ColumnImtiaz Ahmad Shad

انسان کی اصل خوبصورتی

ذرا سوچئے
انسان کی اصل خوبصورتی
امتیاز احمد شاد
ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں انسان کی پہچان تیزی سے اس کے لباس، چہرے، دولت، عہدے اور سماجی حیثیت سے ہونے لگی ہے۔ کسی کے پاس بڑی گاڑی ہے تو وہ کامیاب سمجھا جاتا ہے، کسی کے پاس بڑا عہدہ ہے تو اسے بااثر تصور کیا جاتا ہے، اور کوئی خوبصورت دکھائی دیتا ہے تو اسے خوش قسمت سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم زندگی کو ذرا گہرائی سے دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل قدر ان چیزوں میں نہیں جو دنیا کو دکھائی دیتی ہیں، بلکہ ان چیزوں میں ہے جو صرف اس کے کردار اور رویے سے محسوس ہوتی ہیں۔ روسی ادیب انتون چیخوف کے خیالات اسی مقام پر ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی خوبصورتی صرف اس کے چہرے یا لباس میں نہیں بلکہ اس کی روح، خیالات اور کردار میں بھی ہونی چاہیے۔ یہ ایک سادہ سا جملہ معلوم ہوتا ہے، اگر اسے اپنی زندگی پر لاگو کیا جائے تو اس کے اندر ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔
ہم دوسروں کے چہروں کو بہت غور سے دیکھتے ہیں، مگر ان کے کردار کو دیکھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ ہم لباس کی برانڈ، گھر کا سائز، گاڑی کا ماڈل اور عہدے کی حیثیت تو یاد رکھتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ وہ اپنے سے کمزور شخص کے ساتھ کس لہجے میں بات کرتا ہے؟ اختلاف رکھنے والے انسان کے ساتھ اس کا رویہ کیا ہے؟ زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم دنیا کو بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہمیں حکومت سے شکایت ہے، معاشرے سے شکایت ہے، اداروں سے شکایت ہے، سیاست دانوں سے شکایت ہے، حتیٰ کہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے بھی شکایت ہے۔ لیکن اگر کبھی چند لمحوں کے لیے اپنے اندر جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ جن خرابیوں کی نشاندہی ہم دوسروں میں کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کسی نہ کسی شکل میں ہمارے اندر بھی موجود ہیں۔
خود احتسابی شاید انسان کے لیے سب سے مشکل عمل ہے، کیونکہ دوسروں کی غلطی تلاش کرنا آسان ہے مگر اپنی غلطی تسلیم کرنا مشکل ہے۔ علم بھی انسان کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مگر علم کا مطلب صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں۔ کتابیں پڑھ لینا، امتحان پاس کر لینا یا کسی بڑے ادارے سے تعلیم حاصل کر لینا انسان کو لازماً دانا نہیں بناتا۔ اگر علم انسان میں عاجزی پیدا نہیں کرتا تو شاید وہ صرف معلومات کا ذخیرہ ہے، شعور نہیں۔ حقیقی علم انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں بہت کچھ ایسا ہے جسے وہ نہیں جانتا۔ یہی احساس اسے متکبر ہونے سے بچاتا ہے۔ واضح ہے کہ زندگی مشکلات کے بغیر بھی نہیں گزرتی۔ ہر انسان اپنی کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی معاشی پریشانی کا شکار ہے، کوئی رشتوں کی پیچیدگیوں میں الجھا ہوا ہے، کوئی مستقبل کے خوف میں مبتلا ہے اور کوئی ماضی کے زخم اٹھائے پھر رہا ہے۔ باہر سے پرسکون دکھائی دینے والا انسان بھی اندر سے کسی طوفان سے گزر رہا ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت تھوڑا سا نرم ہونا چاہیے۔ مشکلات انسان کو توڑ بھی سکتی ہیں اور بنا بھی سکتی ہیں۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ انسان ان مشکلات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ زندگی کی بہت سی گہری حقیقتیں آرام کے دنوں میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں سمجھ آتی ہیں۔
آج کے دور میں ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نی خوشی کو بھی مادی چیزوں سے جوڑ دیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ زیادہ پیسہ، بڑا گھر، مہنگی گاڑی یا زیادہ شہرت ہمیں ہمیشہ خوش رکھ سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آسائش اور سکون ایک چیز نہیں۔ آسائشیں زندگی کو آسان بنا سکتی ہیں، مگر دل کو سکون ہمیشہ نہیں دے سکتیں۔ اسی طرح سادگی بھی زندگی کا ایک اہم سبق ہے۔ ہم نے اپنی زندگی کو دوسروں سے مقابلے میں اس قدر الجھا لیا ہے کہ اپنی خوشیوں کو بھی دوسروں کی زندگی سے ناپنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ وہاں ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت ترین حصہ دکھاتا ہے اور دیکھنے والا اپنی زندگی کے مسائل کا موازنہ دوسرے کے چند خوشگوار لمحوں سے کرنے لگتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر انسان کی زندگی کا ایک ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جو کیمرے کے سامنے نہیں آتا۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے خوشی نہیں ہوتی اور ہر خاموشی کے پیچھے سکون نہیں ہوتا۔
انسان کی اصل پہچان اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے اختیار ملتا ہے۔ جس کے پاس طاقت ہو اور وہ انتقام کے بجائے انصاف کا راستہ اختیار کرے، جس کے پاس جواب دینے کا اختیار ہو مگر وہ معاف کر دے، جس کے پاس دولت ہو مگر وہ ضرورت مند کو نظر انداز نہ کرے، شاید حقیقی معنوں میں خوبصورت انسان وہی ہے۔ ہمیں کبھی کبھی تنہائی سے بھی ڈر لگتا ہے، حالانکہ تنہائی انسان کو اپنے آپ سے ملنے کا موقع دیتی ہے۔ شور سے دور، لوگوں کی رائے سے الگ اور دنیا کی مصروفیات سے باہر بیٹھ کر انسان خود سے کچھ سوال کر سکتا ہے۔ میں کیا بن رہا ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میرے ہونے سے کسی دوسرے انسان کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ کیا میں وہی انسان ہوں جو لوگوں کے سامنے نظر آتا ہوں؟ یہ آسان نہیں، لیکن شاید انہی سوالوں سے شخصیت کی تعمیر شروع ہوتی ہے۔
زندگی بہرحال بہت مختصر ہے۔ ہم اسے شکایتوں، حسد، نفرت، انتقام اور غیر ضروری مقابلوں میں ضائع کر سکتے ہیں یا اسے کسی مثبت مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ عہدے بدل جاتے ہیں، دولت کم یا زیادہ ہو جاتی ہے، چہرے پر وقت کے آثار آ جاتے ہیں اور شہرت بھی ایک دن ماضی کا قصہ بن جاتی ہے۔ آخر میں جو چیز باقی رہتی ہے، وہ انسان کا کردار ہے۔ اسی لیے شاید ہمیں اپنی زندگی میں ایک بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم دنیا کو کیا دکھانا چاہتے ہیں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم حقیقت میں کیا ہیں۔ اگر ہمارے الفاظ خوبصورت ہیں مگر رویے تلخ ہیں، اگر ہماری ظاہری شخصیت متاثر کن ہے مگر کردار کمزور ہے، اگر ہمارے پاس علم بہت ہے مگر انسانیت کم ہے تو ہماری کامیابی ادھوری ہے۔ اصل خوبصورتی وہ ہے جو وقت کے ساتھ کم نہ ہو۔ شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے کہ انسان دنیا کو بدلنے سے پہلے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ اپنی زبان میں نرمی پیدا کرے، اپنے رویے میں برداشت لائے، اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرے، اپنے علم میں عاجزی شامل کرے اور اپنے کردار میں انسانیت پیدا کرے۔

جواب دیں

Back to top button