Column

پنشنرز کے لیے گھر بیٹھے زندگی کی تصدیق

پنشنرز کے لیے گھر بیٹھے زندگی کی تصدیق
تحریر: رفیع صحرائی
کسی بزرگ شہری سے یہ پوچھنا کہ ’’ آپ زندہ ہیں؟‘‘، بظاہر ایک عجیب سا سوال محسوس ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں پنشن لینے والے بزرگوں کو ہر چھ ماہ بعد عملی طور پر یہی ثابت کرنا پڑتا رہا ہے۔
اپنی زندگی کی تصدیق کے لیے پنشنرز لائف سرٹیفکیٹ کا پرنٹ نکلواتا، اسے پُر کر کے کسی گزیٹڈ آفیسر سے تصدیق کرواتا، پھر اسے بینک میں جمع کروانے بذاتِ خود جانا پڑتا، وہاں سرٹیفکیٹ جمع کرنے کے بعد اس کی بایو میٹرک تصدیق کی جاتی تھی۔ ایک صحت مند اور جوان شخص کے لیے شاید یہ چند گھنٹوں کا کام ہو، لیکن ساٹھ، ستر یا اسی برس کے بیمار، معذور اور صاحبِ فراش پنشنر کے لیے یہ ایک تکلیف دہ مرحلہ بن جاتا تھا۔ خصوصاً معذور افراد زیادہ مشکل میں ہوتے۔ وہ ضعیف لوگ جن کے ساتھ جانے والا کوئی نہ ہوتا، انہیں بھی کافی پریشانی اٹھانا پڑتی۔
اسی پس منظر میں حکومت اور نادرا کی طرف سے Proof of Life Certificateکے جدید نظام کا اجرا ایک انتہائی قابلِ تحسین اقدام ہے۔ نادرا نے 21اگست 2026ء کو اعلان کیا کہ پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ اب مکمل طور پر مفت ہوگا اور اسے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے علاوہ نادرا رجسٹریشن مراکز، یونین کونسلز، ای سہولت فرنچائزز اور نادرا کی موبائل سروسز کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس جدید نظام کے اجرا کے موقع پر واضح کیا کہ پنشنرز کو ہر چھ ماہ بعد بینک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ گھر بیٹھے اپنی زندگی کی تصدیق کرا سکیں گے۔ یہ سہولت بالخصوص بزرگ خواتین و حضرات، معذور افراد اور ایسے پنشنرز کے لیے اہم ہے جن کے لیے سفر کرنا مشکل ہے۔
اصل خوش آئند بات یہ ہے کہ پنشنر کے لیے اب گھر سے باہر نکلنا لازمی نہیں رہا۔ اہل پنشنر پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ نادرا کے مطابق اگر کوئی پنشنر خود موبائل ایپ استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کا قریبی خونی رشتہ دار اپنے پاک آئی ڈی اکانٹ کے ذریعے مقررہ شناختی تصدیق کے عمل کے بعد اس کی مدد کر سکتا ہے۔ یہ سہولت اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمارے بیشتر پنشنرز اسمارٹ فون اور موبائل ایپلیکیشنز کے استعمال سے پوری طرح واقف نہیں۔ بعض بزرگوں کے پاس اینڈرائیڈ فون ہی نہیں ہوتا، جبکہ بعض افراد ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے باوجود بایومیٹرک مراحل خود مکمل نہیں کر سکتے۔ ایسے میں بیٹا، بیٹی یا قریبی خونی رشتہ دار کی مدد کی گنجائش ایک عملی حل ہے۔
لیکن حکومت نے صرف موبائل ایپ تک معاملہ محدود نہیں رکھا۔ نادرا کے مطابق ملک بھر میں 5ہزار سے زائد ای سہولت فرنچائزز، 988سے زائد نادرا رجسٹریشن مراکز اور قریباً 500یونین کونسلز میں بھی یہ سہولت مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ نادرا مراکز اور یونین کونسلز میں بزرگ پنشنرز کو ترجیحی بنیادوں پر سہولت دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ جو پنشنرز کسی مرکز تک آسانی سے نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے موبائل رجسٹریشن وینز، بائیکر سروس اور مین پیک سروس بھی دستیاب ہے۔
یہ تفصیل اس لیے اہم ہے کہ اس سے ایک غلط فہمی دور ہوتی ہے کہ جس بزرگ کے پاس اسمارٹ فون نہیں، وہ اس سہولت سے محروم رہ جائے گا۔ ایسا نہیں۔ ریاست نے ڈیجیٹل سہولت کے ساتھ ساتھ معاون اور زمینی سہولت کے راستے بھی کھلے رکھے ہیں۔
اس نظام کا ایک اور اہم پہلو National Pensioners Registerکا قیام ہے۔ نادرا کے مطابق پہلے مرحلے میں کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس (CGA)اور ملٹری اکانٹنٹ جنرل (MAG)کے زیر انتظام پنشنرز کو اس رجسٹر میں شامل کیا گیا ہے تاکہ پنشنر کی شناخت اور زندگی کی حیثیت کی ایک مستند ڈیجیٹل بنیاد موجود ہو۔ مستقبل میں اس نظام کو مزید پنشنرز تک وسعت دینے کا منصوبہ بھی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: جب ریاست کے پاس نادرا کا مرکزی شناختی اور بایومیٹرک نظام موجود ہے تو کیا مستقبل میں پنشنر کو بار بار مختلف اداروں کے سامنے ایک ہی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت باقی رہنی چاہیے؟ یقیناً نہیں۔ ڈیجیٹل نظام کا اصل مقصد ہی یہ ہونا چاہیے کہ ایک مرتبہ تصدیق شدہ معلومات متعلقہ اداروں تک محفوظ اور قانونی طریقے سے پہنچ جائیں اور شہری کو بار بار وہی عمل دہرانا نہ پڑے۔ حکومت نے اسی سمت میں ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ نادرا کے مطابق مجاز بینکوں کے لیے بھی ایسا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے وہ National Pensioners Register سے پنشنر کی Proof of Lifeحیثیت کی تصدیق کر سکیں گے۔ یوں کاغذی کارروائی اور غیر ضروری ذاتی حاضری میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سرکاری پنشن قواعد میں بایومیٹرک تصدیق کی سہولت پہلے سے موجود تھی۔ 2025ء کے نظرثانی شدہ پنشن قواعد کے مطابق براہِ راست کریڈٹ کے ذریعے پنشن لینے والے پنشنر کو ہر چھ ماہ بعد نادرا نظام پر بائیو میٹرک تصدیق یا مقررہ لائف سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوتا تھا۔ نئے ڈیجیٹل نظام کی اہمیت یہ ہے کہ اسی ضرورت کو زیادہ آسان اور شہری دوست انداز میں پورا کرنے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم اب اصل امتحان عمل درآمد کا ہے۔ کوئی بھی اچھی سہولت اس وقت تک کامیاب نہیں کہی جا سکتی جب تک عام شہری اسے آسانی سے استعمال نہ کر سکے۔ ضرورت ہے کہ بینکوں، نادرا مراکز، ای سہولت فرنچائزز اور پنشن دفاتر میں واضح معلوماتی پوسٹرز آویزاں کیے جائیں۔ اردو میں سادہ ہدایات جاری کی جائیں۔ ہیلپ لائن اور شکایات کے ازالے کا مثر نظام موجود ہو اور اگر کسی پنشنر کی انگلیوں کے نشانات مٹ چکے ہوں یا بایومیٹرک تصدیق میں تکنیکی مسئلہ آئے تو اسے پنشن کی بندش کے بجائے متبادل تصدیقی طریقہ فراہم کیا جائے۔
خصوصاً بزرگوں کو سائبر فراڈ سے بچانے کے لیے بھی بھرپور آگاہی ضروری ہے۔ انہیں بتایا جائے کہ کسی غیر متعلقہ شخص کو OTP، پاس ورڈ، بینک اکائونٹ یا شناختی معلومات نہ دیں۔ صرف سرکاری پاک آئی ڈی اور نادرا کے مستند مراکز استعمال کیے جائیں۔
اگر یہ نظام پوری شفافیت، سکیورٹی اور موثر نگرانی کے ساتھ نافذ ہوتا ہے تو یہ محض پنشنرز کے لیے ایک نئی سہولت نہیں بلکہ پاکستان میں شہری دوست طرزِ حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک فلاحی ریاست کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کے لیے راستہ آسان کری۔ ہمارے پنشنرز نے اپنی جوانی میں ملک کی خدمت کی ہے؛ اب بڑھاپے میں انہیں یہ احساس دلانا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ آپ کو اپنی زندگی کا ثبوت دینے کے لیے تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں، ریاست آپ کی خدمت کے لیے آپ کے گھر تک پہنچ سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button