Column

فیول ریلیف، امید کی کرن

فیول ریلیف، امید کی کرن
ملکی معیشت کے استحکام کے لیے حکومت کی جانب سے جہاں بڑے پیمانے پر معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط پر توجہ دی جا رہی ہے، وہیں عام آدمی کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم فیول ریلیف پیکج اسی سلسلے کی ایک اہم اور قابلِ تحسین پیش رفت ہے، جس کا بنیادی مقصد پٹرول کی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرکے موٹرسائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کو براہِ راست سہولت فراہم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم فیول ریلیف پیکیج کی منظوری اور اس کے لیے 75ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے مالی وسائل بھی مختص کر رہی ہے۔ منظور شدہ پیکیج کا سب سے نمایاں پہلو اس کا عام شہری تک براہِ راست پہنچنا ہے۔ موٹرسائیکل اور رکشا مالکان کو ہفتہ وار 500روپے کا فیول ریلیف دیا جائے گا جب کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو 5لٹر پٹرول پر 100روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ یہ سہولت بالخصوص ان افراد کے لیے اہم ہے جن کی روزمرہ زندگی، ملازمت، کاروبار اور آمدورفت کا بڑا انحصار موٹرسائیکل یا رکشے پر ہے۔ اسی طرح 800سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے 10 دن کے لیے ایک ہزار روپے ریلیف اور ماہانہ30لٹر پٹرول پر100روپے فی لٹر ریلیف کا فیصلہ بھی متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے لیے حوصلہ افزا اقدام ہے۔ مہنگائی کے موجودہ ماحول میں چند سو یا چند ہزار روپے کی بچت بھی گھر کے بجٹ میں نمایاں فرق پیدا کرتی ہے۔ اس پیکیج کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ فیول ریلیف کو غیر کمرشل صارفین تک محدود رکھا گیا ہے۔ ایک صارف یا مالک کو صرف ایک گاڑی کے لیے ریلیف دینے کا فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ سرکاری وسائل کا فائدہ زیادہ سے زیادہ حقیقی مستحق شہریوں تک پہنچ سکے۔ اس طرح مراعات کے غلط استعمال اور غیر ضروری بوجھ کے اندیشوں کو بھی محدود کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے فیول ریلیف کی ڈیجیٹل تقسیم کے لیے ’’ فیول پاس‘‘ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ بھی مستقبل کے حوالے سے ایک مثبت قدم ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے اس نظام کی تیاری اور انتظام سے شفافیت، نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر ڈیجیٹل نظام کو سادہ، قابلِ رسائی اور موثر انداز میں نافذ کیا گیا تو شہریوں کو غیر ضروری دفتری کارروائی اور قطاروں سے بھی نجات ملے گی۔ یقیناً کسی بھی حکومتی پیکیج کی اصل کامیابی اس کے اعلان میں نہیں بلکہ اس کے شفاف اور بروقت نفاذ میں ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ فیول پاس کے اجرا، اہل افراد کی شناخت اور ریلیف کی منتقلی کا نظام عام شہری کے لیے آسان رکھا جائے۔ اس حوالے سے شکایات کے فوری ازالے کا موثر طریقہ کار بھی ناگزیر ہوگا۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ پٹرول پر ریلیف مستقل معاشی حل نہیں بلکہ موجودہ حالات میں عوام کو سہارا دینے کا ایک عملی اقدام ہی۔ طویل مدت میں توانائی، روزگار، صنعتی پیداوار، برآمدات، ٹیکس اصلاحات اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بنیادی معاشی اصلاحات جاری رکھنا ضروری ہے۔ تاہم بحران کے دوران عوام کو فوری سہارا دینا بھی ایک ذمہ دار حکومت کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔ وزیراعظم فیول ریلیف پیکیج اسی عوامی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔ 75ارب روپے کی گرانٹ، براہِ راست فیول ریلیف اور ڈیجیٹل تقسیم کا نظام اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ عام شہری کے مسائل کو بھی پالیسی کا مرکز بنا رہی ہے۔ عوام کو ریلیف، معیشت کو استحکام اور نظام میں شفافیت، یہ تینوں اہداف اگر ایک ساتھ آگے بڑھیں تو موجودہ مشکل حالات کو بہتر مستقبل کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ حکومت کا یہ قدم اسی سمت ایک امید افزا پیش رفت ہے، جسے موثر عمل درآمد کے ذریعے حقیقی عوامی فائدے میں تبدیل کرنا اب سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔

شرحِ سود میں استحکام
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.50فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ موجودہ معاشی حالات میں ایک متوازن، محتاط اور دوراندیش اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔ مرکزی بینک نے یہ فیصلہ مہنگائی کے رجحان، معاشی سرگرمیوں اور مالیاتی استحکام کو سامنے رکھتے ہوئے کیا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسی اب جذبات کے بجائے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ مہنگائی کے دبائو اور دیگر معاشی عوامل کے باعث شرح سود میں 50بیسز پوائنٹس تک اضافہ کیا جاسکتا ہے مگر مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح میں اضافہ نہ کرکے کاروباری طبقے اور مالیاتی شعبے کو پالیسی تسلسل کا مثبت پیغام دیا ہے۔ شرح سود میں مزید اضافہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور قرضوں کے حصول پر دبائو بڑھا سکتا تھا۔ ایسے میں موجودہ شرح کو برقرار رکھنا حکومت کی معاشی سمت کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے، کیونکہ معاشی استحکام کا سفر صرف مہنگائی کو قابو کرنے سے نہیں بلکہ کاروبار، سرمایہ کاری اور پیداوار کے پہیے کو رواں رکھنے سے بھی مکمل ہوتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ عرصے میں مالیاتی نظم و ضبط، معاشی اصلاحات، برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ دی ہے۔ ان اقدامات کے نتائج بتدریج سامنے آرہے ہیں۔ موجودہ پالیسی ریٹ کا تسلسل اس وسیع تر معاشی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ یہ فیصلہ کاروباری افراد کے لیے بھی اہم ہے۔ شرح سود میں اچانک اضافہ کاروباری لاگت بڑھاتا اور نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے برعکس شرح میں استحکام کاروباری طبقے کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں نسبتاً بہتر پیش گوئی اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ شرح سود کا موجودہ استحکام معاشی سفر کی منزل نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے۔ حکومت کو مہنگائی میں پائیدار کمی، روزگار کے مواقع میں اضافے، برآمدات کی توسیع اور پیداواری شعبے کی مضبوطی کے لیے اپنی اصلاحاتی رفتار برقرار رکھنا ہوگی۔ موجودہ فیصلہ اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہے کہ اس میں نہ غیر ضروری سختی دکھائی گئی اور نہ ہی معاشی خطرات کو نظرانداز کیا گیا۔ یہی متوازن طرزِ حکمرانی معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی نعروں سے زیادہ معاشی تسلسل، پالیسی استحکام اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ شرح سود کو 11.50فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ اسی سمت میں ایک محتاط مگر مثبت قدم ہے، جسے حکومت کی وسیع تر معاشی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button