ColumnRoshan Lal

رضا ڈار کے میڈیا پرسن وکلا صفائی

رضا ڈار کے میڈیا پرسن وکلا صفائی
تحریر : روشن لعل
ابلاغ کی دنیا پر نظر رکھنے والے پاکستانیوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو ’’ رضا ڈار ‘‘ اور اس کی وجہ شہرت سے آگاہ نہ ہو۔ رضا ڈار کی وجہ شہرت صرف وہ مقدمہ نہیں جس کے تحت اسے گرفتار کیا گیا بلکہ اس ملک کے بااثر حکمران خاندان کے ساتھ اس کا مبینہ تعلق بھی ہے۔ رضا ڈار کے متعلق جس خاندان کا فرد ہونے کی خبریں نشر ہوئیں ، اس خاندان کے ساتھ اس کے تعلق کو اس لیے مبینہ کہا گیا کیونکہ کچھ میڈیا پرسنز نے اس کا وکیل صفائی بن کر نہ صرف اس کا خاندانی پس منظر بلکہ اس پر عائد الزام کو بھی مبہم بنا نے کی کوشش کی ہے۔ جن میڈیا پرسنز نے رضا ڈار کے وکیل صفائی کا کردار ادا کیا ان میں سے ایک صاحب وہ ہیں جو تب کرپشن کے خلاف انتہائی سرگرم نظر آئے جب عمران خان کا توشہ خانہ سکینڈل منظر عام پر آیا تھا۔ رضا ڈار کے دوسرے وکیل صفائی وہ میڈیا پرسن اور یو ٹیوبر ہیں جن کی پنجاب کے حکمرانوں کے ساتھ فرمانبردار دوستی کی کہانیوں کے علاوہ یہ بھی مشہور ہے کہ کوئی ٹوتھ پیسٹ کمپنی انہیں مفت میں بھی اپنی تشہیری مہم کا حصہ نہیں بنا سکتی۔ سوشل میڈیا پر جس تیسرے یو ٹیوبر کو رضا ڈار کا درپردہ وکیل صفائی قرار دیا جارہا ہے ، اس کے متعلق یہ خبر زیر گردش ہے کہ وہ کسی مغربی ملک میں پاکستان کا سفیر نامزد ہونے کے لیے پر تول رہے ہیں۔
سطور بالا میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ تحقیقی صحافت کرتے ہیں۔ ان تینوں صاحبان نے رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں پر عائد الزامات کے حوالے سے قبل ازیں زیر گردش متضاد کہانیوں میں کوئی ایسی خفیف پیش رفت کرنا بھی مناسب نہ سمجھا جس سے ان کے محقق صحافی ہونے کے تاثر کو تقویت ملے۔ ان تینوں کی جانب سے جو کچھ الگ الگ کہا گیا اس کا مرغولہ یہ ہے کہ رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں پر عائد الزامات کا معاملہ ان کی کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے جڑا ہوا ہے۔ اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب رضا ڈار دو غیر ملکی خواتین سے سنگا پور میں ملا۔ سنگا پور میں دونوں خواتین اور رضا ڈار کے درمیان کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی۔ رضا ڈار اور اس کے دوستوں نے کرپٹو کرنسی میں کاروبار کے لیے لڑکیوں کو ڈالروں میں ادائیگی کی۔ ان دونوں فریقوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والا منافع آپس میں تقسیم کیا جائے گا ۔یہ باتیں طے کرنے کے بعد رضا ڈار اپنی ساتھیوں سمیت پاکستان واپس آگیا۔ اس کے بعد خواتین نے رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں کو نہ تو منافع ادا کیا اور نہ ہی ان کی فون کالز اور مسیجز کا جواب دیا۔ ایسا ہونے پر رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں نے خواتین کو مزید سرمایہ کاری کے لیے ڈالر فراہم کرنے کا لالچ دے کر پاکستان بلایا۔ جب یہ لڑکیاں پاکستان آگئیں تو ان سے یہ کہا گیا کہ کرپٹو کرنسی میں قبل ازیں کی گئی ان کی سرمایہ کاری واپس کرو، ورنہ انہیں پاکستان سے واپس نہیں جانے دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے لڑکیوں کو پاکستان میں روکنے کی دھمکی دی ۔ لڑکیوں نے جب یہ دیکھا کہ رضا ڈار اور اس کے دوست اپنی رقم واپس مانگ رہے ہیں تو انہوں نے ان پر اغوا اور زنا بالجبر کا الزام عائد کر دیا اور پھر سرمایہ کاری کی مد میں لی ہوئی رقم واپس کیے بغیر بیرون ملک روانہ ہو گئیں۔ گوکہ رضا ڈار ، ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار کا عزیز ہے لیکن، ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ مختلف یوٹیوبرز کی بیان کردہ کہانیوں کو یکجا کر کے بیان کی گئی جس کہانی کو رضا ڈار کی وکالت قرار دیا جارہا ہے اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آرہی جس سے ان لوگوں کو کوئی قانونی فائدہ پہنچ سکی جن پر غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا اور زنا بالجبر کا الزام ہے۔ اس بات میں وزن ہے کہ مذکورہ کہانی میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے رضا ڈار کا زیادہ فائدہ ہونا ممکن نظر نہیں آتا لیکن اس معاملے میں غور طلب نکتہ یہ نہیں کہ کیا کہا گیا ہے بلکہ یہ ہے جو کچھ مزید کہا جانا چاہیے تھا ، نام نہاد محقق صحافیوں نے اسے کہنے سے احتراز کیوں کیا۔
جو بات کہی جانی چاہیے وہ یہ ہر گز نہیں ہے کہ رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں پر عائد الزام سنگین ہونے کے باوجود انہیں سزا ہونا اس وجہ سے ناممکن حد تک مشکل ہے کیونکہ ایک طرف اس کا تعلق اسحاق ڈار فیملی سے اور دوسرا مدعی خواتین کی پیروی کی یہاں کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ رضا ڈار کے معاملے میں جو بات کرنے سے یہاں احتراز کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں جب ڈیجیٹل کرنسی میں کاروبار کی مانیٹرنگ کے لیے شہباز
شریف حکومت کا 2025 ء میں بنایا گیا ورچوئل ایسٹس ریگولیٹر ی اتھارٹی(Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority) کے نام سے بنایا گیا ادارہ موجود ہے تو ملک کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور مالیاتی امور کے سب سے بڑے ماہر سمجھے جانے والے اسحاق ڈار کے انتہائی قریبی عزیز رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں نے بیرون ملک کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے لیے اس ادارے کا میکنزم کیوں استعمال نہیں کیا۔ واضح رہے کہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس صرف اندرون ملک نہیں بلکہ بیرون ملک پاکستانیوں کی کرپٹو یا دوسری ڈیجیٹل کرنسیوں میں سرمایہ کاری کو مانیٹر کرنے کا مینڈیٹ بھی موجود ہے۔ اسحاق ڈار صاحب کے قریبی عزیز رضا ڈار نے نہ تو کرپٹو کرنسی بزنس میں بیرون ملک سرمایہ کاری کرتے وقت ، ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا میکنزم استعمال کرنا ضروری سمجھا اور نہ ہی اپنے ساتھ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ضمن میں ہونے والے مبینہ فراڈ کے لیے اس ادارے کو اپنی شکایت درج کرانے کے قابل سمجھا۔ واضح رہے کہ ورچوئل کرنسی میں سرمایہ کاروں کے ساتھ اگر اندرون یا بیرون ملک کوئی فراڈ ہو تو داد رسی کے لیے ان کے پاس صرف ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نہیں ایف آئی اے بھی سے رجوع کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں نے نہ جانے کس کے بل بوتے پر مبینہ فراڈ کی داد رسی کے لیے ریاست پاکستان کے کسی ادارے پر اعتماد کرنے کی بجائے، غیر ملکی لڑکیوں کو خود ہی پولیس، وکیل اور جج بن کر ڈیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جن لوگوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری جیسے معاملات میں ہونے والے فراڈ کی داد رسی کے لیے پاکستان کے اداروں پر اعتماد نہ ہو ، وہ ایسے فراڈوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے بین الاقوامی اداروں سے بھی رجوع کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ جس رقم سے سرمایہ کاری کی گئی وہ کالا دھن نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رضا ڈار اور اس کے دوستوں نے جو رقم کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی، کہیں وہ کالا دھن تو نہیں تھی۔ رضا ڈار کے کیس میں یہ سوال بہت اہم ہے لیکن جو میڈیا پرسن اس کے وکیل صفائی بنے ہوئے ہیں وہ اس قسم کے سوال کبھی نہیں اٹھائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button