پمز کی آگ: غفلت کی پرورش برسوں
پمز کی آگ: غفلت کی پرورش برسوں
صفدر علی حیدری
حادثہ ایک لمحے میں تشکیل نہیں پاتا ۔ بسا اوقات اس کے پیچھے برسوں کی غفلت، چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں اور نظرانداز کیے گئے سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
آگ چند منٹ میں پھیلتی ہے، مگر اس آگ تک پہنچنے والی غفلت برسوں میں پرورش پاتی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز ) کے مادر و طفل مرکز کی نرسری میں آگ لگی۔ وہاں پندرہ نومولود بچے موجود تھے۔ ایک بچہ بچا لیا گیا اور چودہ بچے جاں بحق ہوگئے۔ کسی اخبار کے لیے یہ چند سطریں ہیں، مگر ان خاندانوں کے لیے پوری زندگی کا ایسا باب ہے جو کبھی بند نہیں ہوگا۔
آگ کیسے لگی؟ یہ سوال اہم ہے۔ حتمی وجہ تحقیقات ہی طے کریں گی۔ مگر ایک سوال تحقیقاتی رپورٹ سے پہلے بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے: اگر ایک چنگاری چودہ نومولودوں تک پہنچ سکتی تھی تو ان بچوں اور اس چنگاری کے درمیان حفاظتی دیوار کہاں تھی؟ یہ سوال کسی فرد کو مجرم قرار دینے کے لیے نہیں، پورے نظام سے ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی نرسری کوئی عام کمرہ نہیں۔ وہاں ایسے بچے ہوتے ہیں جو نہ چل سکتے ہیں، نہ بھاگ سکتے ہیں، نہ مدد کے لیے پکار سکتے ہیں۔ بعض انکیوبیٹر میں ہوتے ہیں، بعض آکسیجن پر۔ ان کی زندگی کی ڈور مکمل طور پر دوسرے انسانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس لیے حفاظتی انتظامات اضافی سہولت نہیں؛ علاج ہی کا حصہ ہیں۔
ہم حادثے کے بعد پوچھتے ہیں: آگ کیسے لگی؟ کون ذمہ دار تھا؟، مگر اصل سوال اس سے پہلے کا ہے: آگ لگنے سے پہلے کیا کیا گیا تھا؟ کیا فائر الارم فعال تھا؟ کیا ایمرجنسی راستے قابلِ استعمال تھے؟ کیا عملہ نومولود بچوں کے فوری انخلا کی تربیت رکھتا تھا؟ کیا آکسیجن کے نظام کی باقاعدہ جانچ ہوتی تھی؟ کیا فائر ڈرل واقعی ہوتی تھی یا صرف فائلوں میں موجود تھی؟
حادثے کے وقت عقل سے زیادہ تربیت کام آتی ہے، اور تربیت حادثے کے دن نہیں ہوتی۔ وہ برسوں پہلے شروع ہوتی ہے۔ یہیں آکر عنوان اپنا مفہوم کھولتا ہے
وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ غفلت کی بھی پرورش ہوتی ہے۔
ایک چھوٹی خرابی نظرانداز ہوتی ہے۔ ایک ناکارہ الارم کو ’’ کل دیکھیں گے‘‘ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک حفاظتی مشق غیر ضروری سمجھ لی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ فائل میں دب جاتی ہے۔ پھر ایک دن ایک چنگاری آتی ہے اور برسوں کی غفلت چند منٹوں میں اپنا حساب مانگ لیتی ہے۔
پمز کے واقعے میں ریسکیو ٹیموں کے قریباً سات منٹ میں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسیں اور سیکیورٹی اہلکار بھی بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک بچہ بچا لیا گیا۔ مگر انصاف کا تقاضا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی فرد کو مجرم قرار نہ دیا جائے۔ اور تحقیقات کے نام پر نظام کو سوالوں سے آزاد بھی نہ کیا جائے۔ اگر حفاظتی انتظامات موجود تھے تو پھر اتنی جانیں کیوں نہ بچ سکیں؟ اگر موجود نہیں تھے تو کیوں نہیں تھے؟ اور اگر موجود تھے مگر کام نہیں کر رہے تھے تو انہیں فعال رکھنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟
وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ لیکن پاکستان میں مسئلہ کمیٹیوں کی کمی نہیں، نتیجے کی کمی ہے۔ ہم تحقیقات کرتے ہیں، رپورٹیں بنتی ہیں، سفارشات سامنے آتی ہیں، چند دن شور ہوتا ہے اور پھر فائل بند ہوجاتی ہے۔ پمز میں غفلت، بے ضابطگی یا انتظامی کمزوری کے سوالات آج پہلی مرتبہ پیدا نہیں ہوئے۔ اس بڑے سرکاری ہسپتال سے متعلق مختلف ادوار میں مریضوں کی مشکلات، انتظامی بے قاعدگیوں، طبی سہولیات کے مسائل اور بچوں سمیت مختلف نوعیت کے ناخوشگوار واقعات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ سوال کسی ایک حکومت، افسر یا دور کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے قومی ادارے میں مستقل بہتری کا ایسا نظام کیوں نہیں جو ہر واقعے سے سبق لے، کمزوری تلاش کرے اور اسی دوبارہ پیدا ہونے سے روکے؟
مسائل اور شکایات سامنے آتی رہیں، حادثات کے بعد آوازیں اٹھتی رہیں، تحقیقات بھی ہوتی رہیں۔ کہیں کارروائی ہوئی ہوگی، کہیں اصلاح بھی ہوئی ہوگی۔ لیکن اگر بنیادی حفاظتی اور انتظامی مسائل بار بار واپس آتے رہیں تو ہمیں کسی ایک واقعے پر نہیں، پورے نظام کے طریقہ کار پر غور کرنا ہوگا۔
اصلاح کا مطلب صرف حادثے کے بعد ایک افسر تبدیل کرنا نہیں۔ اصلاح یہ ہے کہ اگلا حادثہ ہونے سے پہلے نظام خود اپنی کمزوری پکڑ لے۔
پمز کی آگ کو ایک اتفاقی حادثہ سمجھ کر بھول جانا بڑی غلطی ہو گی۔ ملک کے ہر ہسپتال، نرسری، آئی سی یو اور ایسے وارڈ کا حفاظتی آڈٹ ہونا چاہیے جہاں مریض خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ حادثے کے بعد یہ پوچھنے سے بہتر ہے کہ ’’ کہاں آگ لگی؟‘‘، حادثے سے پہلے معلوم کیا جائے ’’ کہاں آگ لگ سکتی ہے؟‘‘۔ کہاں فائر الارم ناقص ہیں؟ کہاں ایمرجنسی راستے ناکافی ہیں؟ کہاں عملہ تربیت یافتہ نہیں؟ کہاں ہائیڈرنٹ صرف کاغذ پر موجود ہے؟
یہ فہرست حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے بننی چاہیے۔
کسی ماں نے بچے کے لیے کپڑے خریدے ہوں گے۔ کسی نے اس کا نام سوچا ہوگا۔ کسی باپ نے اس کے آنے والے دنوں کے منصوبے بنائے ہوں گے۔ کسی دادی نے اس کے چہرے میں خاندان کی اگلی نسل دیکھی ہوگی۔ کسی گھر میں اس کی پیدائش پر مٹھائی بانٹی گئی ہو گی۔
پھر ایک دن وہی خاندان ہسپتال کے باہر کھڑا ہوگا۔ بچے کو گود میں لینے کے لیے نہیں، اس کی میت لینے کے لیے۔یہاں ’’ حادثہ‘‘ کا لفظ بہت چھوٹا پڑ جاتا ہے۔ بچے حادثوں کے اعداد نہیں ہوتے۔ وہ مستقبل ہوتے ہیں۔ اور مستقبل کو غفلت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
پمز کی آگ نے صرف چودہ بچے نہیں لیے، اس نے ہم سے یہ سوال بھی پوچھا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے اداروں کو انسانوں کے لیے بناتے ہیں یا صرف عمارتوں کے لیے؟
ہم ہسپتال بناتے ہیں، مشینیں خریدتے ہیں، افتتاح کرتے ہیں، تختیاں لگاتے ہیں، مگر کیا ہم اس دن کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں جب زندگی اور موت کے درمیان صرف چند منٹ کا فاصلہ رہ جائے؟
ہماری اجتماعی کمزوری شاید یہی ہے کہ ہم پیش بندی کو خرچ سمجھتے ہیں اور سانحے کے بعد کارروائی کو کارکردگی۔
ایک فعال الارم، کھلا ایمرجنسی راستہ، تربیت یافتہ عملہ اور باقاعدہ فائر ڈرل کی قیمت شاید ہمیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، مگر ایک انسانی جان کی قیمت اس کے مقابلے میں بے حساب ہے۔
ہمیں حادثوں کی تاریخ نہیں، سبق کی تاریخ بنانی ہے۔ ورنہ ہر سانحے کے بعد یہی کہیں گے: تحقیقات ہوں گی، ذمہ داروں کا تعین ہوگا، اصلاح کی جائے گی۔ پھر ایک نیا سانحہ ہماری پچھلی یقین دہانیوں کا مذاق اڑا رہا ہوگا۔
وقت واقعی پرورش کرتا ہے، وہ غفلت کی بھی کرتا ہے اور ذمہ داری کی بھی۔ اگر آج ہم نے کچھ نہ سیکھا تو وقت ہماری بے حسی کی پرورش کرے گا۔ اگر آج ہم نے نظام کو محفوظ بنانے کا فیصلہ کرلیا تو یہی وقت ذمہ داری کی پرورش کرے گا۔
پمز کی آگ بجھ چکی ہے۔ دھوئیں کے بادل چھٹ جائیں گے۔ دیواریں صاف ہوجائیں گی۔ ٹوٹے شیشے بدل دیے جائیں گے۔ وارڈ دوبارہ آباد ہوجائے گا۔ وہاں پھر بچے پیدا ہوں گے۔
زندگی ہمیشہ کی طرح موت کے سامنے اپنا راستہ بنا لے گی۔ مگر اس آگ کا سوال ابھی بجھا نہیں۔ ان چودہ بچوں کے لیے ایک سوال زندہ رہنا چاہیے: ہمیں بچایا کیوں نہیں جا سکا؟
اصل جواب یہ ہوگا کہ آگ کو چودہ زندگیوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کیا کیا گیا تھا۔ اور اگر کچھ نہیں کیا گیا تھا تو کیوں نہیں کیا گیا؟ تحقیقاتی کمیٹیاں رپورٹیں دے دیں گی۔ عہدے بدل جائیں گے۔ بیانات ختم ہوجائیں گے۔ خبر بھی چند دن بعد پرانی ہوجائے گی۔ مگر اگر نظام نہ بدلا تو یہ آگ ختم نہیں ہوئی۔ وہ صرف اگلی عمارت، اگلے وارڈ اور اگلی خبر کا انتظار کر رہی ہو گی۔ وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہم غفلت کی پرورش کرتے ہیں یا زندگی کی حفاظت کی۔
چودہ چراغ بجھ چکے ہیں۔ اب کم از کم اتنی روشنی ضرور پیدا ہونی چاہیے کہ کسی اگلی نرسری میں کسی ماں کا چراغ بجھنے سے پہلے ہمیں خطرہ دکھائی دے جائے۔
ورنہ تاریخ ہم سے پوچھے گی پمز میں مسائل کی خبریں پہلے بھی آتی رہی تھیں، پھر ہم نے ان سے مستقل سبق کیوں نہیں سیکھا؟
اور شاید اس سے بھی بڑا سوال: پہلی آگ کے بعد ہم نے دوسری آگ کا انتظار کیوں کیا؟





