Column

ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لینے کا عزم

ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لینے کا عزم
پاکستان کی سلامتی اور افغانستان کی سرزمین سے دراندازی کے الزامات کے تناظر میں سینیٹ میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری کا بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے بلکہ ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، جیسا دوٹوک موقف دراصل اس بڑھتی ہوئی بے چینی اور عوامی اضطراب کی عکاسی کرتا ہے، جو حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پورے ملک میں پایا جاتا ہے۔ ریاست کا بنیادی فریضہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے اور جب ریاستی اداروں پر مسلسل حملے ہوں تو ردِعمل ناگزیر ہوجاتا ہے۔ تاہم اس ردِعمل کی نوعیت، دائرہ کار اور سفارتی نتائج پر سنجیدہ غور بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ وزیرِ پارلیمانی امور نے سینیٹ میں یہ تصدیق کی کہ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور یہ کارروائیاں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئیں۔ سرکاری دعوے کے مطابق ان حملوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ترلائی، بنوں اور باجوڑ سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں اور افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہورہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا ہو۔ ماضی میں بھی مختلف ادوار میں کابل حکومت کو شواہد فراہم کرنے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی پیشکش کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ افغان حکومت، جس کی قیادت طالبان حکومت افغانستان کے پاس ہے، پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری جانب افغان حکام اکثر ایسے الزامات کی تردید کرتے اور اسے دوطرفہ اعتماد کی کمی قرار دیتے ہیں۔ یہی باہمی بداعتمادی خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کرتی ہے۔پاکستان کی جانب سے یہ کہنا کہ اگر افغانستان سرحد کی دوسری طرف موجود شدت پسندوں کو ہٹانے کی ضمانت دے تو مالی تعاون بھی ممکن ہے، ایک اہم سفارتی اشارہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد محض عسکری حل نہیں بلکہ کسی ضمانت شدہ انتظام کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسی ضمانت عملی طور پر ممکن ہے؟ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ، معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ ایسے میں وہاں کی حکومت کی عمل داری اور کنٹرول کی حقیقی سطح بھی زیر بحث رہتی ہے۔ ریاستی خودمختاری بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ کسی بھی ملک کی سرزمین پر عسکری کارروائی سنگین سفارتی نتائج کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً جب دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود ہو۔ پاکستان کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ فوری عسکری کامیابی طویل المدتی استحکام کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اگر سرحد پار کارروائیاں معمول بن گئیں تو اس سے خطے میں ایک خطرناک مثال قائم ہوسکتی ہے، جس کے اثرات وسیع تر علاقائی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب، یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادتوں نے قومی سطح پر غم و غصے کی فضا پیدا کی ہے۔ ایسے میں حکومت پر دبائو بڑھتا ہے کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کرے۔ ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، جیسا بیان اسی عوامی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ مگر جذباتی بیانات اور پائیدار پالیسی میں فرق ہوتا ہے۔ ایک ذمے دار ریاست کو جذبات کے بجائے جامع حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ جامع حکمت عملی کے چند بنیادی ستون ہوسکتے ہیں۔ اول، سرحدی نگرانی اور باڑ بندی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے دراندازی کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔ دوم، داخلی سطح پر کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک، مالی معاونت اور سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ دہشت گردی صرف سرحد پار مسئلہ نہیں، اس کی جڑیں بعض اوقات داخلی کمزوریوں سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ سوم، سفارتی محاذ کو فعال رکھنا ناگزیر ہے۔ افغانستان کے ساتھ براہِ راست بات چیت، علاقائی فورمز میں معاملہ اٹھانا اور عالمی برادری کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے ٹھوس شواہد عالمی سطح پر پیش کیے جائیں تاکہ دبائو موثر ہو۔ چہارم، قبائلی اور سرحدی علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی پر توجہ دینا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک مقامی آبادی کو تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جاتیں، شدت پسند عناصر کو جگہ ملتی رہے گی۔ ریاستی رٹ صرف فوجی کارروائی سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف طویل اور مہنگی جنگ لڑچکا ہے۔ ہزاروں جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اس کی قیمت رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ ہمسایہ ملک اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کا سخت موقف وقتی طور پر داخلی سطح پر اعتماد بحال کر سکتا ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب دہشت گردی کے واقعات میں حقیقی اور مستقل کمی آئے۔ اگر انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائیاں موثر ثابت ہوتی ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، لیکن اس کے ساتھ سفارتی، معاشی اور داخلی اصلاحات کا پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر امن یک طرفہ نہیں ہوسکتا۔ سرحد کے دونوں جانب سنجیدہ اور ذمے دارانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ’’ ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ’’ لینے کا عزم اپنی جگہ، مگر اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ آئندہ کسی شہید کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ ریاست کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کرے جہاں تعمیر و ترقی کی بات ہو۔
معیشت پر قرضوں کا بڑھتا بوجھ
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ بڑھتے ہوئے قرضے، بلند سودی ادائیگیاں اور ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے۔ اگرچہ حکومت وقتی استحکام کے دعوے کر رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ معیشت کی موجودہ کیفیت اس امر کی متقاضی ہے کہ جذباتی بیانات کے بجائے ٹھوس اور دیرپا اصلاحات کی طرف بڑھا جائے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کے قریب ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سودی ادائیگیاں حکومتی ٹیکس آمدن سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست جو ٹیکس اکٹھا کر رہی ہے، اس کا بڑا حصہ صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے، ترقیاتی منصوبوں یا عوامی فلاح پر نہیں۔ ایسی صورتحال کسی بھی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ پاکستان ماضی میں بارہا عالمی مالیاتی فنڈ، یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پاس جا چکا ہے۔ ہر پروگرام کے تحت وقتی مالی سہارا تو مل جاتا ہے، مگر بنیادی ڈھانچہ جاتی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ ٹیکس نیٹ کی کمزوری، اخراجات میں بے ضابطگی اور ریاستی اداروں کے نقصانات مستقل مسائل بن چکے ہیں۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں نئی فنانسنگ سے بڑھ جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ قرض کا چکر مزید تیز ہو رہا ہے۔ گزشتہ دو بجٹ میں ٹیکسوں کے اضافے نے کاروباری ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صنعتوں پر اضافی بوجھ سے پیداواری لاگت بڑھی، منافع کم ہوا اور کئی چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور ہنرمند افراد کا بیرون ملک جانا معیشت کے لیے طویل المدتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ٹیکس پالیسی کا مقصد محصولات بڑھانا ضرور ہونا چاہیے، مگر اس انداز میں نہیں کہ معاشی سرگرمی ہی سکڑ جائے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حل صرف نئے ٹیکس لگانے میں نہیں بلکہ نظام کو سادہ اور منصفانہ بنانے میں ہے۔ کم شرح مگر وسیع بنیاد والا ٹیکس نظام زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ غیر ضروری چھوٹ اور استثنیٰ ختم کر کے محصولات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ سرکاری اخراجات میں کمی، خسارے میں چلنے والے ریاستی اداروں کی شفاف نجکاری اور مالی نظم و ضبط ناگزیر ہیں۔ پاکستان کو درآمدی قرضوں کے سہارے چلنے والی معیشت سے نکل کر پیداواری اور برآمدی بنیادوں پر استوار معیشت کی طرف جانا ہوگا۔ مقامی سطح پر تیار کردہ جامع اصلاحات، سیاسی استحکام اور پالیسی کا تسلسل ہی پائیدار ترقی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ بصورت دیگر قرضوں کا یہ بوجھ آنے والی نسلوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button