بارش رحمت بھی، آزمائش بھی: موسمیاتی تبدیلی کے دور میں ہماری تیاری کتنی؟

بارش رحمت بھی، آزمائش بھی: موسمیاتی تبدیلی کے دور میں ہماری تیاری کتنی؟
غلام مصطفیٰ جمالی
مون سون کی بارشیں پاکستان کے لیے ہمیشہ امید، خوشحالی اور زرعی ترقی کی علامت رہی ہیں۔ کسان ان بارشوں کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ یہی بارشیں کھیتوں کو سیراب کرتی ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بناتی ہیں اور ماحول کو تازگی عطا کرتی ہیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہی بارشیں رحمت کے ساتھ ساتھ آزمائش کا روپ بھی دھار چکی ہیں۔ غیر معمولی موسمی تبدیلیوں، ناقص شہری منصوبہ بندی، کمزور انفراسٹرکچر اور حفاظتی انتظامات کی کمی کے باعث ہر مون سون کے دوران قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں، ہزاروں خاندان متاثر ہوتے ہیں اور قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
حالیہ مون سون بارشوں نے ایک بار پھر ملک کے مختلف حصوں میں تباہی کی داستان رقم کی ہے۔ شدید بارشوں، سیلابی صورتحال، آسمانی بجلی گرنے اور مکانات کی چھتیں و دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں کم از کم چودہ افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ سوات کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اٹک میں دیوار اور چھت گرنے سے تین افراد جاں بحق ہوئے، لنڈی کوتل میں آسمانی بجلی گرنے سے معصوم بچوں کی زندگیاں ختم ہو گئیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی بارشوں نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ یہ واقعات محض خبریں نہیں بلکہ ایسے سانحات ہیں جو متاثرہ خاندانوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔
اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، مردان، ہری پور، ایبٹ آباد، خضدار، عوب، کوہلو، صوابی اور کراچی سمیت کئی شہروں میں شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، سڑکیں تالاب بن گئیں اور معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو گئے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارے بیشتر شہر ابھی تک شدید بارشوں کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں موسم کے انداز بدل رہے ہیں۔ کہیں شدید گرمی، کہیں خشک سالی، کہیں جنگلات میں آگ اور کہیں غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ پاکستان اگرچہ عالمی کاربن اخراج میں بہت کم حصہ رکھتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بارشوں کی شدت اور غیر متوقع موسم نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
سال 2022ء کی تباہ کن سیلابی صورتحال ابھی تک قوم کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی، جب ملک کا ایک بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا، لاکھوں گھر تباہ ہوئے، کروڑوں افراد متاثر ہوئے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اس سانحے کے بعد توقع تھی کہ مستقبل کے لیے مضبوط منصوبہ بندی کی جائے گی، لیکن حالیہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے۔
شہری علاقوں میں نکاسی آب کا ناقص نظام سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ معمول سے کچھ زیادہ بارش ہوتے ہی سڑکیں پانی میں ڈوب جاتی ہیں، ٹریفک جام معمول بن جاتا ہے اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نالوں کی بروقت صفائی نہ ہونا، غیر قانونی تجاوزات، ناقص سیوریج نظام اور غیر منصوبہ بند شہری آبادی ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں میں مستقبل کی موسمی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے تو ان مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہوتی ہے۔ شدید بارشوں سے کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، مویشی ہلاک ہوتے ہیں، دیہات کا شہروں سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اور غریب کسان معاشی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، اس لیے بارشوں اور سیلاب سے ہونے والا نقصان صرف کسان کا نہیں بلکہ پوری قومی معیشت کا نقصان ہوتا ہے۔
این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں نے ممکنہ سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کے حوالے سے بروقت الرٹ جاری کیے ہیں، جو خوش آئند اقدام ہے۔ تاہم صرف الرٹ جاری کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر موثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ مقامی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور عوام کے درمیان بہتر رابطہ، بروقت انخلا اور ہنگامی امدادی نظام ہی جانی نقصان کو کم کر سکتا ہے۔
سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہر سال کئی سیاح دریا، جھیل یا برساتی ریلوں کے قریب لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ متعلقہ اداروں کو خطرناک مقامات پر واضح انتباہی بورڈ، حفاظتی باڑ، تربیت یافتہ عملہ اور مثر نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے۔
عوام کی ذمہ داری بھی نہایت اہم ہے۔ موسم کی پیش گوئی اور سرکاری ہدایات کو سنجیدگی سے لینا، بچوں کو برساتی نالوں کے قریب نہ جانے دینا، کمزور عمارتوں سے دور رہنا، غیر ضروری سفر سے گریز کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اداروں سے تعاون کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ قدرتی آفات کے دوران احتیاط ہی سب سے موثر تحفظ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بارشوں سے پہلے نالوں کی صفائی، ڈیموں کی دیکھ بھال، شہری منصوبہ بندی، مضبوط انفراسٹرکچر، جدید موسمیاتی پیش گوئی، ہنگامی مراکز اور ریسکیو اداروں کی استعداد کار میں مزید اضافہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن بہتر منصوبہ بندی، بروقت تیاری، مضبوط اداروں اور ذمہ دار شہری رویوں کے ذریعے ان کے نقصانات میں نمایاں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی شدید بارشوں کا سامنا کرتے ہیں، مگر وہاں بہتر منصوبہ بندی اور موثر انتظامی نظام کے باعث جانی نقصان نسبتاً کم ہوتا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔
بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کے لیے تیار ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم آج بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھ سکے تو ہر آنے والا مون سون نئے سانحات اور نئے نقصانات کی داستان سنائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے، ماہرین، میڈیا اور عوام سب مل کر ایک ایسی حکمت عملی اپنائیں جو بارش کو رحمت ہی رہنے دے، آزمائش نہ بننے دے۔ یہی قومی ذمہ داری بھی ہے اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی۔




