ڈیجیٹل مستقبل کی روشن دستک

اداریہ۔۔۔
ڈیجیٹل مستقبل کی روشن دستک
کسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کا کسی ملک میں باقاعدہ دفتر قائم کرنا محض ایک کاروباری سرگرمی نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس ملک کی معیشت، انسانی وسائل، ڈیجیٹل استعداد اور مستقبل کے امکانات پر اعتماد کا اظہار بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں گوگل کا باضابطہ دفتر قائم ہونا اسی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت ہے، جسے محض ایک عمارت کے افتتاح تک محدود کرکے دیکھنا اس کے حقیقی اثرات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور گوگل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پاکستان میں گوگل کے دفتر کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کی معیشت تیزی سے روایتی کاروباری ڈھانچوں سے نکل کر مصنوعی ذہانت، کلائوڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل تجارت، آن لائن تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس تبدیلی کا محض تماشائی نہیں بلکہ فعال حصہ بنے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں۔ ملک کی ایک بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان میں ٹیکنالوجی سیکھنے، نئے ہنر حاصل کرنے اور عالمی منڈی میں اپنی صلاحیتیں منوانے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اعتراف اس حقیقت کو تقویت دیتا ہے کہ ہمارے نوجوان عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ انہیں درست سمت، معیاری تربیت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہاں گوگل کے پاکستان میں موجود ہونے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کمپنی اپنے پروگراموں کو پاکستان میں وسعت دیتی ہے تو اس کے نتیجے میں صرف چند ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع نہیں ہونی چاہیے۔ اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب تربیت، سرٹیفکیشن، کاروباری معاونت، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے مواقع ملک کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں تک پہنچیں۔ گوگل کی جانب سے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ سرٹیفکیٹس کی تقسیم اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل مہارتوں کے میدان میں پہلے ہی کام ہورہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے کو مزید وسیع کیا جائے اور ایسے پروگرام ترتیب دئیے جائیں جن سے صرف بڑے شہروں کے نوجوان ہی نہیں بلکہ چھوٹے شہروں، دیہی علاقوں اور پس ماندہ خطوں کے نوجوان بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت ایک ایسا شعبہ ہے جو کم وسائل کے ساتھ زیادہ امکانات پیدا کر سکتا ہے۔ ایک نوجوان کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور مناسب مہارت کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود کمپنی یا صارف کو اپنی خدمات فراہم کرسکتا ہے۔ یوں ڈیجیٹل شعبہ نہ صرف روزگار پیدا کرتا ہے بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ تاہم یہاں حکومت کی ذمے داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ صرف عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتر کھولنے کی دعوت دینا کافی نہیں۔ انہیں ایسا ماحول بھی فراہم کرنا ہوگا جہاں سرمایہ کاری، جدت، کاروبار اور ٹیکنالوجی بغیر غیر ضروری رکاوٹوں کے آگے بڑھ سکیں۔ انٹرنیٹ کی بہتر دستیابی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ، جدید تعلیمی نصاب اور آئی ٹی اسٹارٹ اپس کے لیے سازگار پالیسی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کھڑی ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے حکومتی امور اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کا ذکر بھی اس سلسلے میں اہم ہے۔ اگر سرکاری نظام زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل ہوجائے تو نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ شفافیت، رفتار اور انتظامی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کا حقیقی فائدہ اسی وقت سامنے آتا ہے جب وہ عام شہری کی زندگی آسان بنائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ گوگل کے دفتر کے قیام کو محض ایک غیر ملکی کمپنی کی موجودگی کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ اسے پاکستان کے مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے ساتھ جوڑنے کی حکمت عملی بنائی جائے۔ پاکستانی یونیورسٹیوں، آئی ٹی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے ایسے پروگرام شروع کیے جائیں جن کے ذریعے عالمی معیار کی ٹیکنالوجی، تربیت اور مارکیٹ تک رسائی ممکن ہوسکے۔ ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں مقابلہ انتہائی تیز ہے۔ جو ممالک آج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر اور جدید مہارتوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ آنے والی دہائیوں کی معاشی سمت طے کریں گے۔ پاکستان کے پاس اس دوڑ میں شامل ہونے کا موقع موجود ہے، مگر یہ موقع مستقل نہیں۔ اگر ہم نے نوجوانوں کو ہنر، اداروں کو جدید نظام اور کاروباری طبقے کو سازگار ماحول فراہم نہ کیا تو آبادی کا نوجوان ہونا بھی معاشی طاقت میں تبدیل نہیں ہوسکے گا۔ گوگل کا پاکستان میں دفتر اس سفر کی ایک اہم دستک ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دستک کے جواب میں ہم اپنے دروازے کتنے وسیع کھولتے ہیں۔ پاکستان کو صرف صارفین کی منڈی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ہنرمند افراد، اختراع کاروں اور عالمی ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنی شناخت بنانی ہوگی۔ ہمارے نوجوان صلاحیت رکھتے ہیں، دنیا انہیں مواقع دینے کے لیے تیار ہے اور عالمی ٹیکنالوجی ادارے پاکستان میں امکانات دیکھ رہے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، نجی شعبہ اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں مل کر ایسا راستہ بنائیں جہاں پاکستانی نوجوان نوکری تلاش کرنے والے نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔ گوگل کا دفتر اگر اس بڑے سفر کا نقطہ آغاز بن جائے تو یہ صرف ایک دفتر کا افتتاح نہیں ہوگا، بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔
شذرہ۔۔۔
غذائی تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جائے
پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی بڑھتی ہوئی صورتحال محض مہنگائی یا اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا سنجیدہ قومی چیلنج ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں معاشرتی، معاشی اور سلامتی کے شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اگر قریباً 63فیصد آبادی صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تو یہ اعدادوشمار ہمارے معاشی نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہیں۔ غذائی تحفظ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ بازار میں گندم، چاول، چینی یا دیگر اشیا دستیاب ہوں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی انہیں مناسب قیمت پر خرید بھی سکتا ہے یا نہیں۔ بے روزگاری، کم آمدن اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لاکھوں خاندانوں کے لیے متوازن خوراک کو ایک مشکل بنا دیا ہے۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان بچوں اور نوجوانوں کو پہنچ سکتا ہے، جن کی جسمانی نشو و نما، تعلیم اور مستقبل براہ راست مناسب خوراک سے وابستہ ہے۔ پاکستان میں غذائی بحران کی وجوہ بھی ایک سے زیادہ ہیں۔ پیداوار میں اضافہ اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن ذخیرہ اندوزی، کمزور سپلائی چَین، غیر موثر مارکیٹ نظام اور ناقص پالیسیوں نے مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ فصل تیار ہونے کے باوجود اگر صارف تک خوراک مناسب قیمت پر نہ پہنچ سکے تو محض زیادہ پیداوار کسی کام کی نہیں۔ حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل المدت حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ نجی شعبے کو شامل کرتے ہوئے جدید ذخیرہ کاری کا نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت اجناس مارکیٹ میں لائی جاسکیں اور مصنوعی قلت یا غیر معمولی قیمتوں میں اضافے کو روکا جاسکے۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف موثر نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی نمو کی رفتار بڑھانا بھی ضروری ہے۔ جب تک لوگوں کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوگا، سستی خوراک کی دستیابی بھی مکمل حل ثابت نہیں ہوسکتی۔ غذائی تحفظ کو قومی ترجیح بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک بھوکا اور محروم معاشرہ طویل عرصے تک مستحکم نہیں رہ سکتا۔ حکومت، صنعت، کسان اور نجی شعبے کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں خوراک صرف پیدا نہ ہو بلکہ ہر شہری کی پہنچ میں بھی ہو۔ قوموں کی حقیقی طاقت صرف مضبوط معیشت میں نہیں، صحت مند اور مطمئن عوام میں ہوتی ہے۔







