ColumnRoshan Lal

نیپال میں آنے والا سیلاب ہم سے کتنی دور ہے؟

نیپال میں آنے والا سیلاب ہم سے کتنی دور ہے؟
روشن لعل
نیپال میں 26اگست 2026ء کوآنے والے تباہ کن سیلاب کی وجوہات کا مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ سرحدیں مشترکہ نہ ہونے کی وجہ سے نیپال میں آنے والے کسی سیلاب کا ہمارے ملک تک پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ نیپال کے سیلابوں کا ہمارے ملک تک پہنچنے کا امکان نہ ہونے کے باوجود اگر یہاں یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ وہاں آنے والا سیلاب ہم سے کتنی دور ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تباہیاں برپا کرنے والا جو حالیہ سیلاب وہاں نمودار ہوا، عین ویسا سیلاب ہمارے گلگت بلتستان میں کسی بھی وقت رونما ہو سکتا ہے۔ نیپال میں آنے والے جس حالیہ سیلاب نے سیکڑوں انسانوں اور مویشیوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ کروڑوں اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا انفراسٹرکچر تباہ کیا اس کی وجہ نیپال اور چین کی سرحد پر واقع لانگ ٹنگ لائی رنگ پہاڑسے گرنے والے گلیشئرکا ایک حصہ بنا ۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ برف، پتھروں اور انتہائی کثیف مٹی کے آمیزے پر مشتمل گلیشئر کے جس تودے کے لانگ ٹنگ لائی رنگ پہاڑ کی چوٹی سے قریباً 1300میٹرنیچے گرنے سے ریکٹر سکیل پر 5.2 شدت کا زلزلہ پیمائش کیا گیا وہ تودہ ،کتنا بڑا ہوگا۔ایک اندازے کے مطابق لانگ ٹنگ لائی رنگ پہاڑ کی چوٹی سے گرنے والے گلیشئر کا سائز ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ سے کئی گنا بڑا تھا۔ واضح رہے کہ ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ 424فٹ لمبی، 187فٹ چوڑی اور 1250فٹ اونچی ہے۔ لانگ ٹنگ لائی رنگ پہاڑسے گرنے والا گلیشئر لہندے کھولا ،ندی میں گر کر سب سے پہلے زلزلے کا باعث بنا ، بعد ازاں اسے نے ندی کا بہائو روک کر وہاںلاکھوں ایکڑ فٹ پانی کا ایک عارضی ڈیم قائم کر دیا ، اس عارضی ڈیم کے لاکھوں ایکڑ فٹ پانی کے دبائو نے جب لہندے کھولا، ندی کا بہائو روکنے والے برف ، پتھروں اور کثیف مٹی پر مشتمل گلیشئر کے تودے کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تو وہاں جمع شدہ پانی کا کئی میٹر بلند ریلاتنگ لہندے ندی کے پاٹ تک محدود رہنے کی بجائے انسانی آبادیوں، کھیتوں کھلیانوں، سڑکوں اور کلیوں بازاروں میں سے گزرکر اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو تباہ کرتا ہوا زیریں سمت میںبہتا چلا گیا۔
نیپال میں گلیشئر کا تودہ گرنے سے جو تباہ کن سیلاب آیا اسے گلوبل وارمنگ کا نتیجہ قراردیا گیا ہے۔ اس وقت دنیا کے کسی بھی خطے کی جغرافیائی ہیئت چاہے جو بھی ہے ، اس کا گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رہنا ناممکن قرار دیا جارہا ہے۔ مختلف علاقوں پر گلوبل وارمنگ کے مختلف اثرات ظاہر ہورہے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی منفی اثرات کی وجہ سے ہمالیائی رینج میں واقعہ نیپال کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پڑی برف انتہائی سے تیزی سے پگھل رہی ہے۔ نیپال کے جن پہاڑوں میں برف باری زیادہ اور بارش انتہائی کم برستی تھی اب وہاں برف باری ماضی کی نسبت کم اور بارشیں زیادہ برسنا شروع ہو گئی ہیں۔ ایسا ہونے سے وہاں صدیوں سے موجود گلیئشروں کا حجم برف کے سرعت انگیز پگھلائو کے باعث تیزی سے کم اور ان کے ڈھانچے میں شامل اجزا کی جڑت کمزور ہو رہی ہے۔ یہ عوامل گلیشئروں کے پھٹنے ، ٹوٹنے اور تباہ کن سیلابوں کی آمد کی وجہ بن رہے ہیں۔ یہی عوامل26 اگست کو نیپال میں آنے والے قیامت خیز سیلاب کا باعث بنے۔
نیپال اگرہمالیائی پہاڑی سلسلہ میں واقع ملک ہے تو پاکستان کے گلگت بلتستان کو قراقرم ، ہندوکش اور ہمالیائی پہاڑی سلسلوں کا جنکشن کہا جاتا ہے ۔ مذکورہ تینوں پہاڑی سلسلے گلگت بلتستان میں جگلوٹ کے مقام پر ملتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کے نیپال کی برف سے ڈھکی چوٹیوں پر پڑنے والے جن منفی اثرات کی وجہ سے وہاں سیلاب آیا وہی منفی اثرات گلگت بلتستان میں موجود تین پہاڑی سلسلوں کی برف پوش چوٹیوں اور گلیشئروں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ نیپال میں جس قسم کا تباہ کن سیلاب 26اگست کو آیا ، اس قسم کے قیامت خیز سیلاب سے ہم کتنی دور کھڑے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریباً سولہ برس قبل ، ایک ایسا ممکنہ سیلاب ہمارے دروازے پر دستک دینے کے بعد اندر آنے کی بجائے باہر ہی رک گیا تھا۔یہ سیلاب آنے کا امکان گلگت بلتستان کے علاقہ عطاآباد میںاس وقت پیدا ہوا جب جنوری 2010ء میں ایک بہت بڑا پہاڑ دریائے ہنزہ میں گراتھا۔اس پہاڑ کے دریائے ہنزہ میں گرنے سے وہاں چند دنوں میں کئی ملین ایکڑ فٹ پانی جمع ہونے سے عطا آباد نام کی ایک جھیل بن گئی تھی۔ حالیہ دنوں کے دوران نیپال میں جھیل بنانے والا گلیشیئر وہاں جمع ہونے والے لاکھوں ایکڑ فٹ پانی کے دبائو کی وجہ سے ٹوٹ کر جس قسم کے تباہ کن سیلاب کا باعث بنا ، پاکستان کے ماہرین نی جنوری 2010ء میں گلگت بلتستان میں بننے والی عطاآباد جھیل کا بند ٹوٹنے اور اسی قسم کا سیلاب برپا ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا ۔ جس پہاڑ نے دریائے ہنزہ میں گر کر عطاآباد جھیل بنائی وہ بعد ازاں وہاں ایسا مضبوط بند ثابت ہوا جس کے سبب دریا کی بالائی سمت میں پانی کی سطح بلند ہونے سے کئی تاریخی دیہات تو جھیل میں سما گئے مگر اس قیامت خیز سیلاب کا خطرہ ٹل گیا جس کے برپا ہونے کا ماہرین قوی امکان ظاہر کر چکے تھے۔ جس سیلاب کا خطرہ 2010ء میں ٹل گیا تھا اس کے گلگت بلتستان میں برپا ہونے کا امکان آج تک ختم نہیں ہوسکا۔ عطا آباد جھیل بننے کے بعد جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے اس علاقے کی پہاڑوں کی ساخت کے متعلق تیار کردہ جو رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کی اس میں واضح طور پر یہ بتایا گیا تھا کہ جس جیالوجیکل ہیئت کا پہاڑ دریائے ہنزہ میں گرنے سے عطاآباد جھیل بنی ، اس ہیئت کے مزید کئی پہاڑ اپنے اندر کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ سموئے ہوئے گلگت بلتستان میں پھیلے ہوئے سیکڑوں قدرتی ندی نالوں اور دریائوں کے کناروں پر موجود ہیں۔ گلگت بلتستان میں کوئی پہاڑی تودہ گرنے سے بننے والی عطاآباد جھیل جیسی نئی جھیل نمودار ہونے اور ٹوٹنے سے ہی نہیں بلکہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے بھی تباہ کن سیلاب آنے کا خطرہ موجود ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران گلگت بلتستان میں مختلف مقامات پر گلیشئر پھٹنے سے 120سے زیادہ چھوٹے بڑے سیلاب آچکے ہیں۔ یو این ڈی پی۔ پاکستان چیپٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی علاقہ جات میں 7.1ملین کے قریب لوگ ، پہاڑی تودے گرنے یا گلیشئر پھٹنے کی وجہ سے آنے والی ممکنہ آفات کی زد میں زندگی گزار رہے ہیں۔
سطور بالا میں ،گلگت بلتستان میں جس قسم کی آفات برپا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا وہ کوئی راز کی باتیں نہیں بلکہ افشا حقیقتیں ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے حکام بالا اور آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے اداروں کو ان حقیقتوں کا ادراک نہ ہو۔ مذکورہ خوفناک حقیقتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیپال میں جو حالیہ سیلاب آیا گلگت بلتستان کے باسی عرصہ سے ویسے ہی ممکنہ سیلاب کے خطرے کی زد میں موجود ہیں۔ آفتوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے خطرات کی زد میں موجود لوگوں کے تحفظ کے لیے پیشگی انتظامات کریں۔

جواب دیں

Back to top button