Column

خطرہ، گاڑی اینٹوں پر

خطرہ، گاڑی اینٹوں پر
سیدہ عنبرین
امریکی صدر نے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے سے قبل جو درجن بھر وعدے کئے تھے، وہ ان میں سے ایک بھی پورا نہ کر سکے، ان کی پالیسیاں ان کے کئے گئے وعدوں کے برعکس تھیں، جن کا انہیں زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ آج انہیں مڈٹرم انتخابات میں اپنی نیا ڈوبتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے، انہوں نے اپنی کچن کابینہ میں موجود اپنے پنج پیاروں کو ٹاسک دیا اور کہا کہ جنگی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے مختصر ترین عرصہ میں انہیں ایسے کام بتائیں جن کے کرنے سے ان کی سیاسی ساکھ بحال ہو سکے، اور وہ مڈٹرم الیکشن میں اپنا کھویا ہوا ووٹ بینک حاصل کر سکیں۔ ان پنج پیاروں میں سے چار نے انہیں فوراً کرنے کے جو کام بتائے انہیں صائب مشورے کہا جا سکتا ہے، ان کا ایک پیارا جو بنیادی طور پر ایک اذیت پسند انسان سمجھا جاتا ہے، اس کے مشورے سب سے مختلف ہیں، ان پر اگر ٹرمپ نے عمل کیا تو سیاسی مدت تو یقینی ہے، عین ممکن ہے ان کی کاروباری موت بھی واقع ہوجائے۔
ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ صدق دل سے اسرائیل اور نیتن یاہو سے فاصلہ اختیار کر لیں، ورنہ وہ خود تو اپنا اکتوبر میں ہونیوالا الیکشن ہار جائیگا، اس کے ساتھ وہ آپ کو بھی لے ڈوبے گا۔ ایران پر امریکی حملے کی غلطی کو عوامی طور پر تسلیم کریں، اور دنیا سے اس غلطی پر معافی مانگیں۔ دنیا اور خصوصاً امریکی وسعت قلب کا مظاہرہ کرتے ہوئے درگزر کر سکتے ہیں، انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ایران میں ہونیوالے جانی اور مالی نقصانات اور عام متاثرین کیلئے فوری طور پر ایک جامع پیکیج کا اعلان کریں، چاہے اس پیکیج کی رقم مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں سے ہی کیوں نہ لینی پڑے، لیکن مڈٹرم الیکشن سے قبل یہ رقوم اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رقوم فوراً ایران ٹرانسفر کر دیں، انہیں احساس دلایا گیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود متعدد ممالک نے ان کا ساتھ نہیں دیا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایران کے خلاف جنگ بلا جواز ہے، آج ان ممالک کا موقف درست ثابت ہوا، اور امریکی موقف کو پذیرائی نہ ملی ، امریکہ کو زمین، پانی اور فضا میں بری طرح شکست ہوئی۔ موجودہ حالات میں اسے کوئی کامیابی نہیں مل سکتی، لہٰذا غیر مشروط طور پر جس طرح ایران سے معاہدے کیلئے کہا جاتا رہا ہے، بالکل اسی طرح امریکہ غیر مشروط پر ابنائے ہرمز سے نکل جائے، ناکہ بندی ختم کرے، اور آبنائے ہرمز کو ایران کی شرائط پر اس کا انتظام چلانے دے، کیونکہ اس پر بنیادی حق ایران کا ہے، امریکہ کا نہیں۔ مزید برآں مختلف ممالک کو اپنے طور پر آزادانہ فیصلہ کرنے دے، کہ وہ ایران کو کس قدر ٹیکس دے کر اس آبی راہداری کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ سفارشات میں امریکی صدر کو یہ بھی یاد کرایا گیا ہے کہ اسے یکطرفہ اور بلا سوچے سمجھے ٹیرف وار شروع کرنے میں بھی بے حد نقصان اٹھانا پڑا ہے، امریکہ کو اس میں بھی واضح شکست ہوئی ہے۔ ٹیرف عائد کرنے سے امریکہ میں چیزوں کی قیمتیں بڑھیں، اس کا اثر عام آدمی پر پڑا، یوں اس نے اپنی سیاسی وابستگیاں بدلنے کا سوچنا شروع کر دیا، ٹیرف سے امریکی تاجروں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، کبھی ایران پر نیا حملہ کرنے، کبھی اسے ملتوی کرنے کے اعلانات نے غیر یقینی حالات پیدا کر دیئے۔ ابتداء میں نقصان اٹھانے کے بعد امریکی تاجروں نے سرمایہ کاری روک دی، جس کا امریکی معیشت پر منفی اثر نظر آ رہا ہے، مشورہ دیا گیا ہے دنیا میں موجود قریباً آٹھ سو امریکی اڈوں میں سے دو سو اڈے فوری طور پر بند کر کے اخراجات میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو پیغام دیا جائے کہ امریکی صدر اپنے پرانے وعدوں کو پورا کرنے کی طرف لوٹ رہے ہیں، انہیں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ سے نکلنے کے ساتھ ہی یوکرین جنگ سے بھی نکل جائیں، ان دونوں جنگوں نے امریکی معیشت کا بھرکس نکال دیا ہے، امریکی اسلحہ کے ذخائر تیزی سے ختم ہوئے، ایسے میں اگر چین نے تائیوان کو نگلنے کا پروگرام بنا لیا تو امریکہ اس کا دفاع نہیں کر سکے گا، یوں افغانستان کے بعد ایران اور ایران کے بعد تائیوان میں شکست سے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، انہیں احساس دلایا گیا کہ ان کے غلط فیصلے سے امریکہ کے کسی ہزار ارب ڈالر یوکرین اور ایران کی جنگ میں ڈوب گئے، جو امریکی ٹیکس پیئر کا پیسہ ہے، امریکی ٹیکس دہندگان اس پر غم و غصے کی تصویر بنے بیٹھے ہیں، کیونکہ سرمائے کی کمی سے عام آدمی کو دی جانے والی سہولتیں کم کی گئی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا گیا ہے کہ وہ ہفتوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں امیگرنٹس کو ریلیف دینے کیلئے کوئی فیصلہ کریں، اور اس کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ان کے ماضی کے فیصلوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے باور کیا جاتا ہے کہ امریکہ میں تین ممالک سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ کے ووٹرز کی تعداد دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے، جو ماضی کی طرح ٹرمپ کے حق میں ووٹ کاسٹ کر کے انہیں الیکشن میں کامیابی دلا سکتے ہیں، ان میں بھارت، چین ، پاکستان اور اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ امریکی صدر آج کل اپنی پرانی ڈائری کھول کر ان وعدوں کو دیکھ رہے ہیں، جن کی بنا پر انہوں نے اپنا الیکشن جیتا تھا، ان میں سے ایک وعدہ انہوں نے پاکستانیوں سے بھی کیا تھا۔ پاکستان میں ہونے والے دو، ایک اہم فیصلوں سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ امریکی صدر نے اس حوالے سے کچھ ہل جل کی ہے، جس کے نتیجے میں مزید فیصلے آنے کے بعد پاکستان کے سیاسی منظر میں کوئی بڑی ڈرامائی تبدیلی وقوع پذیر ہو سکتی ہے، جس کے اشارے کابینہ میں موجود اہم وزرا کی طرف سے آ رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو آج اپوزیشن میں ہیں وہ دیکھتے ہی دیکھتے کل اقتدار میں آ جائیں گے، لیکن اس کا یہ مطلب تو واضح ہے کہ جو آج اقتدار میں ہیں ان کی گاڑی کا کوئی ٹائر ایک بڑے زور دار پٹاخے سے اتنا ادھڑ جائے کہ قابل استعمال ہی نہ رہے، یوں یہ ٹائر بدلنا پڑ جائے۔ گاڑی کا ٹائر برسٹ ہو جائے تو اضافی ٹکڑے کا پیوند لگا کر کام چلایا جا سکتا ہے، لیکن اقتدار کی گاڑی میں پکے پنکچر سے کام نہیں چلتا، ٹائر ہی بدلنا پڑ جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ گاڑی کی ڈکی میں رکھا سپیئر ویل پہلے ہی پنکچر ہے، اس صورت میں گاڑی کو اینٹوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، پس معاملات تبدیلی کی طرف جاتے نظر آتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button