Column

قومی سلامتی، عسکری تیاری اور علاقائی تعاون

قومی سلامتی، عسکری
تیاری اور علاقائی تعاون
پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اندرونی و بیرونی سلامتی کے چیلنجز بیک وقت توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایسے میں مسلح افواج کا کردار محض دفاعی نہیں بلکہ قومی استحکام، علاقائی امن اور ریاستی خودمختاری کے تحفظ کی علامت بن چکا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ بیانات، دورہ لاہور گیریژن اور بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات اسی قومی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ لاہور گیریژن کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاک فوج کی آپریشنل تیاری، تربیتی معیار اور جنگی صلاحیت میں اضافے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ امر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاک فوج بدلتے ہوئے جنگی ماحول، جدید ٹیکنالوجی اور ہائبرڈ خطرات سے مکمل طور پر باخبر ہے۔ خصوصی فیلڈ ٹریننگ مشق میں جدید ٹیکنالوجیز کے عملی مظاہرے نے واضح کر دیا کہ پاک فوج مستقبل کی جنگوں کے تقاضوں کے مطابق خود کو مسلسل ڈھال رہی ہے۔ یہ پیشہ ورانہ تیاری نہ صرف دفاعی طاقت میں اضافے کا ذریعہ ہے بلکہ دشمن کو واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ فیلڈ مارشل کا قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا اعادہ دراصل ریاستی عزم کی تجدید ہے۔ پاکستان کو درپیش خطرات اب روایتی جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ دہشت گردی، انتہا پسندی، سائبر وارفیئر اور علاقائی عدم استحکام جیسے پیچیدہ چیلنجز بھی شامل ہیں۔ ایسے میں زیرو ٹالرنس کا موقف اس بات کی ضمانت ہے کہ ریاست کسی بھی قسم کے خطرے، چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی، کے خلاف پوری قوت سے نمٹے گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ موقف قوم کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور مسلح افواج کے مورال میں اضافے کا باعث ہے۔ لاہور گیریژن کی دورے میں فوجی جوانوں کے لیے کھیلوں اور تفریحی سہولتوں کا معائنہ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ جدید افواج میں صرف ہتھیار اور تربیت ہی نہیں بلکہ جوانوں کی جسمانی فٹنس، ذہنی سکون اور مجموعی فلاح و بہبود کو بھی کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ پاک فوج کی قیادت کا اس پہلو پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی وسائل کو فوجی طاقت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کی مثال بھی سمجھی جاتی ہے۔ اسی دورے کے دوران سی ایم ایچ لاہور کے ہائی کیئر سینٹر کا معائنہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ایسے مراکز کا قیام اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ فوج اپنے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی صحت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ ایک مضبوط فوج وہی ہوتی ہے جو اپنے سپاہیوں کی جان، صحت اور وقار کا تحفظ یقینی بنائے۔ اس اقدام سے نہ صرف فوجی اہلکاروں کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ ادارے اور فرد کے درمیان مضبوط تعلق بھی قائم ہوتا ہے۔ دوسری جانب، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی ملاقات علاقائی سفارت کاری اور دفاعی تعاون کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں امن و استحکام کا انحصار باہمی اعتماد، مکالمے اور عسکری تعاون پر ہے۔ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کے ساتھ دفاعی تعلقات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس ملاقات میں دو طرفہ دفاعی تعاون، تربیتی تبادلے اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں تصادم کے بجائے تعاون کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ علاقائی سلامتی کے تناظر میں پاکستان کا کردار ہمیشہ ذمے دارانہ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود پاکستان نے خطے میں امن کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر کوششیں جاری رکھی ہیں۔ بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف دراصل عالمی سطح پر پاک فوج کی ساکھ کا ثبوت ہے۔ یہ اعتراف نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ اس بات کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ علاقائی ممالک پاکستان کو ایک ذمے دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دفاعی تعلقات کا فروغ خطے میں طاقت کے توازن اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تربیتی تبادلے، مشترکہ مشقیں اور عسکری مکالمہ نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ غلط فہمیوں کے امکانات کو بھی کم کرتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بنگلادیش کے ساتھ دیرپا اور مضبوط دفاعی تعلقات کے عزم کا اعادہ اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کو عدم استحکام کے بجائے تعاون کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لاہور گیریژن کا دورہ اور بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات پاکستان کی دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی کے دو اہم پہلوئوں کو اجاگر کرتی ہے۔ ایک طرف اندرونی طور پر پاک فوج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، جدید تربیت اور جوانوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دے رہی ہے، تو دوسری جانب بیرونی محاذ پر علاقائی تعاون اور امن کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اور علاقائی شراکت داری کا امتزاج ہی پاکستان کو درپیش موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کا موثر جواب ہے۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ سفارت کاری، امن اور استحکام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے اور یہی اعتماد پاکستان کے مضبوط، محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔
پی ایس ایل: دو نئی ٹیموں کی شمولیت
پاکستان سپر لیگ ( (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت کا عمل کامیابی سے مکمل ہونا نہ صرف پاکستانی کرکٹ بلکہ قومی معیشت اور اسپورٹس انڈسٹری کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ ساتویں اور آٹھویں فرنچائز کی ریکارڈ نیلامی نے یہ ثابت کر دیا کہ پی ایس ایل ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور سرمایہ کار دوست برانڈ بن چکی ہے۔ اسلام آباد جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی میں مختلف کاروباری گروپس کی بھرپور دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ایس ایل کی مارکیٹ ویلیو مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ساتویں فرنچائز کو ایف کے ایس گروپ کی جانب سے 175کروڑ روپے میں خریدنا اور آٹھویں فرنچائز کو اوزیڈ ڈیولپرز کی جانب سے 185کروڑ روپے کی ریکارڈ بولی پر حاصل کرنا لیگ پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ خصوصاً آٹھویں ٹیم کی ریکارڈ قیمت نے پی ایس ایل کو خطے کی بڑی اسپورٹس لیگز میں شامل کردیا ہے۔ نئی فرنچائزز کے ناموں کا اعلان بھی خوش آئند ہے۔ ساتویں ٹیم کا نام حیدرآباد اور آٹھویں ٹیم کا نام سیالکوٹ رکھنا ان شہروں کو قومی کرکٹ کے نقشے پر مزید نمایاں کرے گا۔ اس سے نہ صرف مقامی ٹیلنٹ کو سامنے آنے کے مواقع ملیں گے بلکہ ان شہروں میں کرکٹ سرگرمیوں، اسپورٹس انفرا اسٹرکچر اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ پی ایس ایل پہلے ہی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوچکا اور نئی ٹیموں کی شمولیت سے مواقع مزید بڑھیں گے۔ نیلامی کے دوران بولی کے عمل میں جس پیشہ ورانہ انداز اور شفافیت کا مظاہرہ کیا گیا، وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی بہتر انتظامی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن رضا نقوی کی قیادت میں پی ایس ایل ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے جہاں نہ صرف لیگ کا مالی ڈھانچہ مضبوط ہورہا ہے بلکہ اس کا عالمی امیج بھی بہتر ہورہا ہے۔ نیلامی کے موقع پر رائزنگ اسٹار ایشیا کپ اور ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیموں کو انعامی رقوم دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پی سی بی ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور کارکردگی کے اعتراف پر یقین رکھتا ہے۔ پی ایس ایل کی توسیع سے پاکستان میں اسپورٹس انٹرٹینمنٹ، روزگار کے مواقع اور اسپورٹس ٹورازم کو بھی فروغ ملے گا۔ براڈکاسٹنگ، مارکیٹنگ، اسپانسر شپ اور دیگر شعبوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ یہ تمام عوامل قومی معیشت کے لیے مثبت اثرات مرتب کریں گے اور پاکستان کا نرم تشخص عالمی سطح پر مزید مضبوط ہوگا۔ مجموعی طور پر پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی کامیاب نیلامی اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی کرکٹ درست سمت میں گامزن ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد، انتظامی بہتری اور عوامی دلچسپی مل کر پی ایس ایل کو مستقبل میں ایک اور مضبوط، کامیاب اور عالمی معیار کی لیگ بنانے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button