
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کسی بھی صورت میں معمولی اقدام نہیں بلکہ اسے براہِ راست جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا، اور یہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔
انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا یا ان کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی زیادہ سنگین عمل ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ خطے کے امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔
عباس عراقچی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران ہر طرح کے دباؤ اور پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ صرف پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے طریقے جانتا ہے بلکہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنانے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
دوسری جانب، ایران کی جانب سے پاکستان میں مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی یا واضح اشارہ سامنے نہیں آیا۔ اس صورتحال پر پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اب بھی ایرانی حکام کے جواب کا منتظر ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق، پاکستان بطور ثالث اپنا کردار فعال انداز میں ادا کر رہا ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، تاکہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔







