Columnمحمد مبشر انوار

بدلتے پینترے

بدلتے پینترے
تحریر : محمد مبشر انوار (ریاض)

قارئین کرام گزشتہ تحریر بعنوان ’’ اسرائیل کا مستقبل‘‘ ان الفاظ پر ختم کیا تھا کہ’’ اس جنگ کے پس پردہ،اسرائیل نے اپنی ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح خلیجی ممالک بھی اس جنگ کا حصہ بن جائیں لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام رہا البتہ اسرائیل نے اس جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ،اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو جاری رکھا اور جب سب نظریں ایران پر مرکوز تھی،لبنان کا محاذ کھول لیا۔ اسرائیل نے لبنانی محاذ پر ،شدید جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے،اس کا جنوبی علاقہ ہتھیا لیااور وہاں تقریبا دس لاکھ افراد کو بے گھر کیا اور چار ہزار شہریوں کو شہید کیا،جوابی کارروائی میں لبنانی فوج بوجوہ،اپنی ریاست کا کماحقہ دفاع نہیں کر پائی لیکن حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت ضرور دکھائی۔ دوسری طرف امریکہ و ایران کے درمیان چالیس روزہ جنگ کے بعد،معاملات تھم گئے اور مذاکرات کی گردان شروع ہوئی، جس کے متعلق ایران اول روز سے ہی تمام محاذوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا رہا ،جس میں لبنان سمیت غزہ بھی شامل تھا مگر امریکہ پر اسرائیلی اثر اس قدر زیادہ ہے کہ امریکہ اس دوران اسرائیل کو لبنان میں جارحیت سے بھی نہیں روک پایا حتی کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہو چکے مگر اسرائیل اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آیا، بہرحال اب کارروائیوں کی شدت میں کمی آ چکی ہے اور اسرائیلی میڈیا یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اب اسرائیل پر امریکی دباؤ کام کر گیا ہے کہ نیتن یاہو نے نہ صرف حملے روکنے کا کہا ہے بلکہ اب جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء پر بھی بات ہو رہی ہے، جس پر تاحال اسرائیلی مزاحمت جاری ہے۔ فروری سے شروع ہونی والی یہ جنگ،ایران کو عالمی سطح پر ایک فاتح کی حیثیت دلوا چکی ہے تو امریکہ و اسرائیل کو شرمناک شکست کا داغ ماتھے پر سجا چکی ہے، حال ہی میں اسرائیلی اخبار کے ایک سروے نے اس کی تصدیق بھی کی ہے کہ جس میں اسرائیلی شہریوں سے اسرائیل کے مستقبل سے متعلق سوال پوچھا گیا کہ ان کی نظر میں اسرائیل کا مستقبل کیا ہے،جس پر بانوے فیصدی ،اسرائیل کے مستقبل سے ناامید دکھائی دئیے ،ان کے نزدیک مشکلوں سے بنی اسرائیلی ریاست کا وجود اب انتہائی مخدوش ہو چکا ہے،جس کا ذمہ دار نیتن یاہو اور اس کی غلط پالیسیاں ہیں۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ کل تک جب نیتن یاہو کی من مرضی اور خواہشات کے مطابق معاملات چل رہے تھے،اسرائیلی انتہا پسندوں کو اس سے کوئی مسئلہ دکھائی نہیں دیتا تھا،البتہ ناکامی سب کچھ چھین لیتی ہے،یہی صورتحال اس وقت نیتن یاہو اور اسرائیلی شہریوں کی ہے‘‘۔ تاہم حالات وواقعات اس قدر تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا،کل تک صورتحال ہی تھی کہ اسرائیلی میڈیا یہ واویلا کررہا تھا کہ امریکہ پر ایرانی دبائو کام کرگیا ہے اور اسرائیل کو پسپائی اختیار کرنا پڑے گی، جس کا نتیجہ گریٹر اسرائیل خواب کا چکنا چور ہونا ہے تو دوسری طرف نیتن یاہو کو بھی متوقع انتخابات میں صرف ناکامی ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف مقدمات کی کارروائی بھی شروع ہو تی اور نیتن یاہو کو اس میں سخت ترین سزائین بھی ملتی لیکن پل پل بدلتی صورتحال،مستقبل میں کیا کرے گی،حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ماسوائے چند اندازوں کے،جو پیش کر دئیے جاتے ہیں۔ اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعدبھی اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے تھا مگر امریکی سخت سرزنش کے باعث ،نیتن یاہو کو حملے روکنے کا اعلان کرناپڑا جبکہ دوسری طرف نیتن یاہو کی کابینہ کے اراکان،ازخود یا نیتن یاہو کے اکسانے پر،اس پر فی الوقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا بہرحال،ان اراکین نے براہ راست امریکہ کے خلاف لائن لی اور یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل کو’’ ایسے امریکہ ‘‘ کی ضرورت نہیں یعنی ’’ اس شاخ کو کاٹنے کا اعلان کیا ،جس شاخ پر اسرائیلی بیٹھے ہیں‘‘،ایسی حرکت کی توقع اسرائیل سے ہی کی جا سکتی ہے ۔
بہرحال یہاں بھی ایک اہم ،ضروری اور برمحل حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ کیا واقعی یہ اسرائیل کا اپنا اقدام ہے یا اس کے پس پردہ بھی کہیں امریکی لائحہ عمل تو نہیں کہ ایک طرف دنیا کو دکھانے کے لئے، اسرائیل پر دباؤ ڈالا جارہا ہو اور دوسری طرف اسرائیل کو آنکھ مار دی گئی ہو کہ ان ہدایات کے خلاف کھڑے ہو جا؟ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اس کا متحمل ہو سکتا ہے؟کیا اس طرز عمل سے عالمی سطح پر امریکی ساکھ دائو پر نہیں لگے گی؟حقیقت یہی ہے کہ امریکہ بالعموم اقوام عالم میں دہرے کردار کے ساتھ ہی بروئے کار آتا ہے کہ اس کی آشیر باد بیک وقت دونوں دھڑوں پر رہتی ہے لیکن اسرائیلی مفادات کے تحفظ میں امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اس کا اظہار ماضی میں بارہا ہو چکا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی برمحل ہے کہ کہ نہ صرف ثالثین بلکہ باقی دنیا بھی فی الوقت خوش دکھائی دیتی ہے کہ فوری طور پر تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹل چکا ہے لیکن کیا واقعی تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے؟ میری ذاتی رائے میں یہ خوش گمانی تو ہو سکتی ہے مگر حقیقت نہیں کہ جس مشکل میں امریکہ اس وقت ہے اور جیسے اس کی طنابیں بذریعہ ایبسٹین فائلز،اسرائیل کے ہاتھوں میں ہیں،امریکہ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس طرح آسانی سے اس کھیل سے نکل سکے گو کہ فی الوقت امریکہ یہی چاہتا ہے کہ کسی طرح بھی اس جنگ کو روکا جائے،اس جنگ سے نکلا جائے لیکن مستقلا اس سے نکلنا،مجھے ہضم نہیںہو رہا۔ اس کی کئی دیگر وجوہات میں سے ایک تو انتہائی واضح یہ بھی ہے کہ امریکہ کے روابط ایک بار پھر بھارت سے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ،کل تک معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد،جو طعنے بھارت کے حصہ میں آتے تھے،اب ان میں نہ صرف کمی دکھائی دے رہی ہے بلکہ ایک بار پھر بھارت کو تھپکی دی جارہی ہے،اور یہ تھپکی کس مقصد کے لئے دی جارہی ہے، یہ بھی واضح نظر آرہا ہے۔ بھارت آپریشن سیندور کی سبکی مٹانے کی خواہش دل میں جگائے بیٹھا ہے مگر اس مرتبہ اس کی سمت ،اسرائیل اور ایک خلیجی ریاست جو اسرائیلی حلیف بن کر سامنے آئی ہے،جس کے توسیع پسندانہ عزائم بھی ،بہرحال حالات و واقعات کے پس منظر میں اسرائیلی شہ دکھائی دیتے ہیں،کے ساتھ مل کرپاکستان کی مغربی سرحدوں کو نہ صرف مسلسل الجھائے رکھنا ہے بلکہ اس سمت سے پاکستان کی داخلی امن و امان کی صورتحال کو اتھل پتھل کرنا بھی ہے۔ آپ سوچیں گے کہ اسرائیل کی بات کرتے کرتے،اچانک پاکستان کی صورتحال کس طرح زیر بحث آ گئی ہے تو یوں نظر آتا ہے کہ ایک طرف امریکہ فی الوقت اس جنگ سے نکلے گا مگر دوسری طرف اسرائیل کو فری ہینڈ دے کر،یہاں کے معاملات کو مسلسل الجھائے رکھنا بھی نیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ اس دوران جو نقصان و کمی امریکہ کو اپنے اسلحہ میں ہو چکی ہے،اس دوران اس نقصان اور کمی کو پورا کر لے جبکہ اپنے دشمن کو بہرطور مسلسل جنگ میں الجھا کر،اس کے ذخیرے کم کرتا رہے۔ اب اٹھائیس فروری کے حملے کو ذہن میں لائیں اور ایرانی ردعمل کو بھی ذہن میں لائیں تو کڑیاں مل جاتی ہیں کہ ابتداء میں ایران یکدم مفلوج سا ہو گیا تھا لیکن پھر اچانک ایران میں ایسی توانائی بھر گئی کہ ایران نے امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دئیے،اس کے پس منظر میں چین و روس کا کردار کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا جبکہ پاکستان پہلے دن سے ہی اپنے ریاستی مفادات کے تحت اس جنگ کے خلاف تھا اور مفاہمتی یادداشت و فریم ورک معاہدے تک کے عمل میں پاکستانی کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ ممکنہ طور پر پاکستان اس سے بھی زیادہ کردار ادا کرسکتا اگر پاکستان کا فوکس پڑوسی کی شرارتوں کے باعث منتشر نہ ہوتابہرحال معاملات ایسے دکھائی دیتے ہیں کہ اب فوری طور پر امریکہ پس منظر میں جانے کو ترجیح دے گا اور اگر اسرائیل اپنی جارحیت جاری رکھتا ہے تو اسرائیل ایران کے نشانہ پر ہوگا اور ایران کے شانہ بشانہ پاکستان و چین و روس بھی ہوں گے لہذا بھارت کی ضرورت تو محسوس ہو گی لیکن کیا بھارت ان توقعات پر پورا اتر سکے گا کہ ماضی میں بھارت ایسی توقعات پر پورا نہیں اتر پایابہرحال جنگوں میں پینترے ایسے ہی بدلے جاتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button