Column

دنیامیں ثالثی کے بعد اب گھر کی فکر بھی کیجیے 

دنیا میں ثالثی کے بعد اب گھر کی فکر بھی کیجیے

تحریر : رفیع صحرائی

تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جو قوموں کی شناخت بدل دیتے ہیں اور بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو برسوں تک یاد رکھے جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست اور دشمن کا کوئی تصور نہیں ہوتا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ امریکہ اور ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف اور حریف رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کو مسلسل خطرات سے دوچار رکھا۔

ایسے ماحول میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھولنے، مذاکرات کی فضا پیدا کرنے اور ایک معاہدے تک پہنچانے میں کوئی موثر کردار ادا کیا ہے تو یہ یقیناً پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور قابلِ تحسین بات ہے۔ عالمی میڈیا، سفارتی حلقوں اور بین الاقوامی مبصرین کی نظریں آج پاکستان کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ امریکی صدر، نائب صدر اور ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سفارتی اور عسکری بصیرت کے چرچے ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو جس انداز میں اجاگر کیا، اس نے ملک کے وقار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں۔ اگر دو ایسے ممالک جو دہائیوں سے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہے ہوں، مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اب بھی بات چیت، تدبر اور مصالحت کی سیاست زندہ ہے۔ جنگیں تباہی لاتی ہیں جبکہ مذاکرات زندگی اور امید کا پیغام دیتے ہیں۔

مگر اس کامیابی کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی جنم لیتا ہے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر دو متحارب طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، تو پھر اپنے ہی ملک کے اندر سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کیوں ناکام دکھائی دیتا ہے؟ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطہ ممکن ہے تو پھر پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمہ کیوں نہیں ہو سکتا؟

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی انتشار ہے۔ دہشت گردی کی نئی لہر، معاشی بحران، بے یقینی کی فضا، سرمایہ کاری میں کمی، مہنگائی کا طوفان اور عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی سب اسی سیاسی عدم استحکام کی پیداوار ہیں۔ جب سیاسی قیادت ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو ملک دشمن عناصر کو سازشوں کا موقع مل جاتا ہے۔ دشمن ہماری سرحدوں سے کم اور ہماری کمزوریوں سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

آج متوسط طبقہ پس رہا ہے، غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، نوجوان بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا ہیں اور مہنگائی روز نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ دوسری طرف سیاسی اشرافیہ اپنے اپنے بیانیوں، احتجاجوں، دھمکیوں اور اقتدار کی کشمکش میں الجھی ہوئی ہے۔ حکمران بیرونی دوروں اور عالمی سفارت کاری میں مصروف ہیں جبکہ اپوزیشن اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ایسے میں عوام کے مسائل کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ امر بھی حقیقت ہے کہ مضبوط معیشت اور مستحکم جمہوریت کے بغیر کوئی ملک عالمی کامیابیوں کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دنیا میں عزت کمانا اچھی بات ہے، لیکن اس عزت کو داخلی استحکام سے جوڑنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اگر ملک کے اندر سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہے گا تو خارجہ محاذ پر حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی اپنی افادیت کھو بیٹھیں گی۔

قومی ڈائیلاگ وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ذاتی انا اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور عوام کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ سیاسی قیدیوں، سیاسی مقدمات، انتخابی اصلاحات اور جمہوری روایات سمیت تمام معاملات پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن دشمنی جمہوریت کی موت ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ سنگین بحران آئے لیکن سیاست دانوں نے کسی نہ کسی صورت میں راستہ نکال لیا۔ سیاست کا حسن ہی یہی ہے کہ بند گلی میں بھی راستہ تلاش کر لیا جاتا ہے۔ ہماری سیاست اتنی بانجھ تو کبھی نہ تھی کہ چند قدم چلنے کے بعد مکالمے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے۔

آج جب پوری دنیا پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کی معترف ہے، جب عالمی سطح پر پاکستان کا نام عزت سے لیا جا رہا ہے، جب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے، تو یہی وقت ہے کہ اس قومی اعتماد کو اندرونِ ملک استحکام میں تبدیل کیا جائے۔ بہت ہو چکی دنیا کی ثالثی، اب اپنے گھر کی فکر بھی کیجیے۔ اگر امریکہ اور ایران بات کر سکتے ہیں تو پاکستانی سیاسی جماعتیں کیوں نہیں؟

پاکستان کو اس وقت کسی نئے محاذِ آرائی کی نہیں بلکہ نئے میثاقِ مفاہمت کی ضرورت ہے۔ قوم کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ سیاست دان اور قومی قیادت ایک میز پر بیٹھیں، اختلافات کو بات چیت سے حل کریں اور اس ملک کو سیاسی کشمکش، معاشی بدحالی اور انتشار کے اندھیروں سے نکال کر استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی کی راہ پر گامزن کریں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی پاکستان کی بقا کی ضمانت بھی۔

جواب دیں

Back to top button