تازہ ترینخبریںدنیا سے

ویانا میں ایران جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری

ان مذاکرات میں روس، چین، جرمنی، انگلینڈ، فرانس اور ایران کے اعلیٰ سطحی نمائندے شرکت کر رہے ہیں،ان مذاکرات کی صدارت یورپی یونین (EU) فارن ریلیشن سروس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور پولیٹیکل ڈائریکٹر اینریک مورا کر رہے ہیں

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے تقریباً 10 ماہ تک ہونے والے مذاکرات کے 8ویں دور میں مختصر وقفے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع   ہو گئے ہیں ان مذاکرات میں روس، چین، جرمنی، انگلینڈ، فرانس اور ایران کے اعلیٰ سطحی نمائندے شرکت کر رہے ہیں،ان مذاکرات کی صدارت یورپی یونین (EU) فارن ریلیشن سروس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور پولیٹیکل ڈائریکٹر اینریک مورا کر رہے ہیں۔

جبکہ امریکہ جو یکطرفہ طور پر 2018 میں معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا  مذاکرات میں  براہ راست حصہ نہیں لے رہا ہے جبکہ وہ فریقین کے درمیان  رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔

ایران کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مختلف فارمیٹس میں مذاکرات جاری ہیں، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (KOEP) کہا جاتا ہے، تاکہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت طے شدہ حدوں تک کم کرے، تاکہ  امریکہ معاہدے  میں شامل ہو جائے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرلے۔

مذاکرات کے فریم ورک کے اندر تشکیل پانے والے ماہر گروپ کے کام کے دوبارہ شروع ہونے کے ساتھ ہی آٹھواں دور جو کہ مذاکرات کا آخری دور سمجھا جاتا تھا، وہیں جاری رہا جہاں اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔

27 دسمبر کو شروع ہونے والے مذاکرات کے 8 ویں دور کے مختصر وقفے سے قبل 28 جنوری کو مورا نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات کو جلد مکمل کرنے کے لیے سیاسی فیصلوں کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button