ColumnRoshan Lal

امریکی وسط مدتی الیکشن کے بعد؟

امریکی وسط مدتی الیکشن کے بعد؟

روشن لعل

انتخابات چاہے جس بھی ملک میں ہوں ،ان کے پس پردہ ،اگر فارم 47جیسی کوئی رنگ بازی نہ ہو رہی ہو تو ان کے نتائج پر عام لوگوں کی نئی اور پرانی امیدیں خاص اثر ڈالتی ہیں۔ اگر کسی پارٹی کی لیڈرشپ یا حکومت ، اپنے وعدوں کے مطابق، عام لوگوں کی امیدوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے تو عوام نئے انتخابات میںکسی دوسری پارٹی کے ساتھ نئی امیدیں وابستہ کر کے اپنے ووٹ اس کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے دوران ایسے ہی کچھ ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ فرسٹ اور جنگوں کے خاتمے جیسے نعروں کے تحت صدارتی الیکشن لڑتے وقت ، عوام کو یہ امید دلائی تھی کہ وہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ کسی لاحاصل جنگ میں صرف کرنے کی بجائے عوام کی بہبود پر خرچ کرے گا۔ اس نعرے کے تسلسل میں امریکی عوام نے مزید یہ امیدیں وابستہ کر لیں تھیں کہ جب جنگوں میں جھونکا جانے والا بجٹ ان کی بہبود پر خرچ ہوگا تو نہ صرف امریکہ میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے بلکہ زندگی کے لیے ضروری اشیا کی قیمتیں بھی ان کی پہنچ میں رہیں گی۔نومبر 2024ء میں دوسری مرتبہ صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد ، ٹرمپ ، وسط 2025ء تک جنگوں کے خلاف نعرے بازی کرتا رہا لیکن اس نے 13 جون کو ایران پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کو قابل جواز قرار دے دیا ۔ یہ جنگ جب 12دن جاری رہنے کے بعد ختم ہوئی تو ٹرمپ نے پھر سے جنگوں کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ اس بارہ روزہ جنگ کی وجہ سے ایران میں تو کافی تباہی ہوئی لیکن امریکیوں پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہ ہوئے۔ خود کو جنگوں کا مخالف ظاہر کرنے والے ٹرمپ نے اسرائیل کے 2025ء میں ایران پر کیے گئے حملے کے لیے یہ جواز پیش کیا کہ ایران کو ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے یہ حملہ ضروری تھا۔ ٹرمپ نے 12روزہ جنگ کی خاتمے پر تاثر تو یہ دیا تھا کہ اسرائیلی حملے کی وجہ سے ایران اب ایٹم بم بنانے کے قابل نہیں رہا لیکن فروری 2026ء میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرتے وقت یہ بیان دیا کہ ان کے حملے کا مقصد ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنا ہے۔ یہ جنگ شروع کرتے وقت ایران میں رجیم چینج کا نعرہ بھی لگایا گیا تھا۔ فروری میں شروع کی گئی اس جنگ کے بعد ایران نے جس طرح مزاحمت کی اس کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ ایران میں رجیم چینج کو جس طرح آسان ہدف سمجھا گیا تھا ، وہ امریکہ اور اسرائیل کے اس طرح آسان نہیں ثابت نہیں ہوا۔ ایران میں رجیم چینج تو ممکن نہ ہوسکی مگر خود پر حملوں کے بعد اس نے آبنائے ہرمز کے راستے ، سعودی عرب ، کویت، عراق ، بحرین ، قطر اور یو اے ای کے خام تیل اور گیس کی پوری دنیا کے لیے سپلائی کو ناممکن بنا دیا۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے امریکہ سمیت پوری دنیا میں مہنگائی کی لہر کا آغاز ہوگیا۔ یہ سب کچھ ہونے کے بعد ٹرمپ کے اس قسم کے بیان سامنے آئے کہ کیونکہ ایران کی تمام زیر زمین ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے، لہذا اب امریکہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ امریکہ ، ایران جنگ بندی کے لیے اپریل 2026ء میں مذاکرات کا آغاز ہوا اور جون 2026ء میں اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط کرتے ہوئے دونوں ملکوں نے عبوری جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ا س بات پر اتفاق کیا کہ حتمی جنگ بندی کے لیے مزید بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ جون 2026ء میں طے ہونے والے اسلام آباد میمورنڈم پر کیے گئے دستخطوں کی سیاہی ا بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ جولائی میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے، جنگ دوبارہ شروع کردی۔

جو جنگ امریکہ کے ٹرمپ اور اسرائیل کے نیتن یاہو نے ایران میں رجیم چینج کے لیے شروع کی تھی ، اس جنگ کے دوران آبنائے ہرمز بند ہونے اور باب المندب کے سمندری راستے میں رکاوٹیں آنے کا امکان پیدا ہونے کے بعد امریکہ سمیت پوری دنیا میں صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ بنیادی ضرورتوں میں شامل اشیائے صرف کی قیمتیں بھی آسمان چھونے لگیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پوری دنیا میں خام تیل کی قیمتوں میں 45سے 54فیصد تک اضافہ ہونے کی وجہ سے امریکہ میں گیسولین کی قیمت میں 43.3فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 68.3فیصد سے 100فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ قبل ازیں امریکہ میں معمول کے مطابق دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی شرح زیادہ سے زیادہ 2.4 فیصد تک جاتی تھی لیکن ایران پر حملے بعد وہاں عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں 3.4فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔ ایران پر حملے کے بعد پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیا صرف کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی وجہ سے صرف ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے باسی ہی نہیں بلکہ یورپی ملکوں اور امریکہ کے عوام بھی بلبلا اٹھے۔

ایران پر حملے کے بعد جب پوری دنیا میں عام لوگ ناقابل برداشت مہنگائی کی وجہ بلارہے تھے اس وقت G7کے چند کھرب پتی سرمایہ دار دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹتے رہے۔ آکسفیم انٹرنیشنل کے مطابق توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے دنیا کے چند کھرب پتیوں نے ایران پر حملے کے بعد معمول سے 130بلین ڈالر زیادہ منافع کمایا۔ کئی بلین ڈالر منافع کمانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے سٹاک مارکیٹ حصص میں اس وقت کئی گنا اضافہ ہوا جب ایران ، امریکہ جنگ چند دنوں کے لیے بند ہوئی تھی۔

یہ بات اب پوری دنیا پر عیاں ہو چکی ہے کہ ایران ، امریکہ جنگ کے دوران جب مہنگائی کی وجہ سے پوری دنیا میں عام لوگوں کے لیے جینا دو بھر ہو رہا تھا اس وقت کون چنندہ لوگ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہے تھے۔ جنگ کے دوران ، دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے والے لوگ اس انتہائی مختصر گروہ کے رکن ہیں جس کی سربراہی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایک لاحاصل جنگ شروع کر کے ، دنیا کے چند کھرب پتیوں کو اپنی دولت میں مزید اضافہ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہوءے جن عام امریکیوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے ٹرمپ اور اس کی ریپبلکن پارٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے اپنا رد عمل ظاہر کر دیا ہے۔ ایسا جمہوری سماج جس میں فارم 47جیسے عوامل کا عمل دخل نہ ہو وہاں عوام کے لیے ٹرمپ جیسے حکمرانوں پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے کا یہی طریقہ ہوتا ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی فتح کا جشن منانے والے امریکی عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا رد عمل ظاہر کر کے ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو جو پیغام دیا کیا اس پیغام کو ڈیموکریٹک پارٹی نے واضح طور پر سن لیا ہے اور کیا وسط مدتی الیکشن کے بعد سرمایہ داری نظام کے سرخیل امریکہ میں کے ڈیمو کریٹس کے ساتھ بہتری کی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button