تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کرلیا

امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کے تنازع کو حل کرنے کے لیے منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی حملوں اور مفاہمت کی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی پر ایران نے اتوار کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

Axios کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران نے باہمی طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق، ’ہم نے تمام قسم کی عسکری کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

ایک دوسرے امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں فریق ’فی الحال‘ کشیدگی کم رکھنے پر متفق ہیں اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت جاری رہے گی، جبکہ تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ بھی برقرار رہے گا

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اگلا اہم اجلاس منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگا، جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق باقی ماندہ اختلافات پر بات چیت کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کو صرف گیارہ روز ہوئے ہیں، تاہم حالیہ فضائی حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کے بعد جنگ بندی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی ’مفاہمتی یادداشت (MoU)‘کی مختلف تشریحات تھیں، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق شقوں پر دونوں فریق مختلف مؤقف رکھتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران نے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی کوشش کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ اس کے بدلے امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دی تھی۔

گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد اور ایرانی حکام کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو مربوط رکھنے کے لیے امریکی فوج اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے درمیان ایک براہِ راست ہاٹ لائن قائم کی جائے گی۔

تاہم ہفتے تک یہ ہاٹ لائن فعال نہیں ہوسکی تھی، جبکہ ایران نے ایک بار پھر دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اس سے پہلے ایرانی حکام سے رابطہ کرنا ہوگا

جواب دیں

Back to top button