ColumnKashif Bashir Khan

علامہ اقبالؒ کااحترام لازم ہے … کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان
یہ 2010 کی بات ہے کہ مجھے عوامی شاعر حبیب جالب مرحوم کے صاحبزادے ناصر جالب مرحوم کا فون آیا۔لاہور میں جب بھی حبیب جالب مرحوم کی برسی کی بڑی تقریب منعقد کی جاتی ناصر جالب مرحوم مجھے بطور مقرر بلایا کرتے اور ان تقریب میں حبیب جالب کے کلام اور مختلف جابر حکمرانوں کے خلاف قلم اور عملی جدو جہد پر بات کی جاتی تھی بلکہ سب بھی کی جاتی ہے۔خیر انہوں نے مجھے فون پر کہا کہ حبیب جالب نے تمام زندگی جو جرأت مندانہ جدو جہد کی ،اس کا منبع عوام تھے اور وہ تمام ان طبقات کے خلاف لکھتے اور بولتے رہے جو عوام کا استحصال کرتے چلے آ رہے تھے اور ان کی زبان اور قلم ہمیشہ ہی ایک برہنہ تلوار کی مانند نظر آتی تھی لیکن کچھ عرصہ سے کچھ ایسے سیاسی رہنما ان کے انقلابی کلام کو اپنے سیاسی جلسوں میں پڑھتے دکھائی دے رہے ہیں جن کے خلاف حبیب جالب نے یہ کلام لکھااور گایاتھا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ حبیب جالب کا لازوال’’میں نہیں مانتا ‘‘کلام پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلیٰ اپنے ہر جلسے اور تقریب میں پڑھا کرتے تھے۔ یعنی کمال کی بات نہیں کہ جن طبقات کے خلاف یہ کلام لکھا گیا اور مزاحمتی جلسوں جلوسوں میں پڑھاجاتا تھا وہی اشرافیہ کا طبقہ اب یہ کلام اپنے سیاسی اور حکومتی مفادات کے لیے پڑھ رہا تھا۔ ناصر جالب مرحوم اس ادا پر نہایت سیخ پا تھے اور انہوں نے مجھے سے کہا کہ حبیب جالب جیسے انقلابی کے کلام کی بے ادبی پر میں ضرور لکھوں اور اپنےپروگراموں میں بولوں۔
ان کے بعد حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ نے بھی مجھے عوام کے حقوق پامال کرنے والوں اور عوامی حقوق نہ ماننے والوں کی جانب سے’’میں نہیں مانتا‘‘کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے پر احتجاج کرنے کی درخواست کی تھی بلکہ انہوں نے تو نہایت غصے میں میڈیا پر اس کے خلاف بیانات بھی دیئے اور حبیب جالب کے کلام کی اپنے مفادات کے لیے استعمال کر کے اس کا مفہوم تبدیل کرنے کی مسلسل کوشش پر غم و غصہ کا اظہارکیاتھا۔لکھنے کامقصدہے کہ حبیب جالب، فیض احمد فیض اور منیر نیازی جیسے شاعر جو عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے عوام کا اثاثہ تھے اور ہیں لیکن جب عوام کا استحصال کرنے والا طبقہ ہی جس کے خلاف یہ کلام لکھا گیا ہو، اسے اپنے سیاسی اور مالی فوائد کے لیے استعمال کرتا ہے، اول تو اس شاعر کے چاہنے اور ماننے والوں کا دکھ کے ساتھ غم و غصہ کا شکار ہونا لازم ہے، دوسرا یہ کسی بھی عوامی شاعر کے انقلابی کلام کے اصل لغوی معنی تبدیل کرنے کی سنگین بددیانتی کہلائے گی۔
چند یوم قبل وزیر اعظم پاکستان نے شانگلہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عظیم صوفی شاعر
ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کے ایک شعر کو تختہ مشق بنایا جس کا دنیاادب کی بے شمار اصل شخصیات نے بہت بُرا منایا، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ پچھلی صدی کے عظیم صوفی شاعر کہلاتے ہیں۔انگریزسے آزادی لینے میں علامہ اقبالؒ کے کردار کو ہندو پاک میں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،اقبالؒ کا فلسفہ خودی، فلسفہ ریاست، فلسفہ حکومت اور فلسفی اقتدار اعلیٰ کے علاؤہ عوام کو نئی راہ دکھانے کے لیے جو کلام دیا وہ دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ایران، ترکی اور دنیا بھرمیں آج بھی ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کا نام قدرو عقیدت سے لیا جاتا ہے اور ان کے کلام کو دنیا بھر میں بہت اونچا مقام حاصل ہے۔ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کی زندگی کا آخری حصہ تصوف کی معراج پر مشتمل تھا اور ان کا کلام آج بھی اہلیان اسلام کے لیے مشعل راہ ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ آج ہم ڈاکٹر علامہ اقبالؒ جیسے اعلیٰ مرتبت صوفی شاعر کو پاکستان کو(جو ان کے خواب کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا)وہ عزت نہیں دے سکے۔
ہندوستان بھی ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کو آزادی کے تناظر میں بہت اعلیٰ مقام دیتا ہے لیکن ہم پاکستانیوں کا تعلق چونکہ دین اسلام سے ہے اور علامہ اقبالؒ کا تصوف اور مذہب کے تناظر میں کلام کا مقابلہ آج تک تو کوئی نہیں کر سکتا لیکن افسوسناک ترین حقیقت یہ ہے کہ 2013 سے لیکر غالباً2016 تک لاہور میں اقبالؒ کا مقبرہ بند رکھا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ زیارت میں قائد اعظمؒ کی ریزیڈنسی پر حملے کے بعد علامہ اقبالؒ
کے مزار پر بھی حملے کاخدشہ تھالیکن سالوں پر محیط یہ بندش ختم نہیں ہو رہی تھی کہ علامہ اقبالؒ کے پوتے منیب اقبال نے اعلان کر دیا کہ اگر فوری طور پر حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے مزار کو سکیورٹی مہیا کر کے نہ کھولا گیا تو وہ عدالت سے اجازت حاصل کرکے ان کے جسد خاکی کو وہاں سے نکال کر ایسے جگہ دفنا دیں گے، جہاں ان کے عقیدت مند آزادی سے آ کر فاتحہ کرسکیں۔
حضرت علامہ اقبالؒ کی ولادت کی چھٹی ختم کرنے کا الزام بھی میاں نواز شریف کی حکومت پر لگتا ہے۔پنڈی والے چودھری
نثارکی اہلیہ علامہ اقبالؒ کی بہو جسٹس ناصرہ جاوید کے بھابی کی بیٹی ہیں اور جب اقبال ڈے کی چھٹی ختم کی گئی تو اس وقت چودھری نثار وزیر داخلہ اور میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے۔ اقبالؒ کے چاہنے والوں اور فیملی نے اقبال ڈے کی چھٹی کی بحالی کے لیے بہت کوشش کی کیونکہ یہ چھٹی ختم کرنے والے تمام حلقےاس کو چودھری نثار کا کارنامہ قرار دیتے تھے۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ اپنے سسرالیوں کے ساتھ اختلافات کو اقبال ڈے کی چھٹی ختم کر کے چودھری نثار نے اپنے برتری دکھائی مگر یہ حکیم الامت کی عظمت کو کم کرنے کی ایک گھناؤنی کوشش تھی کہ اقبال ڈے پر چھٹی عظیم صوفی شاعر کو خراج تحسین کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔جہاں تک مجھے علم ہے نواز شریف کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی اور تب کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی اقبال ڈے پر چھٹی بحال کرنے کی سمری پر اہل خانہ اور اقبال کے ہزاروں چاہنے والوں کو یقین دہانی کے باوجود دستخط نہیں کئے اور اس طرح اقبال ڈے پر ڈاکٹر علامہ اقبال کے افکار تازہ کرنے کے مواقع بند کر دیئے گئے ۔
بات شروع حبیب جالب سے ہوئی اور پھر شہبازشریف کی جانب سے جلسہ عام میں 1877 میں پیدا ہونے والے حکیم الامت کا شعر یہ کہہ کر پڑھنے کی کوشش تک پہنچی کہ علامہ اقبالؒ نے یہ شعر 1857میں کہا تھا۔ان کے اس بیان سے ادبی حلقوں اور دنیا بھرمیں علامہ اقبالؒ کے عقیدت مندوں اور چاہنے والوں میں بہت بے چینی ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے بہت سے عقیدت مندوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور اکثریت کا کہنا تھا کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا ذکر طالب علموں کے نصاب سے نکالنے والے موجودہ حکمران ہیں اور اب یہ کس منہ سے علامہ اقبالؒ کے شعر اپنے جلسوں میں پڑھتے ہیںاوروہ بھی غلط ریفرنس اور تاریخوں کے ساتھ۔ آج جس قسم کی پولرائزیشن اور کڑواہٹ ملکی سیاست میںآچکی ہے ہمیں پاکستان کے قومی شاعر اور پاکستان کا خواب دیکھنے والی عظیم شخصیت ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے گریز کرنا چاہیے۔ ہم علامہ اقبالؒ کو وہ مقام اور عزت نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار تھے تو ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنے اپنے مقاصد کے لیے ان کی شاعری کا مفہوم تبدیل کر کے اسے جلسوں میں پڑھیں۔میری تو علامہ اقبالؒ کے پوتوں منیب اقبال اور سینیٹر ولید اقبال سے بھی گزارش ہے کہ وہ علامہ اقبالؒ کے کلام کے غلط استعمال پر ویسے ہی آواز اٹھائیں جیسے ماضی میںانہوں نے مقبرہ اقبالؒ بند ہونے اور اقبال ڈے کی چھٹی ختم کرنے پر اٹھائی تھی کیوں کہ جو قومیں اپنے اسلاف کو عزت و احترام نہیں دیتیں ان کا مستقبل بنجر ہوجایا کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button