ColumnQadir Khan

عالمی معیشت کی شہ رگ پر کسکتا پھندا

عالمی معیشت کی شہ رگ پر کسکتا پھندا
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
جب طبلِ جنگ بجتا ہے تو سب سے پہلے سچائی اور پھر معیشت قربان ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہوتا ہے جب جنگ کا میدان کوئی سرسبز وادی یا وسیع صحرا نہ ہو، بلکہ دنیا کی وہ حساس ترین آبی گزرگاہ ہو جو عالمی معیشت کی شہ رگ کہلاتی ہے؟۔ اگر ہم عالمی منظر نامے کا بغور مشاہدہ کریں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ فروری 2026ء کے اواخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان بھڑکنے والی جنگ اب زمینی اور فضائی محاذوں سے نکل کر مکمل طور پر سمندروں، بالخصوص آبنائے ہرمز میں منتقل ہو چکی ہے۔ یہ محض چند بحری جہازوں پر حملوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کی روایتی عسکری طاقت کو ایک غیر روایتی، غیر متوازی اور انتہائی منظم بحری جنگ کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی ایک سوچی سمجھی جنگی حکمت عملی ہے۔ فریقین اب محض ایک دوسرے کو ڈرانے یا فوجی برتری ثابت کرنے کے لیے نہیں لڑ رہے، بلکہ عالمی تجارت کی اس مرکزی شریان پر مکمل حاکمانہ اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دست و گریبان ہیں، جس نے 1970ء کی دہائی کے بعد دنیا کو بدترین توانائی اور سپلائی چین کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔
اس پورے بحران کی چنگاری 28فروری 2026ء کو اس وقت بھڑکی جب امریکہ اور اسرائیل نے ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے تحت ایرانی تنصیبات پر تباہ کن فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت واقع ہوئی۔ اس واقعے نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں سے واپسی ناممکن تھی۔ فضا میں امریکی برتری اور اپنے تباہ حال کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو دیکھتے ہوئے، ایران کے جنگی پالیسی سازوں نے انتہائی شاطرانہ چال چلی اور جنگ کا رخ اس میدان کی طرف موڑ دیا جہاں وہ کم وسائل کے باوجود بھاری نقصان پہنچا سکتے تھے۔ 4مارچ 2026ء کو پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ عمان اور ایران کے درمیان گھری ہوئی یہ 21میل چوڑی گزرگاہ، جس کا اصل تجارتی راستہ بمشکل دو میل چوڑا ہے، ایرانی میزائلوں، تیز رفتار کشتیوں اور بارودی سرنگوں کے نشانے پر آ گئی۔ امریکہ کی جانب سے 13اپریل کو جوابی کارروائی کے طور پر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی گئی، جس نے خلیج فارس میں ایک ایسی ’’ دوہری ناکہ بندی‘‘ کو جنم دیا جس نے خطے کو عالمی معیشت سے کاٹ کر رکھ دیا۔
اس بحران کو اگر ہم مختلف ادوار میں تقسیم کریں تو ایرانی حکمت عملی کی باریکیاں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ فروری سے وسط جون تک کے پہلے مرحلے میں حملوں کی شدت عروج پر تھی، جس میں 16اموات ہوئیں۔ پھر وسط جون سے جولائی کے پہلے ہفتے تک، جب امن مذاکرات چل رہے تھے، حملوں کی شرح نصف رہ گئی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، اس دوران بھی ایران نے عمان کے ساحل کے قریب ان جہازوں کو روکا جو متبادل راستے اختیار کر رہے تھے، گویا یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ ایران کی مرضی کے بغیر کوئی متبادل راستہ بھی محفوظ نہیں۔ اور پھر 8جولائی کے بعد، جب مذاکرات ناکام ہوئے، تو حملوں میں دوبارہ تیزی آ گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اس آبی گزرگاہ کو ایک پریشر والو کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
اس پوری شطرنج کی بساط پر ایران کی سب سے خطرناک چال روایتی جنگ کو ’’ انتظامی اور بیوروکریٹک جنگ‘‘ میں تبدیل کرنا تھی۔ 5مئی 2026ء کو ایران نے ’’ پرسین گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘‘ قائم کر دی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ریگولیٹ کرنا اور ان سے ٹول ٹیکس وصول کرنا تھا۔ یہ ایک کلاسک ، امرِ واقعہ کی حکمت عملی ہے۔ ایران نے جہازوں پر 1.5سے 2ملین ڈالر تک کا ٹول عائد کر دیا، جس کی ادائیگی کرپٹو کرنسی یا چینی یوآن میں لازمی قرار دی گئی۔ امریکہ کے ادارے ’ اوفیک‘ (OFAC)نے فوری طور پر اس اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دیں، جس نے عالمی شپنگ کمپنیوں کو ایک کھائی اور کنویں کے درمیان لا کھڑا کیا۔ اگر وہ ٹیکس دیتے ہیں تو امریکی پابندیوں کا شکار ہو کر عالمی مالیاتی نظام سے کٹ جائیں گے، اور اگر نہیں دیتے تو ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنیں گے۔ اگست میں پی جی ایس اے نے خلیجی ممالک ( سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر) کے جہازوں سمیت 45جہازوں کو بلیک لسٹ کر کے عرب ممالک کو بھی ایک کڑی آزمائش میں ڈال دیا۔
دوسری جانب، امریکی حکمتِ عملی تخلیقی الجھنوں اور تضادات کا شکار رہی۔ 4مئی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تجارتی جہازوں کو تحفظ دینے کے لیے شروع کیا گیا ’’ آپریشن پراجیکٹ فریڈم‘‘ محض دو دن بعد ہی سفارتی دبائو اور ممکنہ وسیع تر جنگ کے خوف سے روک دیا گیا۔ اس پسپائی نے امریکی ڈیٹرنس کو شدید نقصان پہنچایا۔ رہی سہی کسر جولائی کے وسط میں اس وقت پوری ہو گئی جب صدر ٹرمپ نے حیران کن طور پر تجویز دی کہ امریکہ خود بحری جہازوں سے تحفظ فراہم کرنے پر 20فیصد ٹول ٹیکس وصول کرے۔ ایک جہاز پر 34ملین ڈالر کے اس مجوزہ ٹیکس نے پوری دنیا کی شپنگ انڈسٹری میں ہاہاکار مچا دی۔ اگرچہ 24گھنٹے میں یہ تجویز واپس لے لی گئی، لیکن اس نے ایران کو ایک زبردست پروپیگنڈا کا ہتھیار دے دیا کہ امریکہ خود تو جہاز رانی کی آزادی کی بات کرتا ہے مگر موقع ملنے پر خود بھی بھتہ وصول کرنے پر تل جاتا ہے۔اس تنازع کے عالمی معیشت پر اثرات قیامت خیز ہیں۔ یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتوں کو پر لگ گئے اور دنیا کو مہنگائی کے عفریت نے جکڑ لیا۔ سمندری انشورنس کی فیس آسمان سے باتیں کرنے لگی، اور رہی سہی کسر جی پی ایس، اسپوفنگ، ڈرونز کی یلغار اور بارودی سرنگوں نے پوری کر دی ہے، جس کی وجہ سے روزانہ 138کی اوسط سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جانے لگی ہے۔
2026ء کا آبنائے ہرمز کا بحران بحری جنگ اور جیو پولیٹیکل رسہ کشی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ طاقت کے عالمی ڈھانچے کو بدلنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ جب کوئی فریق عالمی تجارت کی بندش کو جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ مذاکرات کا سب سے موثر ہتھیار سمجھ لے تو روایتی سفارت کاری بے بس ہو جاتی ہے۔ اب دنیا کے سامنے ایک ہی دوراہا ہے۔ یا تو ایک انتہائی خطرناک عسکری مہم جوئی کے ذریعے ایران کی ساحلی دفاعی تنصیبات کو نیست و نابود کر دیا جائے، جس کی قیمت شاید تیسری عالمی جنگ کی صورت میں چکانی پڑے، یا پھر ایک ایسا جامع اور منصفانہ سفارتی حل نکالا جائے جو تکبر کی بجائے زمینی حقائق پر مبنی ہو۔ جب تک بحری خودمختاری کے اس پیچیدہ عقدے کو حل نہیں کیا جاتا، عالمی معیشت کی نبض یوں ہی ڈوبتی رہے گی اور آبنائے ہرمز کا طوفان پوری دنیا کے لیے ایک ڈرائونا خواب بنا رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button