شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا

اداریہ۔۔۔
شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا
کراچی میں پاکستان رینجرز ( سندھ) کے کیمپ پر ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا، ایک زخمی حملہ آور کو گرفتار کیا اور کیمپ کو بڑے نقصان سے بچالیا، لیکن اس کارروائی میں وطن کے تین بہادر سپوتوں کی شہادت پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہماری سیکیورٹی فورسز ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ گزشتہ روز اس حملے میں شہید ہونے والوں بہادر سپوتوں کی نماز جنازہ کراچی میں ادا کی گئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دہشت گردی کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔ اس کا مقصد صرف جانوں کا نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنا، عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور ملکی استحکام کو نقصان پہنچانا بھی ہوتا ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑرہا ہے۔ اس دوران ہماری افواج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جوانوں اور شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں، تاکہ آنے والی نسلیں امن کی فضا میں زندگی گزار سکیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورکس کو کمزور کیا گیا، مگر حالیہ حملہ اس امر کا ثبوت ہے کہ دشمن عناصر اب بھی پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاستی اداروں کی جانب سے یہ مقف سامنے آیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے دہشت گرد ملوث ہیں۔ دہشت گردی کو کسی بھی شکل میں سیاسی یا تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے اور دہشت گردی کے خلاف ہر ملک کے جائز اقدامات کی حمایت کرے۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم، آرمی چیف، وفاقی وزیر داخلہ اور دیگر قومی قیادت کی جانب سے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی کے معاملی پر پوری ریاست ایک صفحے پر کھڑی ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس حملے کے ذمے دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کارروائی قانون، قومی مفاد اور بین الاقوامی ذمے داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے تاکہ پاکستان کا موقف مزید مضبوط ہو اور دنیا کے سامنے اس کی ساکھ برقرار رہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مضبوط انٹیلی جنس نظام، جدید ٹیکنالوجی، موثر بارڈر مینجمنٹ، قومی اتحاد اور عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور نفرت پر مبنی پروپیگنڈے کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی جاری رکھیں۔ اسی طرح عوام کی بھی ذمے داری ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں اور افواہوں یا غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلا سے گریز کریں، کیونکہ اطلاعاتی جنگ بھی دہشت گردی کے خلاف اس جدوجہد کا ایک اہم محاذ ہے۔ پاکستان کی سلامتی صرف سرحدوں کے دفاع کا نام نہیں بلکہ قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی سے بھی وابستہ ہے۔ دشمن عناصر کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے خوف، انتشار اور تقسیم پیدا کی جائے، مگر قوم نے ماضی میں بھی ثابت کیا ہے کہ ایسے ہر چیلنج کے مقابلے میں وہ اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے اور یہی دہشت گردوں کی سب سے بڑی شکست بھی۔یہ وقت جذبات سے زیادہ تدبر، عزم اور قومی اتفاقِ رائے کا ہے۔ شہداء کی قربانیوں کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پوری سنجیدگی سے جاری رکھا جائے، سیکیورٹی اداروں کو ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائیں اور ایسے تمام عناصر کی خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے جو پاکستان کے امن، ترقی اور استحکام کے دشمن ہیں۔ ایک مضبوط، پُرامن اور مستحکم پاکستان ہی ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں کا بہترین اعتراف ہوگا جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے، لیکن اس عزم میں کبھی کمی نہیں آئی۔ آج بھی قوم اس یقین کے ساتھ اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی ملک کے روشن، محفوظ اور خوش حال مستقبل کی ضمانت ہے۔ شہداء کی قربانیاں یقیناً رائیگاں نہیں جائیں گی اور پاکستان ہر اس قوت کے خلاف پوری طاقت اور قانونی جواز کے ساتھ کھڑا رہے گا، جو اس کی سلامتی، خودمختاری اور امن کو چیلنج کرنے کی کوشش کرے گی۔
شذرہ۔۔۔
بھارت: اقلیتوں پر سنگین قدغنیں
بھارت کو اقلیتوں کے لیے جہنم قرار دیا جارہا ہے۔ مودی دور میں اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ سلوک کے ڈھیروں واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اس وقت مسلمان خاص نشانے پر ہیں۔ بھارت میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف ریاستوں میں مساجد، مدارس، درگاہوں اور عیدگاہوں کو گرانے کے واقعات نے مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اگرچہ بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں تجاوزات کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کے تحت قانونی تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہیں، تاہم انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے ان اقدامات کے طریقہ کار، شفافیت اور متاثرہ فریقوں کو مناسب قانونی موقع نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت اس کے آئین، قانون کی یکساں عملداری اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ہوتی ہے۔ اگر کسی مذہبی یا نسلی گروہ کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے تو اس سے نہ صرف سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ریاستی اداروں پر اعتماد بھی کمزور پڑتا ہے۔ بھارت جیسے کثیرالمذاہب ملک میں مذہبی رواداری اور باہمی احترام قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ مسلمان بھارت کی ایک بڑی آبادی ہیں اور ملک کی تاریخ، تہذیب اور تعمیر و ترقی میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ایسے میں ان کی عبادت گاہوں سے متعلق بار بار سامنے آنے والی خبریں فطری طور پر تشویش پیدا کرتی ہیں۔ اگر کسی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر قانون کا اطلاق ہر شہری اور ہر مذہبی گروہ پر یکساں ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ کے معاملے میں یکساں معیار اپنائیں اور جہاں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے خدشات موجود ہوں وہاں غیر جانبدارانہ نگرانی اور موثر آواز بلند کریں۔ عبادت گاہیں صرف عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے عقیدے اور شناخت کی علامت ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں قانون، انصاف، شفافیت اور مذہبی احترام کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے تمام شہریوں کے حقوق کی بلاامتیاز حفاظت کرے اور مذہبی آزادی کو اپنے جمہوری تشخص کا بنیادی ستون بنائے۔







