Column

روٹی کی قیمت میں اضافہ کیوں؟

روٹی کی قیمت میں اضافہ کیوں؟
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان میں معیشت کی اصل تصویر جاننے کے لیے ہمیشہ سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس، زرِ مبادلہ کے ذخائر یا ترقی کی شرح کے اعداد و شمار دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس ملک میں معاشی حالات کا سب سے بڑا پیمانہ ہمیشہ روٹی رہی ہے۔ جب مزدور کی جیب میں موجود چند سو روپے شام تک گھر کے چولہے کو روشن رکھنے کے لیے ناکافی ہونے لگیں، جب ایک باپ کو اپنے بچوں کی تعداد کے مطابق روٹیاں خریدتے وقت حساب لگانا پڑے اور جب تنخواہ دار طبقہ مہینے کے آخری دنوں میں خوراک کے اخراجات کم کرنے پر مجبور ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مہنگائی صرف معاشی اصطلاح نہیں رہی بلکہ ایک سماجی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ روٹی انسان کی بنیادی غذائی ضرورت ہے جسے غلط حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے عوام سے دور کیا جا رہا ہے۔
گندم کی فصل کو اترے صرف ڈھائی تین ماہ ہوئے ہیں لیکن آج پاکستان میں روٹی ایک مرتبہ پھر بحران کی علامت بن چکی ہے۔ لاہور میں تنور مالکان کی جانب سے روٹی کی قیمت سولہ روپے سے بڑھا کر پچیس روپے اور نان کی قیمت تیس روپے سے پینتیس روپے کرنے کا اعلان محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کی خوراک سے متعلق پالیسیوں میں کہیں نہ کہیں کوئی بنیادی خرابی موجود ہے۔ سوال یہ نہیں کہ روٹی کتنے کی ہو گی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں دو وقت کی روٹی بھی اب ایک معاشی آسائش بنتی جا رہی ہے؟
حکومت اور محکمہ خوراک پنجاب کا موقف ہے کہ فلور ملز کو چالیس کلو گندم صرف 3800روپے میں فراہم کی جا رہی ہے اور مستقبل میں گندم کی قیمت مزید کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر ایک نہایت اہم اور تکلیف دہ سوال جنم لیتا ہے۔ آخر وہ گندم جو حکومت کے مطابق رعایتی نرخوں پر فلور ملز کو دی جا رہی ہے، وہ عوام تک پہنچتے پہنچتے اتنی مہنگی کیسے ہو جاتی ہے؟ اگر خام مال سستا ہے تو آٹا مہنگا کیوں ہے؟ اگر گندم پر سبسڈی موجود ہے تو روٹی عوام کی دسترس سے باہر کیوں جا رہی ہے؟
یہاں ایک اور سوال بھی حکمرانوں کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ کیا حکومت نے پٹرول مافیا، ادویات مافیا، بجلی اور گیس مافیا کے بعد اب فلور ملز مافیا کے سامنے بھی گھٹنے ٹیک دیے ہیں؟ اگر حکومت کے بقول فلور ملز کو سستی گندم مل رہی ہے اور اس کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے تو پھر یا تو حکومتی دعویٰ درست نہیں یا پھر حکومتی رٹ کہیں کمزور پڑ چکی ہے۔ دونوں صورتیں عوام کے لیے تشویش ناک ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ حکومت کا زور کمزور طبقوں پر چلتا ہے جبکہ طاقتور مافیاز قانون سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔ انتظامیہ غریب نان بائیوں، چھوٹے تنور مالکان اور ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائیاں کر کے وقتی طور پر خبروں کی زینت تو بن جاتی ہے، مگر فلور ملز، ناجائز منافع خوروں اور بڑے تجارتی حلقوں تک اس کی رسائی کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ بحران پیدا کرنے والوں کے بجائے بحران کے آخری سرے پر کھڑے افراد کو سزا دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تنور مالکان کے مسائل کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آٹے کے علاوہ گیس، بجلی، ایل پی جی، لکڑی، مزدوری، کرایوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت صرف سرکاری نرخ مقرر کر دے اور پیداواری لاگت کو نظر انداز کر دے تو کاروبار کرنے والے طبقے کے لیے مشکلات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر اضافی بوجھ براہ راست صارف پر منتقل کر دیا جائے۔
پاکستان دنیا کے گندم پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن گندم پیدا ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود آٹے کا بحران ہماری معیشت کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ کسان فصل کی کم قیمت کا رونا روتا ہے، فلور ملز خام مال مہنگا ہونے کی شکایت کرتی ہیں اور آخر میں صارف مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر ہر فریق نقصان میں ہے تو پھر فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کیے بغیر مسئلے کا حل ممکن نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ گندم سے روٹی تک کے سفر میں کئی ایسے مراحل موجود ہیں جہاں غیر ضروری منافع، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت قیمتوں کو بڑھا دیتی ہے۔ فصل کی کٹائی کے موسم میں بڑی مقدار میں گندم خرید کر گوداموں میں ذخیرہ کر لی جاتی ہے اور بعد میں اسے زیادہ قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ حکومت پاسکو یا محکمہ فوڈ کے ذریعے جب تک مناسب مقدار میں گندم خریدتی رہی تب تک یہ بحران زیادہ شدید نہیں ہو پاتا تھا۔ حکومت نے گندم کی سرکاری خریداری میں بڑی کمی کر کے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر سال بحران پیدا ہوتا ہے، شور مچتا ہے، کمیٹیاں بنتی ہیں اور پھر اگلے سال وہی بحران دوبارہ جنم لے لیتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے خوراک کی بنیادی اشیاء کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹریکنگ، سپلائی چین مانیٹرنگ اور شفاف سٹوریج نظام متعارف کرا رکھے ہیں۔ پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ گندم کی خریداری سے لے کر فلور ملز اور پھر مارکیٹ تک اس کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت لایا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سبسڈی والی گندم کہاں جا رہی ہے اور اس کا اصل فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔
ایک اور اہم پہلو زرعی پالیسی میں عدم تسلسل ہے۔ کبھی گندم درآمد کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے، کبھی برآمد کی اجازت دی جاتی ہے، کبھی امدادی قیمت کا اعلان تاخیر سے ہوتا ہے اور کبھی سرکاری خریداری محدود کر دی جاتی ہے۔ ان غیر یقینی پالیسیوں کا سب سے بڑا نقصان کسان اور صارف دونوں کو اٹھانا پڑتا ہے جبکہ فائدہ ہمیشہ درمیانی کردار ادا کرنے والے حلقوں کو پہنچتا ہے۔
مہنگائی کا مسئلہ صرف روٹی تک محدود نہیں رہا۔ بجلی، گیس، پٹرول، ادویات، تعلیمی اخراجات اور ٹرانسپورٹ پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک مزدور یا کم تنخواہ پانے والے شخص کے لیے روزانہ دس یا پندرہ روپے کا اضافہ معمولی نہیں ہوتا۔ اگر ایک خاندان روزانہ بیس روٹیاں استعمال کرتا ہے تو صرف پانچ روپے اضافے سے ماہانہ تین ہزار روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے، جو بہت سے خاندانوں کے لیے ایک بچے کی فیس، بجلی کے بل یا مہینے بھر کی ادویات کے برابر ہے۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری صرف بڑے ترقیاتی منصوبے بنانا یا معاشی کامیابیوں کے دعوے کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری کا خلاصہ ہیں۔ اگر روٹی ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگے تو معاشی ترقی کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر فلور ملز، ذخیرہ اندوزوں اور سپلائی چین کے تمام مراحل کا شفاف آڈٹ کروائے، سبسڈی والی گندم کی نقل و حرکت کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کرے، ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور تنور مالکان کے لیے توانائی کے اخراجات میں مناسب ریلیف فراہم کرے تاکہ قیمتوں کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل نہ ہو۔
روٹی صرف آٹے اور پانی سے تیار ہونے والی ایک غذا نہیں، یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا پیمانہ بھی ہے۔ جب ایک ملک میں روٹی مہنگی ہوتی ہے تو صرف دسترخوان نہیں سکڑتے بلکہ عوام کے صبر اور اعتماد کا دائرہ بھی محدود ہونے لگتا ہے۔ حکومتوں کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تاریخ میں کئی بڑے سیاسی بحرانوں کی ابتدا بھی روٹی کے سوال سے ہوئی تھی، کیونکہ بھوکے پیٹ کو معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ صرف روٹی کی قیمت یاد رہتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button