بشریٰ انصاری ، قدم بڑھائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشریٰ انصاری ، قدم بڑھائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشن لعل
بشریٰ انصاری کا شمار ہمارے ملک کے ان چندمعروف فنکاروں میں ہوتا ہے ، جن کے متعلق کچھ کہنے سے قبل ان کا تعارف کرانا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔اس بات پر حیرانی کا اظہار کیاجاسکتا ہے کہ ’’ قدم بڑھائو‘‘ جیسا نعرہ ، جو سیاسی رہنمائوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے بولا جاتا ہے اسے بشریٰ انصاری کے ساتھ جوڑ کر اس تحریر کا عنوان کیوں بنایا گیا ہے۔بشریٰ انصار ی کو ’’ قدم بڑھانے ‘‘ کی درخواست کرنے کی وجہ ان کا ہ بیان بنا،جس کا لب لباب یہ ہے کہ پنجاب حکومت کے لاہور میں کیے گئے ترقیاتی کام اپنی مثال آپ ہیں لہذا پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو کراچی میں بہتر شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے پنجاب حکومت کی پیروی کرنی چاہیے۔ بشریٰ انصاری کا کچھ ماہ قبل سوشل میں پر وائرل ہونے والا مذکورہ بیان راقم کی نظرسے نہیں گزرا تھا۔اس بیان سے آگاہی اس وقت ہوئی جب پیپلز پارٹی کے لوگوں نے بشریٰ انصاری کو پنجاب حکومت کی تعریف اور سندھ حکومت کی بد گوئی کرنے پرتنقید کا نشانہ بنایا۔ راقم نے چند ہفتے قبل اداکار سہیل احمد اور وسیم عباس کے کچھ متنازعہ بنا دیئے گئے بیانات پر ہونے والی تنقیدکے حوالہ سے ایک کالم لکھا تھا۔ اس کالم کا حوالہ دے کر کچھ قارئین نے بشریٰ انصاری کے مذکورہ بیان پر تبصرہ کرنے کی فرمائش کی۔ ایسی فرمائش کرنے والوں میں سے کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ بشریٰ انصاری نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے لیے تحفظات کا اظہار کر کے وہی کردار ادا کیا جو ادکارہ وینا ملک تحریک انصاف کے دور حکومت میں مریم نواز پر تنقیدکر کے ادا کرچکی ہیں لہذا ان دونوں اداکارائوں کو ایک دوسرے کا عکس تصور کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ بشریٰ انصاری کے سندھ حکومت کی کارکردگی پر ظاہر کیے گئے تحفظات کے جواب میں پیپلز پارٹی کے حامیوں نے جس لب لہجے میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا وہ ان کی پارٹی کی روایت نہیں ہے لہذا ایسے لوگوں کی سخت الفاظ میں سرزنش کی جانی چاہیے۔ ہمارے ہاں ویسے تو سیاسی جماعتوں میں حقیقی سیاسی کارکن نہ ہونے کے برابر ہیں اورجن کو سیاسی کارکن سمجھا جاتا ہے، ان کی اکثریت پر سوشل میڈیا کا ایسا رنگ چڑھ چکا ہے کہ ان کی غیر مہذب لفاظی دیکھ کر یہ تمیز کرنا ممکن نہیں رہتا کہ کون کس پارٹی کی نمائندگی کر رہا ہے۔
سطور بالا میں یہ بتایا جاچکا ہے کہ بعض لوگوں کو بشریٰ انصاری کی سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی پر تنقید ،اداکارہ وینا ملک کی اس تنقید کے مماثل نظر آئی جوان کے ایکس اکائونٹ کے ذریعے مریم نواز پر کی جاتی رہی۔ چاہے ،کسی اور کو بشریٰ انصاری میں ہو بہو وینا ملک کا عکس نظر آرہا ہو لیکن راقم کی خواہش یہ ہے کہ اگر ماضی کے معروف سوشلسٹ ادیب، مرحوم احمد بشیر کی بیٹی نے دو مختلف صوبوں کی حکومتوں کے ترقیاتی کاموں کا موازنہ کرنا شروع کر دیا ہے پھر انہیں قدم بڑھا کر بلا امتیاز یہ کردار بھارت کے جانے مانے کمیونسٹ شاعر کیفی اعظمی کی بیٹی شبانہ اعظمی کی طرح ادا کرنا چاہیے۔ زیر نظر تحریر میں شبانہ اعظمی اور وینا ملک کے ذکر کے بعد یہ بتایا جاناضروری ہے کہ ان دونوں کا کردار ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہے۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں عمران خان اور عثمان بزدار کے رویوں پر خاموشی اختیار کرنے والی وینا ملک کے ایکس اکائونٹ سے مریم نواز کو بے رحم تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب معروف اینکر وسیم بادامی نے وینا ملک سے ان باتوں کے پس منظر میں سوالات کیے تو جو ، ان کے ایکس اکائونٹ سے مریم نواز کے خلاف سامنے آتی رہیں تو وینا کے رویے سے صاف ظاہر ہوگیا کہ جو کچھ ان کے نام سے منظر عام پر لایا گیا ، وہ اصل میں کسی اور کی سوچ اور خیالات کا عکس تھا۔ مثال کے طور پر وسیم بادامی نے وینا ملک سے پوچھا کہ آپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں مطالبہ کیا کہ عظمت سعید کو حدیبیہ کیس کی انکوائری کرنی چاہیے، کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ عظمت سعید کون ہیں اور حدیبیہ کیس کیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں وینا کے پاس کھوکھلی مسکراہٹ دکھانے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ وینا کے اس رویے سے لوگوں نے یہ اخذ کیا کہ اصل میں وینا ملک نے کسی کو اپنا اکائونٹ مریم نواز کے خلاف کچھ بھی کہنے کے لیے کرایہ پر دے رکھا تھا۔ اب اگر دوسری طرف شبانہ اعظمی کا کردار دیکھا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ انہوں نے اس بات کی پروا کیے بغیر کہ ان کی سرگرمیاں کسی حکومت کے خلاف یا حق میں جائیں گی ، اپنی ترقی پسند سوچ کے مطابق ، ہمیشہ ،کچلے ہوئے پسماندہ طبقات، خواتین اور استحصال زدہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔
اب آتے ہیں، بشریٰ انصاری کی ان باتوں کی طرف جن میں انہوں نے اپنے تئیں پنجاب حکومت کے لاہور میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کو سراہتے ہوئے سندھ حکومت کو کراچی میں بالمثل کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ بشریٰ انصاری کے مذکورہ بیان کے ضمن میں سب سے پہلی بات یہ کہ پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے کہ اس خلاف کچھ نہ کہا جاسکے۔ اس حوالے سے دوسری بات یہ ہے کہ بشریٰ انصاری نے اپنے مطابق اس شعبہ کا ذکر تو کر دیا جہاں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو مسلم ن کی پنجاب حکومت جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے مگر حیرت ہے کہ ان کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کا کوئی ایسا کام نظر نہیں آیا جس کی پیروی کو وہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کے لیے ضروری قرار دیں سکیں۔ سوشلسٹ ادیب مرحوم احمد بشیر ، اپنے قلم کے ذریعے تمام عمر عام لوگوں کے معاشی حقوق کے تحفظ کی وکالت کرتے رہے۔ ن لیگ کی پنجاب حکومت نے اپنے لاکھوں سرکاری ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہوئے ان کو کئی دہائیوں سے ملنے والی گریجوایٹی، پینشن اور لیو انکیشمنٹ میں بھاری کٹوتیاں کرکے جو مالی نقصان پہنچایا اسے صوبائی سرکاری ملازمین کا معاشی قتل قرار دیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے شدید دبائو کے باوجود اپنے ملازمین کے خلاف وہ کام کرنے سے انکار کیا جو پنجاب حکومت نے اپنے ملازمین کا معاشی قتل کرتے ہوئے کیا۔ محترمہ بشریٰ انصاری کو اب آگاہ ہوجانا چاہیے کہ سندھ حکومت کا وہ کون سا کام ہے جس کی پیروی کے لیے وہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت پر زور دے سکتی ہیں۔ اگر بشریٰ انصاری اپنے والد احمد بشیر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شبانہ اعظمی جیسا غیر جانبدار اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو انہیں قدم بڑھا کر پنجاب حکومت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے غصب شدہ معاشی حقوق اسی طرح دوبارہ بحال کرے جس طرح پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے بحال رکھے ہوئے ہیں۔ اگر بشریٰ انصاری اس معاملے میں قدم بڑھانے سے گریز کرتی ہیں تو پھر ان لوگوں کو روکنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا جو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر ان کی تنقید کے بعد انہیں اپنا ایکس اکائونٹ مبینہ طور پر کرایہ پر دینے والی وینا ملک جیسا تصور کر رہے ہیں۔





