امن ہی انسانیت کا مستقبل

امن ہی انسانیت کا مستقبل
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک معمولی غلطی بھی پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی امن کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دئیے تھے۔ ایسے ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’ پراجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ممکنہ تصادم کے خطرات کو وقتی طور پر کم کیا، بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔ یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اس پیش رفت میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کی سفارتی کوششوں کا کردار واضح طور پر سامنے آیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کا خیر مقدم اور ان کا شکریہ ادا کرنا دراصل پاکستان کی اس مستقل پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے مطابق پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کے فروغ کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں نہ صرف صدر ٹرمپ کی جرأت مندانہ قیادت کو سراہا بلکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور برادر ممالک، خصوصاً سعودی عرب کی درخواست پر مثبت ردعمل علاقائی امن کے لیے اہم قدم ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جو اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ مسلم دنیا اس حساس صورتحال میں جنگ کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کو ترجیح دے رہی ہے۔ شہباز شریف کا یہ بیان محض سفارتی آداب نہیں بلکہ ایک وسیع تر وژن کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔ جنگ وقتی فتح تو دے سکتی ہے مگر اس کے نتائج نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ تباہ حال معیشتیں، برباد شہر، بے گھر انسان اور نفسیاتی اذیت میں مبتلا معاشرے جنگ کے وہ زخم ہیں جو برسوں تک نہیں بھرتے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر اس خطے میں کشیدگی بڑھتی یا کسی قسم کی عسکری کارروائی شدت اختیار کرتی تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہ رہتے بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہوتی۔ عالمی معیشت، تیل کی قیمتیں، تجارت اور امن سب خطرے میں پڑ جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں اس بحران پر مرکوز تھیں۔ ’’ پراجیکٹ فریڈم‘‘ کے نام سے شروع کی جانے والی امریکی حکمت عملی نے خطے میں خوف کی فضا پیدا کردی تھی۔ ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے امکانات موجود تھے اور صورتحال کسی بھی وقت خطرناک رخ اختیار کر سکتی تھی۔ مگر ایسے وقت میں سفارت کاری کو موقع دینا اور عسکری منصوبے کو وقتی طور پر روک دینا ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے عالمی امن کے لیے امید کی کرن قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہی موقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں تحمل، مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کے لیے پُرعزم ہے جو پُرامن ذرائع سے مسائل کے حل کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ دراصل پاکستان کے اس ذمے دارانہ کردار کی عکاسی ہے جو وہ عالمی اور علاقائی سطح پر ادا کرتا آیا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں انسانیت کو صرف تباہی دیتی ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے لاکھوں انسانوں کی جانیں لیں، معیشتیں تباہ کیں اور دنیا کو نفرت، خوف اور بربادی کے سوا کچھ نہ دیا۔ آج بھی جہاں کہیں جنگ جاری ہے وہاں بھوک، بے گھری، بیماری اور مایوسی نے انسانی زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں طاقت کے اظہار کو بعض اوقات سیاسی کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جو انسانوں کی جانیں بچائے، امن کو فروغ دے اور دنیا کو استحکام کی طرف لے جائے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے وسائل جنگی تیاریوں کے بجائے تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے اور انسانی فلاح پر خرچ کریں تو دنیا کہیں زیادہ پُرامن اور خوشحال بن سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن سے جڑا معاملہ ہے۔ ایسے میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی ثالثی اور امن کی کوششیں نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ یہ کوششیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ دنیا میں اب بھی ایسے ممالک موجود ہیں جو تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج دنیا کو جنگی نعروں کی نہیں بلکہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ قوموں کی اصل طاقت ہتھیاروں کے انبار میں نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، خوشحال اور پُرامن معاشروں میں ہوتی ہے۔ اگر دنیا واقعی ترقی اور استحکام چاہتی ہے تو اسے نفرت کے بجائے برداشت، تصادم کے بجائے مکالمے اور جنگ کے بجائے امن کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ آخرکار جنگ صرف تباہی لاتی ہے جب کہ امن ہی انسانیت کو بقا، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے۔
بجلی صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر بجلی صارفین کو کسی قسم کا ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو تو یہ یقیناً ایک خوش آئند خبر سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں قریباً 63ارب 94کروڑ روپے کا ریلیف ملنے کا امکان ہے، جو عوام کے لیے کسی حد تک سکون کا باعث بن سکتا ہے۔ نیپرا کے اعلامیے کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں ( ڈسکوز) نے کیلنڈر سال 2026کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے، جس پر 19مئی کو سماعت ہوگی۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے مارچ کے دوران کیپسٹی چارجز کی مد میں 36ارب 83کروڑ 70لاکھ روپے کی کمی ہوئی جب کہ سسٹم استعمال کے چارجز اور مارکیٹ آپریشن فیس میں بھی 11ارب 24کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ انکریمنٹل یونٹس کی مد میں بھی 23ارب 51کروڑ روپے کمی کی درخواست کی گئی ہے۔ اگر نیپرا سماعت کے بعد اس ریلیف کی منظوری دیتا ہے تو یہ فیصلہ لاکھوں صارفین کے لیے مالی دبا میں کچھ کمی لاسکتا ہے۔ خاص طور پر متوسط اور کم آمدن طبقہ، جو گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل بڑھتے ہوئے بجلی نرخوں سے پریشان ہے، اس ریلیف سے کسی حد تک فائدہ اٹھا سکے گا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وقتی ریلیف مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ پاکستان کا توانائی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضوں، لائن لاسز، بجلی چوری اور مہنگے پیداواری معاہدوں جیسے مسائل کا شکار ہے۔ جب تک ان بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، تب تک صارفین کو مستقل ریلیف فراہم کرنا مشکل رہے گا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بجلی کی پیداوار کے سستے ذرائع، قابلِ تجدید توانائی اور مثر انتظامی اصلاحات پر توجہ دیں تاکہ عوام کو مستقل بنیادوں پر سستی بجلی فراہم کی جاسکے۔ نیپرا کی آئندہ سماعت پر اب عوام کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ معاشی حالات میں ہر ممکن ریلیف عوام کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔





