Column

دوحہ کی اہمیت

دوحہ کی اہمیت
صورتحال
سیدہ عنبرین
امریکی صدر گزشتہ چار ماہ میں جتنے بے اعتبارے ہوئے ہیں ایسا بے وقار کوئی امریکی صدر کبھی نہیں ہوا، وہ آج جو کچھ کہہ رہے ہیں ضروری نہیں کل اس پر قائم رہیں، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے گزرے کل جو کہا وہ آج اس پر قائم نہیں۔ سو روزہ جاری جنگ میں وہ یہی کچھ کرتے نظر آئے، اس تغیر اور تبدل کو اگر دو فقروں میں بیان کیا جائے تو کچھ یوں ہے کہ ٹرمپ اپنی عظیم الشان شکست کے بعد جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیلی کمبل ان کی جان چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔
اسرائیل خوب جانتا ہے کہ اگر امریکہ حقیقی معنوں میں جنگ سے نکل گیا تو پھر ایران ایک ہفتے میں اسے نگل جائے گا۔ اسرائیل تن تنہا ایران سے نہیں لڑ سکتا، اس نے جنگ میں جو واحد سبق سیکھا ہے وہ یہی ہے۔ امریکہ کے جنگ سے نکلنے کے بعد ایران کے راستے میں جو پہلا ملک اسرائیل کے دفاع کیلئے آئے گا وہ اردن ہو سکتا ہے، جہاں ایرانی ڈرون اور میزائلوں سے محفوظ رہنے کا نظام نصب ہے، اس نظام کے ایران نے پرخچے اڑا دیئے تھے، یہی نظام بحرین اور دیگر امریکی فوجی اڈوں پر موجود تھا، جو اب کہیں بھی کارآمد نہیں رہا۔ اردن چوبیس نہیں تو اڑتالیس گھنٹوں سے زیادہ مزاحمت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اردن نے فلسطینیوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے کیلئے ماضی بعید میں کامیاب آپریشن کئے تھے لیکن یہ نصف صدی قبل کی بات ہے۔ اب جنگ کا میدان بہت بدل چکا ہے، اس کے ساتھ ساتھ جنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی وہ نہیں جو نصف صدی قبل تھا۔ اردن کی طرف سے نیوٹرل رہنے کا اعلان یوں بھی جلد ہو گا کہ وہ اپنے دفاعی شہری اور سماجی انفراسٹرکچر کی تباہی برداشت نہیں کر سکتا، جو صرف آٹھ بیلاسٹک میزائلوں کے گرنے سے ہو جائے گی۔ اس کے بعد اسرائیل براہ راست ایرانی بیلاسٹک اور ہائی سپرسونک میزائلوں کی زد پر آ جائے گا۔ امریکہ نے ایک بہانہ تلاش کیا اور ایران پر یلغار کر دی، اس فیصلے کے پیچھے بھی اسرائیلی وزیراعظم نظر آتے ہیں، جو امریکہ کو ایک مرتبہ پھر ختم ہوتی جنگ میں کھینچ لائے ہیں۔ اسرائیل کی دوسری طرف موجود اسلامی ملک اب اسرائیل کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جیسے وہ اس جنگ سے پہلے اسرائیل کے معاون بنے تھے۔ بیشتر اسلامی ملکوں میں بالخصوص عرب و خلیج میں امریکی اڈے اب شاید زیادہ فعال کردار ادا نہ کر سکیں۔ ان ممالک کی حکومتوں اور ان کے سربراہوں کو خوب علم ہو چکا ہے کہ امریکہ ان کی حفاظت میں کبھی مخلص نہ تھا، یہ تمام فوجی اڈے اور دفاعی انفرا سٹرکچر دراصل اسرائیل کی حفاظت کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ بحرین کے بڑے فوجی اور بحری اڈے کی تباہی کے بعد وہاں کا کچھ بچ رہنے والا سازو سامان اب کسی قدرے محفوظ جگہ منتقل کیا جا رہا ہے، وہاں موجود افرادی قوت بھی اب کہیں اور بھیجی جا رہی ہے۔ اس سے ملتی جلتی کیفیت اور اس کیفیت کے پیچھے وہی سوچ ہے کہ اب ایران ان تمام اڈوں کو مستقل بنیادوں پر مانیٹر کرتا رہے گا اور انہیں طاقت کا ایسا مظہر نہیں بننے دے گا جہاں سے اس پر حملے کئے جا سکیں۔
حالیہ امریکی حملوں سے قبل آبنائے ہرمز کھلی تھی، یہاں سے اوسطاً سو کے قریب مختلف تجارتی جہاز اور آئل ٹینکر گزر رہے تھے، لیکن اب اسے ایران نے تین روز کیلئے مکمل بند کر دیا ہے۔ غالباً ان ایام میں وہاں امریکی بمباری سے ہونے والے نقصان کے جائزے کے بعد اس علاقے کے دفاع کو مزید مضبوط بنا دیا جائے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کی عقل پر پتھر پڑ گئے ہیں، ان کی طرف سے کیا گیا ہر فیصلہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے نقصان میں، جبکہ ایران کے فائدے میں جا رہا ہے۔ امریکی حملوں سے قبل آبنائے ہرمز کھلی تھی، دنیا بھر کے بحری جہاز یہاں سے بنا کوئی ٹیکس ادا کئے گزر رہے تھے۔ ٹرمپ جارحیت نے دنیا سے یہ سہولت چھین لی، جبکہ ایران اب یہاں سے مرضی کے مطابق ٹیکس وصول کرے گا، اور اپنی اقتصادی حالت کو تیزی سے بہتر بنائے گا۔ امریکہ کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز سے باہر کر دے، اگر ایسا نہیں کر سکتا تو کم از کم اسے مجبور کر دے کہ وہ امریکہ کو اس میں حصہ داری دینے پر تیار ہو جائے۔ امریکہ نے ایران کو اس حوالے ایک جوائنٹ ونچر کی پیشکش کی تھی، جیسے ایران نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ہم ایران کی ایک ایک انچ زمین کو مقدس سمجھتے ہیں، ہر ایرانی اس کی حفاظت کیلئے کٹ مرے گا، لیکن کسی استعماری طاقت کو یہاں قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ ایران نے جو کہا وہ وعدہ پورا کر دکھایا، اس نے اپنی زمین کو لہو سے سینچا ہے۔ امریکہ نے ایک منصوبے کے تحت ایران کو عالمی فٹبال کپ سے باہر کر کے اس میں اپنی تسکین ڈھونڈی ہے۔ ایران نے مصر کے خلاف میچ دو، ایک سے جیت لیا تھا، لیکن ایک ایرانی کھلاڑی کا گول آف سائیڈ قرار دے دیا گیا۔ یوں ایران کو ایک پوائنٹ کا نقصان ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی حکام کی جنگ بندی کوششوں کا ماضی میں یہ مُل ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیفا کے صدر سے کہیں گے کہ کسی بھی ٹیم کو نکال کر پاکستان کی فٹبال ٹیم کو عالمی کپ میں ایڈجسٹ کریں۔ پاکستان نے اپنے آپ کو اس ’’ منہ کالا‘‘ اقدام سے محفوظ رکھا ورنہ دنیا کہتی ’’ چہ ارزاں فروختن‘‘۔ اب فیفا کی انتظامیہ نے ٹرمپ کی خوشنودی کی خاطر ایران کو عالمی فٹبال سے تو باہر کر دیا ہے لیکن فیفا امریکہ کو آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں دلا سکتا، یہاں سے امریکہ یا اس کے کسی بھی حواری کا جو بھی جہاز گزرے گا وہ ٹیکس ادا کر کے ہی گزرے گا، بصورت دیگر ٹیکس بھی دے گا اور جوتے بھی کھائے گا، جو ٹرمپ اور نیتن یاہو تمام دنیا سے روزانہ کی بنیاد پر کھا رہے ہیں۔
ایران کے شہید سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی ایک روز کیلئے کربلا لے جانے کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ یہ فیصلہ عراقی عوام کی خواہش کے احترام میں کیا گیا، تاکہ وہ بھی اپنے محبوب راہنما کا آخری دیدار کر سکیں۔ بڑی تعداد میں عراقی عوام ان کے دیدار کیلئے ایران آنا چاہتے تھے، لیکن کون پہنچ پاتا، کون رہ جاتا۔ ایرانی حکومت نے ایک بڑی مشکل حل کر دی۔
امریکہ ایک مرتبہ پھر قطر کے پائوں چھوتے ہوئے اس سے درخواست کر رہا ہے کہ ایرانی قیادت کو مذاکرات کیلئے دوحہ لے آئے۔ دوحہ کی اہمیت کم نہیں ہوئی، مجھے پاکستان کی فکر ہے، ہمارا کیا بنے گا؟۔

جواب دیں

Back to top button