14بچوں کی جان جانے پر بیرسٹر دانیال کی قرارداد

شہادت
راجہ شاہد رشید
14بچوں کی جان جانے پر بیرسٹر دانیال کی قرارداد
میں نے جیسے ہی سانحہ پمز کا سنا تو دل اس قدر اداس ہوا کہ اس وقت تک وہ معصوم پھول بچے جیسے آنکھوں میں اٹک سے گئے ہیں، انتہائی حیرت ہوئی اس بات پہ کہ ہمارے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال کا یہ حال ہے تو باقی صوبوں اور دور دراز علاقوں کے ہسپتالوں کے حالات کیا ہوں گے۔ غفلت اور لاپرواہی کی تمام تر حدیں ٹوٹی ہیں، ظلم کی انتہا ہو گئی، اتنا بڑا سانحہ ہونے کے باوجود بھی ہم کچھ سمجھے اور سلجھے بالکل بھی نہیں ہیں، طرح طرح کے بیانات باتیں ہو رہی ہیں، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال فرماتے ہیں کہ’’ ہم سارے افسران لائن حاضر کریں گے، پھر کوئی MNA، سینیٹر فون نہ کرنا کہ اس بندے کو کیوں ہٹایا، سب نے اپنے اپنے بندے لگوائے ہوئے ہیں، مرنے والے 15بچے تھے، ایک بچے کو سٹاف نے بچایا، کسی ’’ خالہ پُھپی‘‘ نے تو نہیں بچایا، اپوزیشن کمیٹی بنائے اور تحقیقات بھی کرے، لیکن 40روز کا ٹائم نہ رکھے، روز 1300بچے پورے ملک میں مر رہے ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ بچوں کی یومیہ اموات پاکستان میں ہو رہی ہیں، آئیں مل بیٹھ کر اگلے بچوں کو مرنے سے بچائیں، ملکی نظام ہی گل سڑ گیا ہے، یہ شام ختم ہوگی تو مزید 1300بچے مر چکے ہوں گے‘‘ ۔ چین نے کرپشن کے الزامات پر دو اعلیٰ ترین فوجی افسران ژانگ یوشیا اور لیو عینلی کو ریاستی سینٹرل ملٹری کمیشن میں ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق یہ فیصلہ نیشنل پیپلز کانگرس کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، ان دونوں افسران پر نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا شُبہ تھا جو کہ چین میں بدعنوانی کے لیے استعمال ہونے والی ایک عام اصطلاح ہے، خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ برطرفیاں صدر شی جن پنگ کے دور اقتدار کی اس وسیع انسداد بدعنوانی مہم کا حصہ ہیں جس نے چینی نظام میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ صد افسوس کہ ہم دیگر اقوام و ممالک کے ایسے اقدامات و واقعات کو دیکھ کر بھی ان سے کچھ سیکھتے اور سوچتے بالکل بھی نہیں ہیں۔ ہم پاک، چین دوستی کی مثالیں تو بہت دیتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کیسے بے درد و بے حس اور سنگدل لوگ ہیں جبکہ چینی درد دل رکھنے والے بڑے ہی مخلص اور زندہ دل انسان ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ ہماری اس مشکل میں بھی چین نے انسانی ہمدردی کی ایک اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے۔ سانحہ پمز کے بعد جب یہ انکشاف ہوا کہ فائر بریگیڈ اسلام آباد کی گاڑیاں 20سال پرانی ہیں تو چین کی جانب سے اسلام آباد کے لیے 21جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ دیا گیا، ذرائع نے بتایا کہ اس چینی امداد کی مالیت پاکستانی کرنسی میں قریباً 3ارب روپے بنتی ہے، اور اس طرح اسلام آباد کو بلند امارات میں ریسکیو کے لیے جدید سنارکل فائر ٹینڈر بھی ملے گا۔ سانحہ پمز پہ شفاف تحقیقات کرانے کے حوالے سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحاریک منظور کر لی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی میں پمز کی نرسری میں آتشزدگی سے 14بچوں کی جان جانے کے سانحہ پر چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ ایوان اس سانحہ کی بھرپور مذمت کرتا ہے، اس لاپرواہی کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق سنگین کاروائی عمل میں لائی جائے۔ جبکہ دوسری جانب ایوان نے قومی اسمبلی و سینٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک بھی منظور کر لی ہے۔ لگتا ہے یہ حکمران ابھی مزید کمیٹی کمیٹی کھیلیں گے۔ حالانکہ PMکی اپنی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں ہسپتال کے افسران و عملہ کی غفلت ثابت ہو چکی ہے، عملہ اور افسروں کے بیان ریکارڈ کیے گئے ، کمیٹی نے آگ کی اطلاع اور فائر بریگیڈ کہ پہنچنے کی ٹائم لائن بھی چیک کی، رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیم کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، تالے لگے ہوئے تھے، ٹیکنیکل سٹاف موجود ہی نہیں تھا، آگ بجھانے کے مناسب آلات بھی نہیں تھے، ریسکیو ٹیم کو دیواریں توڑ کر اندر جانا پڑا، رپورٹ میں معلوم ہوا کہ ہسپتال کا عملہ ایمرجنسی صورتحال کے حوالے سے بالکل ہی غیر تربیت یافتہ تھا۔ میں ابھی یہ کالم مکمل کر ہی رہا تھا تو تازہ ترین خبر آئی ہے کہ سانحہ پمز کی حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں PMپاکستان نے پمز ہسپتال کے 8افراد کو معطل کر کے ان کے خلاف کارروائی کرنے کیاحکامات جاری کر دیے ہیں۔ میں اس اقدام پر برادرم و محترم ارشاد بھٹی جی کی مانند یہ تو نہیں کہہ رہا کہ سانحہ پمز پہ PMاور ہیلتھ منسٹر دونوں سے استعفیٰ لے کر ان کے خلاف FIRکاٹی جائے تو آئندہ کسی ہسپتال میں آگ نہیں لگے گی لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ 8افراد کو معطل کر کے ایک ہسپتال کے سٹاف کو کان نہیں پکڑوائے گئے بلکہ صرف کان کھینچے گئے ہیں لیکن اس کے لیے 14معصوم انسانی بچوں کی جانیں بھی تو گئی ہیں نا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک کے ہسپتالوں کو ٹھیک کیا جائے بلکہ ہر ادارے کو ٹھیک کیا جائے۔ پورے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو، عدل و انصاف کا بول بالا ہو اور چہار سُو سبز امن سویرا، ہریالی ہو خوشحالی ہو۔





