قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل

ملک میں ایک بار پھر جمہوری حکومت کی مدت اقتدار اختتام پذیر ہونے پر قومی اسمبلی اور کابینہ تحلیل ہوگئی۔ اب نگراں وزیراعظم کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن رہنما کے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے، جلد نگراں وزیراعظم کا نام فائنل ہوجائے گا اور شہباز شریف وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہوجائیں گے۔ یہ تمام تر عمل اس وقت انتہائی احسن انداز میں جاری نظر آتا ہے۔ آگے بھی اسے اسی طرح پُرامن فضا میں جاری رہنا چاہیے۔ خدا کرے کہ آئندہ عام انتخابات بھی پُرامن ماحول میں ہوں اور قوم کی ووٹوں سے منتخب ہونے والے اقتدار قائم کرکے ملک و قوم کو لاحق مشکلات کے حل کے لیے کردار ادا کریں۔ ملکی معیشت کی بہتری کی خاطر راست کوششیں کریں۔ قوم کو گرانی سے نجات کے لیے کمربستہ نظر آئیں۔ ملک پر سے قرضوں کے بار کو کم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں۔ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا باعث بن سکیں۔قومی اسمبلی اور کابینہ کی تحلیل سے متعلق میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کر دئیے، جس کے بعد سمری صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دی گئی جب کہ ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 58کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی ہے۔ صدر کے دستخط کرتے ہی قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی۔ تاہم نگراں وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے۔ اسمبلی ٹوٹنے کی صورت میں آئین کے تحت 90روز میں انتخابات کرانے ہوں گے۔ نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے 3 دن کا وقت ہے۔ نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے اور کمیٹی تین دن کے اندر نگراں وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی۔ کمیٹی کے نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس جائے گا اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگراں وزیراعظم کا اعلان کرے گا۔ ادھر سینیٹ نے آئندہ انتخابات وقت پر کرانے کی قرارداد منظور کرلی۔ بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں ایک قرارداد سینیٹر مشتاق احمد نے پیش کی، قرارداد میں کہا گیا کہ مقررہ وقت کے اندر انتخابات کا انعقاد لازم ہے، نگراں حکومت صرف عبوری مدت کے لیے روزمرہ کے فیصلے کرسکتی ہے۔ قرارداد کے مطابق الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ انتخابات کا انعقاد مقررہ وقت کے اندر کرایا جائے، انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا استحقاق نہیں، بلکہ اس کا آئینی فریضہ ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ آئینی طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن آئین اور قانون کی رو کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اس کے بارے میں کہنا درست نہیں کہ وہ بروقت الیکشن نہیں کروائے گا، ہمیں شک و شبہات سے بچنا ہوگا، ہمیں بدگمانی نہیں کرنی چاہیے۔ دوسری طرف مجلس شوریٰ ( پارلیمنٹ) کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان نے مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 8فروری 2023کو طلب کیا تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ شہباز شریف کی سربراہی میں جب اتحادی حکومت قائم ہوئی تھی تو ملکی معیشت کی صورت حال انتہائی دگرگوں تھی۔ ملک چاروں طرف سے مسائل میں بُری طرح گِھرا ہوا تھا۔ ارض پاک ڈیفالٹ کے دھانے پر پہنچی ہوئی تھی۔ کاروبار تباہ ہوچکے تھے جب کہ عوام کی حالتِ زار ناگفتہ بہ تھی۔ شہباز شریف حکومت نے ملک کو مسائل سے نکالنے کا بیڑا اُٹھایا اور 15ماہ کی مختصر مدت میں چند بڑے اقدامات کیے، جن کے ثمرات آئندہ وقتوں میں ظاہر ہوں گے اور اس کا فائدہ ملک و قوم کو پہنچے گا۔ روس سے سستے تیل کی درآمد کا معاہدہ بڑا سنگِ میل تھا، جسے موجودہ اتحادی حکومت نے اپنے تدبر، دُوراندیشی اور عمدہ وژن کی بدولت عبور کیا۔ روس، ترکمانستان اور دیگر ممالک سے سستی ایل پی جی اور ایل این جی کی درآمد کے معاہدات کیے۔ دوست ممالک، جن کو سابق حکومت نے ناراض کر دیا تھا، اُن کو منایا اور ملک عزیز میں سرمایہ کاری پر نا صرف راضی کیا، بلکہ مشکل وقت میں چین اور سعودی عرب پاکستان کی مدد میں پیش پیش دِکھائی دئیے۔ معیشت کی بحالی کے لیے راست اقدامات کیے گئے۔ گو اس دوران مہنگائی میں ہوش رُبا اضافے دیکھنے میں آئے۔ بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور اشیاء ضروریہ کے نرخوں میں بڑا اضافہ ہوا، تاہم اتحادی حکومت کے بیشتر اقدامات ملک و قوم کے مفاد میں تھے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر معاہدہ بھی جوئے شیر لانے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔ اتحادی حکومت کے پندرہ ماہ ملک اور قوم کے حق میں بہتر قرار دئیے جائیں تو غلط نہ ہوگا۔ اب جب کہ قومی اسمبلی تحلیل اور اتحادی کابینہ ٹوٹ چکی ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض افہام و تفہیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد میں بہترین شخصیت کا بطور نگراں وزیراعظم انتخاب یقینی بنائیں گے۔ تمام معاملات احسن انداز میں انجام کو پہنچیں۔ کوئی چپقلش یا بدمزگی نہ ہو۔ دعا ہے کہ عام انتخابات پُرسکون ماحول میں ہوں، دھاندلی کا ان میں شائبہ تک نہ ہو، قوم کے منتخب کردہ لوگوں کو حکومت بنانے کا موقع ملے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ غیر جانبدار کردار ادا کرتے ہوئے عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔ ملک و قوم مزید کسی سنگین بحران یا صورت حال کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا اگلی حکومت کا ہدف ہونا چاہیے اور اس حوالے سے اُس کی پالیسیاں سودمند ثابت ہونی چاہئیں۔
ژوب میں کارروائی 3دہشت گرد جہنم واصل
پاک افواج نے 2014۔15میں آپریشن ضرب عضب اور ردُالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی۔ ان شرپسندوں کو بڑی تعداد میں جہنم واصل کیا گیا، گرفتار کیا گیا اور باقی بچے اُنہوں نے یہاں سے فرار میں ہی اپنی بہتری سمجھی۔ کچھ سال امن و امان کی صورت حال بہتر رہی۔ اب پچھلے کچھ مہینوں سے پھر سے دہشت گردی کا عفریت سر اُٹھاتا نظر آتا ہے۔ دہشت گردی کی مذموم کارروائیاں صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں متواتر جاری ہیں۔ شرپسندوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان مذموم کارروائیوں میں کئی سیکیورٹی فورسز کے جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے قلع قمع کے لیے مختلف علاقوں میں آپریشنز جاری ہیں، جن میں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں، کئی علاقوں کو دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا گیا ہے اور جو کلیئر نہیں ہوسکے ہیں، وہاں ان کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔ گزشتہ روز بھی بلوچستان میں ایک کارروائی میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 3دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ اخباری اطلاع کے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب میں کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی کرتے ہوئے 3دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ضلع ژوب کے علاقے مرغہ کبزئی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، اس دوران سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جوابی فائرنگ میں 3دہشت گرد مارے گئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2سی ٹی ڈی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، جن سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا ہے۔ پولیس نے علاقے میں مزید ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔ باجوڑ میں اسپتال کے قریب ایف سی کی گاڑی کے قریب مبینہ خودکُش دھماکے میں 5سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 6افراد زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب پنجگور کے علاقے شاہو کہن میں ایک گاڑی میں نصب بم کی اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے کر بم ڈسپوزل اسکواڈ طلب کیا، جس پر بم ڈسپوزل اسکواڈ نے تخریب کاری کے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے بم کو ناکارہ بنا دیا۔ سیکیورٹی فورسز ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے مشن پر کمربستہ ہیں۔ پہلے بھی افواج پاکستان نے ملک کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلائی تھی، اس بار بھی جلد ان آپریشنز کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹے گی۔ انہیں اسی طرح ان کی کمین گاہوں میں گھس کر اُس وقت تک مارا جاتا رہے گا، جب تک ان کا مکمل قلع قمع نہیں ہوجاتا۔ ملک میں امن و امان کی فضا جلد بحال ہوگی۔ قوم کو سیکیورٹی فورسز پر فخر ہے اور وہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔