سانحہ پمز اور اس کے محرکات

سانحہ پمز اور اس کے محرکات
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پیش ہونے والے سانحہ نے ہر فرد کو غم زدہ کر دیا۔ بچوں کی نرسری میں نومولود چودہ بچوں کے اہل خاندان پر غم کا پہاڑ گر گیا۔ جیسا کہ خبروں میں آیا ہے بچوں کی نرسری میں نصب ایئر کنڈیشنز کا کمپریسر پھٹنے سے یہ دلخراش سانحہ رونما ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ تعجب ہے پمز کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں ملازمت سی فوری معطل کرکے سانحہ کی تحقیقات ہونی چاہیے تھی۔ وزیراعظم نے البتہ ایک اچھا کام کیا ہے، جو سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ جناب شاہد خان کو تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سونپی ہے۔ جناب شاہد خان ایک راست باز سابق بیوروکریٹ ہیں، راست بازی ان کی پہچان ہے وہ کسی کے دبائو میں بالکل نہیں آتے۔ یہ ناچیز انہیں برسوں سے ذاتی طور پر جانتا ہے، وہ پنجاب میں سیکرٹری داخلہ اور راولپنڈی میں کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔ سعودی عرب میں ڈائریکٹر جنرل حج لگائے گئے تو نئی تاریخ رقم کی۔ ان کے ہوتے ہوئے حجاج کرام کو عمارات دینے والے پاکستانی ایجنٹ پاکستان ہائوس سے کوسوں دور رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب عمران خان نے نواز شریف کی حکومت کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں طویل ترین دھرنا دیا تو شاہد خان وفاقی سیکرٹری داخلہ تھے، جنہیں عمران خان نے للکار کر پیغام دیا تھا میں تمہیں دیکھ لوں گا۔ ایک روز جب میں جناب شاہد خان سے ان کے گھر ملنے گیا تو انہوں نے اپنے موبائل سے مجھے عمران خان کی وہ تصویر دکھا دی، جس میں وہ شاہد خان صاحب سے جھک مصافحہ کر رہے تھے۔ کوئی بھی سرکاری افسر ہو اس کی شہرت اس کے ساتھ چلتی ہے۔ پاکستان میں چند ایک بیوروکریٹس ایسے ہیں جو اب ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہیں، مگر اپنی راست بازی کی اعلیٰ مثالیں چھوڑ گئے ہیں انہی بیوروکریٹس میں جناب احمد بخش لہٹری، ڈاکٹر ظفر اقبال قادر، عبداللہ صاحب مرحوم، سید ابو احمد عاکف ایسے سول سرونٹس رہ چکے ہیں جنہیں کوئی سفارش کرنے کا سوچ نہیں سکتا تھا۔ آج کے دور کی بیوروکریسی پر نظر ڈالیں تو بعض ایسے افسر بھی ہیں جنہیں ماسوائے اثاثے بنانے کے اور کوئی کام نہیں۔ خیر میں سانحہ پمز بارے بات کر رہا تھا تحقیقاتی کمیٹی پیش آنے والے سانحہ کے مختلف محرکات پر غور کرکے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ تادم تحریر انکوائری کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی تھی۔ افسوس اس پر ہے وزیراعظم صاحب نے پمز کے چیف ایگزیکٹو سے کسی قسم کی باز پرس کرنے کو ضروری نہیں سمجھا اور سیکرٹری صحت کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ عام طور پر سرکاری ہسپتالوں میں آگ بجھانے والے آلات نصب خراب حالت میں ہوتے ہیں نہ ہی انہیں آپریٹ کرنے والا عملہ موقع پر موجود ہوتا ہے۔ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں ایسے آلات ایک مرتبہ لگا دینے کے بعد دوبارہ انہیں چیک کرنے کی زحمت محسوس نہیں کی جاتی۔ اب جیسا کہ پمز میں سانحہ پیش آیا ہے اگر آگ بجھانے والے آلات کارآمد ہوتی تو کئی جانیں بچائی جا سکتیں تھیں۔ مجھے پمز کے ای ڈی سے کوئی پرخاش نہیں مگر بطور چیف ایگزیکٹو ان کی ذمہ داری میں شامل تھا وہ ایسے احساس معاملات پر نظر رکھتے، بدقسمتی سے سرکاری ہسپتالوں کے حالات پر جیتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ تاسف ہے سرکاری ہسپتالوں میں کسی ہنگامی صورت حال میں آگ بجھانے والے آلات بارے ملازمین کو معلومات نہیں ہوتیں، ورنہ اگر آگ بجھانے والا عملہ موجود ہوتا تو شائد یہ افسوسناک سانحہ پیش نہ آتا۔ تعجب ہے سانحہ کے وقت بچوں کی نرسری میں مامور سٹا ف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا اور این آئی سی یو کا مرکزی گیٹ بند تھا، جس سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے سرکاری ہسپتالوں کے حالات کس طرح کے ہیں۔ اگر ہسپتال کا فائر فائٹنگ عملہ موقع پر موجود ہوتا تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ سانحہ کے وقت ریسکو کا عملہ این آئی سی یو کی کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہوا، جس سی پمز انتظامیہ کی لاپرواہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نومولودہ بچوں کی ہلاکت سے ہر آنکھ آشکبار ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے اگر سرکاری ہسپتالوں میں احساس نوعیت کے آلات کو باقاعدگی سے چیک کرنے کا انتظام ہو تو اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے سوموار کو بھی انکوائری کا عمل جاری رکھا۔ توقع کی جا سکتی ہے کمیٹی اپنی رپورٹ جمعہ کو وزیراعظم کو پیش کر دے گی، جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔ اس ناچیز کے خیال میں کسی ہسپتال میں نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی غفلت سے اتنے معصوم بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انصاف کا تقاضا تو یہی ہے جو لوگوں بھی ذمہ داروں ہوں ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے چاہئیں تاکہ مستقبل قریب میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔ ہمارے مشاہدات کے مطابق سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بچوں کی نرسری بڑی حساس جگہ ہوتی ہے، جہاں پل پل داخل بچوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ افسوناک پہلو یہ ہے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں متعلقہ عملہ نے جس غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ دراصل سرکاری اداروں میں تقرریاں جب تک میرٹ پر نہیں ہوں گی اس طرح کے سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔ بعض حلقوں کے مطابق پمز کے چیف ایگزیگٹو کا عہدہ گریڈ اکیس کا ہے، لیکن وہاں ایک جونیئر ڈاکٹر کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو اس امر کا غماز ہے موجودہ حکومت کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں میرٹ کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کے باعث سرکاری اداروں کی کارکردگی پر منفی اثرات کا مرتب ہونا قدرتی امر ہے۔ آخر میں تحقیقاتی کمیٹی سے توقع کی جاسکتی ہے وہ سانحہ کے ہر پہلو پر غور و غوض کرتے ہوئے اپنی رپورٹ مرتب کرے گی تاکہ سانحہ کے ذمہ دار سزا سے نہ بچ نہ سکیں۔





