ColumnQadir Khan

تاج محل سے آگے، ایک عمارت نہیں ایک عہد کٹہرے میں ہے

تاج محل سے آگے، ایک عمارت نہیں ایک عہد کٹہرے میں ہے
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
تاج محل کی سفیدی میں ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ یہ خاموشی صرف سنگ مرمر کی نہیں، تاریخ کی بھی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والا سیاح جب اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے ایک مقبرہ، ایک یاد، ایک فن پارہ اور ایک تہذیب ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ مگر جنوبی ایشیا کی تازہ سیاست نے اس خاموشی کے اندر شور بھر دیا ہے۔ اب تاج محل صرف محبت کی علامت نہیں رہا۔ وہ ایک سوال بن گیا ہے۔ ایسا سوال جس میں تاریخ بھی شامل ہے، مذہب بھی، ریاست بھی، اکثریت بھی، اقلیت بھی، اور وہ عالمی ضمیر بھی جو یہ دیکھ رہا ہے کہ ایک ملک اپنے ماضی کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ تاج محل کے بارے میں ایک بار پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم عہد کی عمارتوں اور عبادت گاہوں کو بار بار شک، دعوے، سروے اور نئی تعبیر کے دائرے میں کیوں لایا جا رہا ہے۔ اگر یہ بحث صرف ایک عمارت تک محدود ہوتی تو اسے ایک مخصوص تاریخی تنازع کہہ کر الگ رکھا جا سکتا تھا۔ مگر جب ایک کے بعد ایک ایسی جگہیں موضوعِ بحث بننے لگیں جو مسلم تشخص، مسلم تاریخ یا مسلم تہذیبی موجودگی کی علامت رہی ہوں، تو پھر یہ محض آثار قدیمہ کا معاملہ نہیں رہتا۔ پھر یہ ریاستی مزاج، اجتماعی نفسیات اور مذہبی مساوات کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
تاج محل کے بارے میں ’’ تیجو مہالیہ‘‘ کا دعویٰ نیا نہیں ہے۔ اس کی جدید بنیاد ایک پرانے نظریے میں ملتی ہے جسے کئی دہائیاں پہلے پیش کیا گیا اور جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ تاج محل دراصل ایک ہندو عبادت گاہ یا قدیم راجپوت عمارت تھی۔ جب کہ مغل دو رسے قبل فن تعمیر کی ایسی مثال کہیں نہیں ملتی۔ دستیاب تحقیقی مواد اور مرکزی علمی رائے اس دعوے کو مضبوط تاریخی ثبوت سے خالی سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے علمی حلقوں میں قبولیت نہیں ملی، مگر سیاسی فضا میں اس کی گونج باقی رہی۔ یہاں سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعض دعوے تاریخ کی طاقت سے زندہ نہیں رہتے، بلکہ سیاست کی ضرورت سے چلتے رہتے ہیں۔ تازہ قانونی صورت حال نے اسی پرانے دعوے کو نئی جان دی ہے۔ جولائی 2026ء کی رپورٹوں کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکز اور آثارِ قدیمہ کے متعلقہ ادارے سے جواب طلب کیا ہے اور تاج محل سے متعلق ایک درخواست پر ان کا موقف مانگا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے خطے میں قانونی عمل کو اکثر سیاسی اعلان بنا دیا جاتا ہے۔ ایک درخواست داخل ہوتی ہے اور یوں پیش کی جاتی ہے جیسے پوری تاریخ اپنی جگہ چھوڑ کر ایک نئے بیانیے کے سامنے سر جھکا چکی ہو۔ ، شواہد سے نہیں۔
اگر تاج محل کا معاملہ اکیلا ہوتا تو شاید اس کی شدت کم محسوس ہوتی۔ مگر 2019ء کے بابری مسجد فیصلے نے ایک ایسی فضا ہموار کی جس نے ہندو انتہا پسندی کو شہ دی کہ قانونی راستوں سے تاریخی عمارتوں کا تشخص بدلا جا سکتا ہے۔ گیان واپی اور بھوج شالہ جیسے مقدمات اسی رجحان کا حصہ ہیں، جو دراصل بھارت کے نام نہاد سیکولر آئین کے صریح خلاف ہیں۔ اس سے یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ مسلم تشخص کو ہندو شناخت کے فریم میں دوبارہ پیش کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔ 1991ء کا پلیسز آف ورشپ ایکٹ اسی لیے بنایا گیا تھا کہ 1947ء کی سطح پر عبادت گاہوں کی حیثیت برقرار رہے، مگر حالیہ پیش رفت بتاتی ہے کہ اس قانونی تحفظ کے گرد گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں تاج محل کا تنازع ایک مقامی خبر سے نکل کر عالمی انسانی حقوق کی بحث میں داخل ہو جاتا ہے۔ جب کسی ملک میں ایک مخصوص مذہبی اقلیت کی تاریخی علامتیں ہی بار بار دعوے اور انکار کا نشانہ بنیں تو اس اقلیت کے اندر یہ احساس پیدا ہونا فطری ہے کہ معاملہ صرف عمارتوں کا نہیں، اس کی یادداشت اور مقام کا بھی ہے۔ عمارتیں بولتی نہیں، مگر ان کے بارے میں اٹھنے والے سوال بہت کچھ کہہ دیتے ہیں۔ اگر ایک کمیونٹی کو بار بار یہ سننا پڑے کہ اس کی موجودگی کے نشان بھی مشکوک ہیں، تو وہ صرف قانونی بے چینی محسوس نہیں کرتی، وہ اپنے شہری وقار کے بارے میں بھی فکر مند ہوتی ہے۔
اسی لیے عالمی ادارے اس مسئلے کو صرف داخلی سیاست کی عینک سے نہیں دیکھتے۔ یونیسکو کے مطابق تاج محل ایک عالمی ثقافتی ورثہ ہے اور اسے مغل عہد کی ایک عظیم تعمیر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاج محل صرف بھارت کی داخلی تاریخ کا حصہ نہیں، عالمی انسانی تہذیب کی مشترک میراث بھی ہے۔ جب ایسی عمارت کو بار بار شناختی کش مکش کے مرکز میں لایا جاتا ہے تو دنیا اسے محض ایک قومی تنازع نہیں سمجھتی، بلکہ ایک ایسے امتحان کے طور پر دیکھتی ہے جس میں یہ پرکھا جاتا ہے کہ کیا جدید ریاستیں اپنے پیچیدہ ماضی کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتی ہیں یا نہیں۔
یہ بحث صرف ورثے تک محدود نہیں۔ مذہبی آزادی کے بین الاقوامی جائزوں میں بھی بھارت کے بارے میں تشویش دیکھی گئی ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF)نے 2026ء میں بھی یہ موقف دہرایا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورت حال تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتے دبائو، امتیازی قوانین اور ہراسانی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بھارت کے بارے میں عالمی سطح پر یہ سوال بڑھ رہا ہے کہ کیا وہاں اکثریتی قوم پرستی نے مسلمانوں کے لیے دائرہ تنگ کر دیا ہے؟ تاج محل جیسے تنازعات اسی بڑے سوال کے اندر جا کر معنی پیدا کرتے ہیں۔ ایک طرف بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کہتا ہے، دوسری طرف ریاستی ادارے اکثریتی انتہا پسندی کے سامنے بے بس یا خاموش نظر آتے ہیں۔ اگر سوالات مسلسل ایک ہی کمیونٹی کے آثار اور تاریخی نشانوں کے گرد گھومتے رہیں تو ان کی نوعیت محض تحقیقاتی نہیں رہتی، بلکہ وہ ایک متعصب سماجی فضا کا حصہ بن جاتے ہیں۔
تاج محل کا مقدمہ صرف تاج محل کا مقدمہ نہیں۔ یہ اس سوال کا مقدمہ ہے کہ کیا ایک ملک اپنے ماضی کے ان ابواب کے ساتھ بھی انصاف کر سکتا ہے جو اس کی موجودہ اکثریتی سیاست کے لیے آسان نہیں۔ یہ اس سوال کا مقدمہ ہے کہ کیا عالمی ورثہ سیاسی مہموں سے بڑا رہ سکتا ہے۔ یہ اس سوال کا مقدمہ ہے کہ کیا مسلمانوں کو بطور شہری اور تہذیبی حصہ برابر کا حقِ موجودگی حاصل ہے یا نہیں۔ اگر ان سوالوں کا جواب دیانت سے نہ دیا گیا تو نقصان صرف ایک برادری کا نہیں ہوگا، بلکہ اس اجتماعی اخلاقیات کا ہوگا جس پر جدید دنیا نے مذہبی آزادی اور شہری مساوات کی بنیاد رکھی ہے۔ تاج محل آج بھی اپنی جگہ قائم ہے، مگر اصل خطرہ عمارت کو نہیں، اس سماج کو ہے جو اپنے ہی ماضی کے ساتھ لڑتے لڑتے اپنے حال کی انصاف پسندی کھو بیٹھتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button