بااختیار عورت، محفوظ بچپن،مضبوط پاکستان

بااختیار عورت، محفوظ بچپن،مضبوط پاکستان
تحریر: یاسر دانیال صابری
پاکستان میں عورت کو ہمیشہ عزت اور احترام کے رشتوں سے جوڑا گیا ہے، اسے ماں کہا گیا، بہن کہا گیا، بیٹی کہا گیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عملی زندگی میں بھی عورت کو وہی عزت، آزادی اور تحفظ حاصل ہے جس کا ہم باتوں میں دعویٰ کرتے ہیں؟ آج بھی ہمارے معاشرے میں بے شمار خواتین ایسی ہیں جو تعلیم حاصل کرنے، اپنی مرضی سے زندگی کے فیصلے کرنے، روزگار اختیار کرنے، وراثت کا حق لینے اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ دوسری طرف ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں۔ گھروں سے لے کر اسکولوں، گلی محلوں اور بعض اوقات ایسے مقامات تک جہاں والدین اپنے بچوں کو اعتماد کے ساتھ بھیجتے ہیں، وہاں بچوں کے جنسی، جسمانی اور ذہنی استحصال کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ صرف چند واقعات نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال ہیں۔ گھریلو مسائل عروج پر ہیں۔ دور دور شادیوں سے عورتیں محفوظ نہیں یا والدین خبر گیری نہیں کرتے ہیں ۔
عورت کو بااختیار بنانے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ چند خواتین کو بڑے عہدے دے دئیے جائیں یا کسی تقریب میں انہیں ایوارڈ دے کر ہم سمجھیں کہ ہم نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ اصل بااختیاری اس وقت ہوگی جب ایک عام گھر کی بیٹی کو بھی معیاری تعلیم ملے، اسے اپنے ہنر کو استعمال کرنے کا موقع ملے، وہ عزت کے ساتھ روزگار حاصل کر سکے، اپنے کاروبار کا آغاز کر سکے، اپنی وراثت کے حق سے محروم نہ ہو اور اگر اس کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے خاموش رہنے کے بجائے انصاف حاصل کرنے کا راستہ ملے۔ ایک عورت جب اپنے پائوں پر کھڑی ہوتی ہے تو صرف اس کی زندگی نہیں بدلتی، اس کے بچوں کی تربیت، خاندان کی سوچ اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی بدلتا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف جسمانی تشدد کا نام نہیں۔ تضحیک، دھمکیاں، مسلسل ذہنی دبائو، معاشی کنٹرول، تعلیم سے روکنا، زبردستی کے فیصلے مسلط کرنا اور ہراساں کرنا بھی عورت کی زندگی کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات خاندان اور معاشرہ متاثرہ عورت کا ساتھ دینے کے بجائے اسے ہی خاموش رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ گھر کی عزت کا خیال کرو، لوگوں کو کیا جواب دیں گے، معاملہ ختم کرو ۔ یہی خاموشی کئی مرتبہ ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے۔ ہمیں اپنی یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ عزت صرف خاموشی میں ہے؛ اصل عزت انصاف، سچ اور انسان کے احترام میں ہے۔ عورت کو بھی چاہئے وہ فاطمی روپ و کردار انداز میں رہے، شوہر کا عزت کرے۔
اور جب بات بچوں کی آتی ہے تو ہماری ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک بچہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ہمیشہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ کبھی وہ خوف کی وجہ سے خاموش رہتا ہے، کبھی اسے دھمکایا جاتا ہے اور کبھی اسے سمجھ ہی نہیں آتی کہ اس کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔ اسی لیے والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا ہو گا جہاں بچہ ڈانٹ کے خوف سے نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ اپنی ہر بات بتا سکے۔ بچوں کو ان کے جسم، ذاتی حدود اور محفوظ و غیر محفوظ رویوں کے بارے میں عمر کے مطابق آگاہی دینا ضروری ہے۔ ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہے انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص انہیں غلط طریقے سے چھوئے، ڈرائے، بلیک میل کرے یا کسی نامناسب عمل پر مجبور کرے تو وہ فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتا سکتے ہیں اور اس بات پر انہیں سزا نہیں ملے گی۔ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری صرف والدین کی نہیں اسکول، مدرسہ، معاشرہ، پولیس، محکمہ تعلیم، صحت کے ادارے، میڈیا اور حکومت سب اس ذمہ داری میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے واضح اصول ہونے چاہئیں، اساتذہ اور عملے کو مناسب تربیت دی جانی چاہیے اور شکایت کی صورت میں معاملہ دبانے کے بجائے بچے کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ آج کے دور میں آن لائن دنیا بھی بچوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا جہاں تعلیم اور معلومات کے دروازے کھولتے ہیں، وہیں غلط افراد بچوں کو ہراساں، بلیک میل اور نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بعض واقعات سامنے آنے کے بعد لوگ متاثرہ بچے یا خاندان سے سوال شروع کر دیتے ہیں، جیسے غلطی بچے کی ہی ہو۔ ہمیں یہ رویہ ختم کرنا ہوگا۔ جس بچے کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اسے ہماری ہمدردی، تحفظ اور انصاف چاہیے، الزام نہیں۔ اسی طرح کسی متاثرہ عورت سے بھی یہ پوچھنے کے بجائے کہ وہ وہاں کیوں گئی یا اس نے پہلے کیوں نہیں بتایا، ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اسے انصاف کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ معاشرے کی اصل انسانیت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ کمزور کے ساتھ کھڑا ہو۔ حکومت کو بھی صرف قوانین بنانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ قانون کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ عام شہری کو بروقت انصاف دے۔ خواتین اور بچوں سے متعلق شکایات کے لیے آسان، محفوظ اور قابلِ اعتماد نظام ہونا چاہیے، پولیس اور متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی تربیت ہونی چاہیے، متاثرین کو قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جانی چاہیے اور ایسے مقدمات کو غیر ضروری تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ کسی متاثرہ بچے کی شناخت، تصویر یا ایسی تفصیل نشر کرنا جس سے اس کی شناخت ظاہر ہو، اس کے زخم مزید گہرے کر سکتا ہے۔ صحافت کا مقصد کسی مظلوم کی عزت مجروح کرنا نہیں بلکہ معاشرے کو جگانا اور انصاف کی آواز بننا ہے۔ صحافی حضرات خیال رکھیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے تبدیلی شروع کرنا ہوگی۔ بیٹے کو یہ سکھانا ہوگا کہ عورت کمزور نہیں بلکہ برابر کی انسان ہے اور اس کی عزت لازم ہے۔ بیٹی کو یہ سکھانا ہوگا کہ اس کی آواز اہم ہے، اس کے خواب اہم ہیں اور اگر اس کے ساتھ زیادتی ہو تو وہ اکیلی نہیں۔ بچوں کو خوف کے بجائے اعتماد، خاموشی کے بجائے گفتگو اور سزا کے بجائے تربیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورتوں کو بااختیار بنانا اور بچوں کو محفوظ بنانا دو الگ مسئلے نہیں، بلکہ ایک ہی بہتر معاشرے کی بنیاد ہیں۔ ایک ایسا پاکستان جہاں عورت اپنی تعلیم مکمل کر سکے، اپنے فیصلے کر سکے، اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکے اور خود کو محفوظ محسوس کرے، جہاں ایک بچہ اسکول جاتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، اپنے گھر میں محفوظ ہو اور اگر اس کے ساتھ کوئی غلط رویہ اختیار کرے تو وہ بلا خوف اپنی بات کہہ سکے، وہ پاکستان صرف خواب نہیں، اگر ریاست اور معاشرہ سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کریں تو حقیقت بن سکتا ہے۔ ہمیں صرف قوانین اور تقریروں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی تربیت، اپنی سوچ، اپنے اداروں اور اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ کیونکہ جس معاشرے میں عورت کی عزت محفوظ نہیں اور بچہ محفوظ نہیں، وہاں ترقی کے بڑے بڑے دعوے بھی ادھورے ہیں۔ عورت کو اختیار دینا، اسے تعلیم اور روزگار دینا، اس کی آواز سننا اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموش نہ رہنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ہر بچے کو محبت، تحفظ اور ایسا ماحول دینا جہاں وہ خوف کے بغیر بڑا ہو سکے، ہم سب کا فرض ہے۔ عورت محفوظ ہوگی تو خاندان مضبوط ہوگا، بچے محفوظ ہوں گے تو قوم کا مستقبل محفوظ ہوگا، اور پاکستان واقعی اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کے کمزور سمجھے جانے والے طبقات خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں گے۔





