Column

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان
شہرِ خواب۔۔۔
صفدر علی حیدری
تقدیر انسانی فکر کا وہ سوال ہے جس پر صدیوں سے بحث ہوتی آئی ہے۔ انسان جب زندگی کے نشیب و فراز دیکھتا ہے تو سوال اٹھتا ہے: اگر سب کچھ اللہ کے علم میں پہلے سے موجود ہے تو ہماری کوشش کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر رزق، زندگی، موت، کامیابی اور ناکامی تقدیر میں ہیں تو انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار کیوں ہے؟ اور اگر انسان کو اختیار حاصل ہے تو اللہ کی تقدیر کا مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟۔
یہ سوالات صرف فلسفے کے نہیں، انسانی زندگی کے بنیادی سوالات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبالؒ نے تقدیر کو محض نظری بحث نہیں بنایا بلکہ اسے انسان کی زندگی، خودی، ارادے اور عمل سے جوڑ دیا۔ اقبالؒ ایسے انسان کو پسند نہیں کرتے جو اپنی کمزوری، ناکامی یا بے عملی کو تقدیر کے نام پر قبول کر لے۔ ان کے نزدیک تقدیر انسان کے ہاتھ باندھنے والی زنجیر نہیں بلکہ اسے اپنی قوت پہچاننے اور عمل پر آمادہ کرنے والی حقیقت ہے۔ ہماری زندگی میں تقدیر اکثر بہانے کا دوسرا نام بن جاتی ہے۔ ناکامی ہوئی تو کہا: قسمت میں یہی تھا۔ نقصان ہوا تو تقدیر کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ کوشش کیے بغیر نتیجے کا انتظار کیا اور پھر ناکامی تقدیر کے کھاتے میں ڈال دی۔
اقبالؒ کا سوال اس سے پہلے شروع ہوتا ہے: تم نے کیا کیا؟، کیا پوری محنت کی؟، اپنی صلاحیت استعمال کی؟، اپنی کمزوری دور کرنے کی کوشش کی؟، حالات بدلنے کی تدبیر کی؟، یا صرف یہ انتظار کیا کہ تقدیر خود راستہ بنا دے؟۔ اقبالؒ کے نزدیک انسان ہر چیز کا مالک نہیں، لیکن اپنے ارادے اور عمل کے اعتبار سے ذمہ دار ضرور ہے۔ وہ حالات کا خالق نہیں، مگر ان کے مقابل اپنا رویہ منتخب کر سکتا ہے۔ وہ ہر نتیجہ اپنی مرضی سے حاصل نہیں کر سکتا، مگر کوشش چھوڑنے کا جواز بھی نہیں رکھتا۔
یہی تصور اقبالؒ کے فلسفہ خودی سے جڑتا ہے۔ خودی خود پسندی نہیں بلکہ اپنی حقیقت، قوت اور ذمہ داری کا شعور ہے۔ اقبالؒ کا مردِ مومن حالات کا غلام نہیں ہوتا۔ وہ شکست کو اپنی آخری شناخت نہیں بننے دیتا۔ گرتا ہے تو اٹھتا ہے، راستہ بند ہو تو نیا راستہ تلاش کرتا ہے۔
اسی لیے اقبالؒ کا یہ مصرع ان کے تصورِ انسان کا خوب صورت خلاصہ بن جاتا ہے: ’’ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان‘‘۔ یعنی مومن اپنے ماضی کا قیدی نہیں۔ ہر لمحہ اس کے لیے اصلاح، تعمیر اور نئی جدوجہد کا امکان ہے۔ کل کی ناکامی آج کی کوشش کو ختم نہیں کرتی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اقبال کا یہ تصور اسلامی تصورِ تقدیر کے مطابق ہے؟۔
قرآن مجید ایک طرف فرماتا ہے: ’’ ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے‘‘ ۔ ( القمر: 49)۔ اور دوسری طرف انسان کی کوشش کو اس کی ذمہ داری قرار دیتا ہے: ’’ اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی‘‘۔ ( النجم: 39)۔ یہ دونوں باتیں مل کر تقدیر کے مسئلے کا بنیادی توازن سامنے رکھتی ہیں۔ اللہ کی تقدیر اپنی جگہ حقیقت ہے، مگر انسان کی کوشش بھی بے معنی نہیں۔ اللہ کا علم کامل ہے، مگر انسان کو کل کا نقشہ نہیں دیا گیا، اسے آج کا عمل دیا گیا ہے۔
قرآن کہتا ہے: ’’ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے‘‘ ۔ ( الرعد: 11)
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ کی فکر قرآن کے مزاج سے قریب آتی ہے۔ اقبالؒ قوموں کے زوال کو محض قسمت کا کھیل نہیں سمجھتے۔ علم، کردار، اتحاد، محنت اور خود اعتمادی قوموں کی زندگی بدلتے ہیں، جبکہ غفلت، انتشار اور بے عملی زوال کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اس کے تمام اسرار جان سکتا ہے۔ اسلام نے تقدیر کو ماننے کا حکم دیا ہے، مگر اس کے ہر راز کو اپنی محدود عقل سے کھول لینی کا دعویٰ نہیں سکھایا۔
قرآن روح کے بارے میں فرماتا ہے: ’’ اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے‘‘۔ ( الاسرائ: 85)
جب انسان اپنے وجود سے وابستہ روح جیسی حقیقت کے بارے میں بھی محدود علم رکھتا ہے تو تقدیر جیسی عظیم حقیقت کے تمام اسرار کا احاطہ کیسے کر سکتا ہے؟، یہی وہ مقام ہے جہاں غور و فکر علمی جستجو کے بجائے بے بنیاد دعوے میں بدل سکتا ہے۔
حضرت علیؓ سے منقول ایک نہایت معنی خیز فرمان اسی احتیاط کی طرف متوجہ کرتا ہے: ’’ یہ ایک گہرا سمندر ہے، اس میں داخل نہ ہو، یہ اللہ کا راز ہے، اس کی حقیقت میں تکلف نہ کرو‘‘۔ اس فرمان کا مقصد غور و فکر کے دروازے بند کرنا نہیں بلکہ انسانی عقل کی حدود یاد دلانا ہے۔ تقدیر پر ایمان رکھیے، اس سے سبق لیجیے، اپنے عمل کا جائزہ لیجیے، مگر اللہ کے علمِ ازلی کے تمام اسرار اپنی عقل میں قید کرنے کا دعویٰ نہ کیجیے۔
اہلِ بیت کی تعلیم بھی اسی اعتدال کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ امام جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ نہ مکمل جبر ہے اور نہ مکمل تفویض، بلکہ دونوں کے درمیان ایک امر ہے۔ یعنی انسان نہ ایسا مجبور ہے کہ اس کے عمل کی کوئی ذمہ داری نہ ہو، نہ ایسا خودمختار کہ اللہ کی قدرت و مشیت سے باہر نکل جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ اور اسلامی تصورِ تقدیر کا موازنہ سامنے آتا ہے۔ اقبالؒ کا زور انسان کے ارادے، خودی اور عمل پر ہے۔ قرآن انسان کو کوشش اور ذمہ داری کا شعور دیتا ہے۔ اہلِ بیت جبر اور مکمل آزادی کی انتہائوں سے بچاتے ہیں۔ یوں اقبالؒ کا تصورِ تقدیر اسلامی فکر سے متصادم نہیں بلکہ اس کے ایک اہم عملی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ البتہ اقبالؒکے فلسفے کو قرآن کے تصورِ تقدیر کا مکمل مترادف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ قرآن تقدیر کو اللہ کے علم، قدرت، مشیت اور پوری کائنات کے نظام کے وسیع تناظر میں بیان کرتا ہے، جبکہ اقبالؒ اس مسئلے کے انسانی پہلو، یعنی ارادے، خودی اور عمل کو زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔
رسولؐ اللہ کی تعلیم بھی اسی توازن کی طرف رہنمائی کرتی ہے: پہلے اونٹ باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔ یعنی تدبیر انسان کی ذمہ داری ہے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا توکل ہے۔ یہی زندگی کا راستہ ہے۔ بیماری آئے تو علاج کرنا ہے، امتحان ہو تو پڑھنا ہے، روزگار چاہیے تو کوشش کرنی ہے، قوم زوال کا شکار ہو تو علم اور کردار پیدا کرنا ہے۔ پھر جو نتیجہ سامنے آئے اسے اللہ کی حکمت سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ تقدیر کا صحیح شعور انسان کو عمل سے پہلے نہیں روکتا، عمل کے بعد سنبھالتا ہے۔ جو شخص کوشش سے پہلے تقدیر کو یاد کرتا ہے، وہ اکثر بہانہ تلاش کرتا ہے۔ جو شخص پوری کوشش کے بعد تقدیر کو یاد کرتا ہے، اسے اطمینان ملتا ہے۔ ہمیں کل کا علم نہیں، مگر آج کا فرض معلوم ہے۔ ہمیں نتیجے کی ضمانت نہیں دی گئی، مگر کوشش کی ذمہ داری ضرور دی گئی ہے۔ ہمیں تقدیر کے تمام اسرار معلوم نہیں، مگر اپنے کردار کا حساب ضرور دینا ہے۔ اس لیے تقدیر کو بے عملی کا نام نہ بنائیے۔ اپنی ذمہ داری پوری کیجیے، عقل استعمال کیجیے، اسباب اختیار کیجیے، پوری قوت سے جدوجہد کیجیے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیجیے۔ جہاں عقل پہنچتی ہے وہاں غور کیجیے، جہاں وحی رہنمائی کرتی ہے وہاں جھک جائیے، اور جہاں اللہ کا راز شروع ہوجائے وہاں عاجزی اختیار کیجیے۔
اقبالؒ کا زندہ مومن وہ نہیں جو اپنی حالت کو تقدیر کہہ کر قبول کرلے؛ زندہ مومن وہ ہے جو ہر شکست کے بعد اپنے اندر نئی قوت پیدا کرے، ہر بند راستے میں امکان تلاش کرے اور ہر صبح کو نئی ابتدا سمجھے۔ اسی لیے: ’’ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان‘‘، یہ صرف ایک شعر نہیں، زندگی کا اعلان ہے: تقدیر اللہ کے پاس ہے، مگر کوشش ہمارے ہاتھ میں ہے۔ نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے، مگر عمل ہماری ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button