رہنمائی اور اعتماد کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ جب نوجوانوں کو گھر میں عزت، توجہ اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع ملیں گے تو وہ سستی شہرت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دیں گے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی ڈیجیٹل اخلاقیات کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ طلبہ یہ سیکھ سکیں کہ آن لائن دنیا میں ذمہ داری کے ساتھ کیسے برتائو کیا جاتا ہے۔
معاشرتی اصلاح کا ایک پہلو قانونی اور پالیسی سطح پر بھی ہے۔ اگر کوئی مواد واضح طور پر غیر اخلاقی، توہین آمیز یا کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے والا ہو تو اس کے لیے مناسب قانونی کارروائی کا نظام موجود ہونا چاہیے۔ تاہم قانون کا استعمال بھی انصاف اور توازن کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ آزادیِ اظہار پر کوئی قدغن نہ آئے۔ اصل اصلاح دلوں اور ذہنوں کی تبدیلی سے آتی ہے، محض سزا سے نہیں۔ اس لیے قانون کے ساتھ ساتھ آگاہی مہمات، سیمینارز اور عوامی مباحثے بھی ضروری ہیں جن میں معاشرتی اقدار اور جدید تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
ہمیں بطور صارف بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اکثر اوقات کوئی متنازعہ ویڈیو صرف اس لیے وائرل ہوتی ہے کہ ہم اسے دیکھتے ہیں، شیئر کرتے ہیں اور اس پر تبصرے کرتے ہیں۔ اگر ہم منفی مواد کو نظر انداز کرنا شروع کر دیں اور مثبت، تعمیری اور معلوماتی مواد کو فروغ دیں تو سوشل میڈیا کا رخ خود بخود بدل سکتا ہے۔ الگورتھم وہی دکھاتا ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں؛ اس لیے ہماری ترجیحات ہی دراصل آن لائن ماحول کو تشکیل دیتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں اپنی آن لائن عادات کا جائزہ لینا ہوگا۔
اصلاحِ معاشرہ کا عمل فوری نہیں ہوتا۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں فرد، خاندان، تعلیمی ادارے، میڈیا، مذہبی و سماجی رہنما اور ریاست سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وائرل واقعہ دراصل ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ اگر ہم صرف دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے رہیں اور اپنی ذمہ داری قبول نہ کریں تو تبدیلی ممکن نہیں۔ ہمیں اپنی گفتگو میں شائستگی، اپنے عمل میں دیانت اور اپنے فیصلوں میں حکمت پیدا کرنی ہوگی۔
ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں آزادی اور ذمہ داری ساتھ ساتھ چلیں، جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے مگر اخلاقی حدود کا بھی احترام ہو، اور جہاں شہرت کا معیار کردار اور خدمت ہو نہ کہ سنسنی اور نمائش۔ سوشل میڈیا کو مکمل طور پر برا کہنا درست نہیں، کیونکہ یہی پلیٹ فارم خیر کے بی شمار کاموں، تعلیمی مہمات اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس طاقتور ذریعہ ابلاغ کو مثبت سمت میں استعمال کریں۔ اگر ہم نے سنجیدگی سے اپنے رویّوں کا جائزہ لیا، نوجوان نسل کی رہنمائی کی، اور ذمہ دارانہ اظہار کو فروغ دیا تو یقیناً ہم ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو اخلاقی طور پر مضبوط، فکری طور پر بالغ اور تہذیبی طور پر باوقار ہو۔







