Column

پمز میں قیامت، 14چراغ بجھ گئے

اداریہ۔۔۔
پمز میں قیامت، 14چراغ بجھ گئے
اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا ایک ایسا دل خراش سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ صحت کے شعبے، اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور ادارہ جاتی نگرانی کے حوالے سے کئی سنگین سوالات چھوڑ گیا ہے۔ جن بچوں نے ابھی دنیا میں آنکھ بھی پوری طرح نہیں کھولی تھی، وہ آگ اور دھویں کی نذر ہوگئے۔ ان کے والدین کے لیے یہ صدمہ شاید پوری زندگی کا ایسا دکھ ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔ اس سانحے کی سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ نومولود اپنی حفاظت کے لیے مکمل طور پر دوسروں کے محتاج تھے۔ وہ نہ چل سکتے تھے، نہ اپنی مدد کر سکتے تھے اور نہ ہی کسی خطرے کی صورت میں خود کو محفوظ مقام تک لے جاسکتے تھے۔ ایسے بچوں کے لیے قائم نرسری میں حفاظتی انتظامات معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی حد تک موثر ہونے چاہئیں۔ آگ سے بچائو کے آلات، ہنگامی راستے، عملے کی دستیابی، الارم، فائر فائٹنگ نظام اور فوری انخلا کا جامع طریقہ کار ہر وقت فعال ہونا چاہیے۔ حادثے کے بعد مختلف حکام کی جانب سے آتشزدگی کی وجہ سے متعلق مختلف تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ کہیں ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے کا ذکر ہے، کہیں شارٹ سرکٹ، آکسیجن سپلائی اور دیگر عوامل کی بات کی گئی ہے۔ ایسے میں سب سے اہم ضرورت شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ہے۔ حقیقت کیا ہے؟ آگ کس مقام سے شروع ہوئی؟ حفاظتی نظام نے بروقت کام کیوں نہیں کیا؟ عملے نے کیا اقدامات کیے؟ ریسکیو اداروں کو اطلاع کب دی گئی اور وہ موقع پر کتنی دیر میں پہنچے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات قوم جاننا چاہتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انکوائری کمیٹی تشکیل دینا ایک ضروری قدم ہے، مگر محض کمیٹی بنا دینا کافی نہیں۔ تحقیقات ایسی ہونی چاہئیں جن پر متاثرہ خاندانوں سمیت عام شہری بھی اعتماد کر سکیں۔ کمیٹی کو واقعے کی مکمل ٹائم لائن، سی سی ٹی وی فوٹیج، فائر الارم اور فائر فائٹنگ آلات کی حالت، عملے کی ڈیوٹی روسٹر، ایمرجنسی کالز اور ریسکیو کے پہنچنے کے وقت سمیت تمام پہلوئوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ رپورٹ صرف فائل کا حصہ نہ بنے، بلکہ اس کی سفارشات پر عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات والدین کے وہ الزامات ہیں جن میں عملے کی عدم موجودگی، تاخیر سے امدادی کارروائی، بند دروازوں اور بچوں کی شناخت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ ان کی نہ تو جذبات کی بنیاد پر تصدیق کی جاسکتی ہے اور نہ ہی محض تردید سے معاملہ ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہر الزام کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کسی سطح پر غفلت یا کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ والدین کی جانب سے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ ایسے الم ناک حالات میں خاندانوں کو صرف تسلی کے الفاظ نہیں بلکہ واضح، قابلِ اعتماد اور سائنسی بنیادوں پر معلومات فراہم کرنا ریاست اور اسپتال انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔ ہر والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے اپنے بچے کے بارے میں مکمل اور مصدقہ معلومات دی جائیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ حساس ترین شعبے میں آگ لگنے کی صورت میں ہنگامی ردعمل کا نظام کتنا موثر تھا۔ اسپتال وہ جگہ ہے جہاں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہر لمحہ تیاری ضروری ہوتی ہے۔ خاص طور پر نرسری، آئی سی یو اور این آئی سی یو جیسے شعبے جہاں مریض خود کو بچانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے، وہاں حفاظتی پروٹوکول میں کسی قسم کی کمزوری ناقابل قبول ہے۔ اس سانحے کو کسی ایک افسر یا چند ملازمین کی غلطی قرار دے کر معاملہ ختم کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اگر غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمے داروں کا تعین ضرور ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ نظام میں ایسی کمزوری کہاں موجود تھی جس نے حادثے کو اتنا تباہ کن بننے دیا۔ کیا فائر سیفٹی کا باقاعدہ آڈٹ ہوتا تھا؟ کیا عملے کو ہنگامی انخلا کی تربیت دی گئی تھی؟ کیا فائر ڈرلز باقاعدگی سے ہوتی تھیں؟ کیا تمام آلات فعال تھے؟ کیا ایمرجنسی رسپانس کا عملی طور پر جائزہ لیا جاتا تھا؟ وزیراعظم کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینا اور ذمے داروں کے تعین کے لیے تحقیقات کی ہدایت قابلِ ذکر ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ حکومت کو اس سانحے کی تحقیقات کو محض ایک رسمی کارروائی نہیں بننے دینا چاہیے۔ ذمے دار کوئی بھی ہو، اسے قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ملک کے تمام بڑے اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کا جامع آڈٹ کرایا جانا چاہیے تاکہ کسی دوسرے خاندان کو ایسے ناقابلِ بیان سانحے سے نہ گزرنا پڑے۔ یہ وقت ایک دوسرے پر الزام ڈالنے سے زیادہ سبق حاصل کرنے کا ہے۔ اگر کسی تکنیکی خرابی، انسانی غفلت یا انتظامی کوتاہی نے ان معصوم جانوں کو ہم سے چھین لیا تو ان وجوہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔ اسپتال میں موجود ہر شخص کی جان قیمتی ہے، لیکن نومولود بچوں کے لیے حفاظتی ذمے داری کہیں زیادہ حساس ہے۔ 14ننھے چراغ بجھ گئے۔ ان کے والدین کے گھر شاید ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس درد کو کوئی انکوائری رپورٹ، کوئی بیان اور کوئی مالی امداد واپس نہیں لاسکتی۔ تاہم اگر اس سانحے سے ایسے حفاظتی نظام کی بنیاد رکھی جاسکے جو مستقبل میں درجنوں، سیکڑوں معصوم جانوں کو بچا لے، تو شاید یہ ایک اجتماعی ذمے داری کی ادائیگی ہوگی۔ قوم کو صرف یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ آگ کیسے لگی، قوم کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ آئندہ ایسی آگ کسی نرسری تک پہنچنے سے پہلے اسے روکنے کے لیے کیا کیا جائے گا۔ پمز سانحہ ایک کڑا انتباہ ہے۔ اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، تربیت، نگرانی اور ہنگامی ردعمل کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب ضرورت صرف افسوس کی نہیں، عملی اقدامات کی ہے۔ 14نومولود بچوں کی جانیں واپس نہیں آسکتیں، مگر ان کی یاد ہمیں یہ عہد ضرور دلا سکتی ہے کہ کسی اور ماں کی گود ایسی غفلت کے باعث خالی نہ ہو۔

شذرہ۔۔۔
فتنہ الخوارج کیخلاف کاری ضرب
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائیوں کے دوران 11دہشت گردوں کا مارا جانا اس امر کا واضح اظہار ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی غفلت یا کمزوری کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ جنوبی وزیرستان، بنوں اور خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہ صرف سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے، بلکہ اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور منصوبہ بندی پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔ بنوں میں دو دہشت گردوں کی ہلاکت، جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں پانچ خوارج کا خاتمہ اور بلوچستان کے ضلع خضدار میں چار دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جانا اہم کامیابیاں ہیں۔ کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولا بارود اور بارودی مواد کی برآمدگی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے منظم تیاریوں میں مصروف تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں بلکہ بروقت اطلاعات، موثر انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور مربوط حکمت عملی سے جیتی جاتی ہے۔ تازہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگانا اور پھر انہیں محدود کرکے کارروائی کرنا اسی موثر حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں مقامی آبادی کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ریاست کی اصل کامیابی صرف دہشت گردوں کے خاتمے میں نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں بھی ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو کسی ایک علاقے یا محدود مدت تک نہیں بلکہ مستقل اور مربوط قومی حکمت عملی کے تحت جاری رکھنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور ان کے نیٹ ورک کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔ صرف مسلح عناصر کا خاتمہ کافی نہیں، دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ تازہ کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑے گا۔ امن کے دشمنوں کے خلاف ریاستی کارروائی جاری رہنی چاہیے، کیونکہ پائیدار امن ہی پاکستان کی ترقی، خوش حالی اور قومی استحکام کی بنیاد ہے۔

جواب دیں

Back to top button