تباہی کے دہانے پر

تباہی کے دہانے پر!!
محمد مبشر انوار
مشرق وسطیٰ کے حالات اس وقت انتہائی سنگینی کا اشارہ دے رہے ہیں کہ اسرائیلی انتخابات میں ایک طرف نیتن یاہو گو کہ اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئے ہیں، لیکن انتخابی طریقہ کار کے مطابق معاملات ایسے نہیں کہ نیتن یاہو اپنی حکومت بنا سکیں، تو دوسری طرف امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں بھی ووٹنگ ہو چکی ہے اور ٹرمپ ؍ ری پبلیکن پارٹی ان انتخابات میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی انتخابات کے حوالے سے چار نومبر کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی، گمان یہی ہے کہ حکومت سازی کی پہلی ترجیح نیتن یاہو کے انتخابی اتحاد کو دی جائے گی کہ وہ اپنی اکثریت ثابت کریں اور ایک سو بیس کے ایوان میں اکسٹھ اراکین کی حمایت ثابت کریں، جو موجودہ صورتحال میں ممکن دکھائی نہیں دیتی کہ ان کے حریف گادی آئزنکوٹ بذات خود نیتن یاہو کے ناقد رہے ہیں اور اقتدار میں آنے کے خواہشمند ہیں تو دوسری طرف عرب جماعتیں اس وقت انتہائی اہم حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور دونوں اتحاد، حکومت سازی کے لئے عرب جماعتوں سے اتحاد کے لئے مجبور ہیں ۔ علاوہ ازیں اگر عرب جماعت سے اتحاد کے علاوہ حکومت سازی کرنے کا ایک ہی طریقہ باقی بچتا ہے اور اس کا امکان بہرکیف رد نہیں کیا جا سکتا کہ نیتن یاہو اور گادی آئزنکوٹ آپس میں کوئی ایسا اتحادی فارمولا طے کر لیں کہ دونوں باری باری اقتدار میں آ سکیں البتہ اس کے لئے یہ اہم ہو گا کہ اقتدار پر پہلے کون براجمان ہوتا ہے۔ اس تناظر میں عرب جماعت کو حاصل ہونے والی اہمیت بالکل صفر ہو جائے گی اور یہودی باہمی مشاورت سے اقتدار کو آپس میں ہی طے کر لیں گے، اس صورتحال سے بہرطور انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سیاست اسی کا نام ہے، اور ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ رہی بات امریکی انتخابات کی تو اس حوالے سے صدر ٹرمپ واضح بھی کر چکے ہیں کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت کو ناکامی ہوتی ہے، اور ڈیمو کریٹس اکثریت میں آ کر ان کے لئے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو صدر ٹرمپ ان کے پیدا کردہ مسائل پر ’’ مسٹر ویٹو‘‘ کا بھرپور کردار ادا کریں گے اور کسی بھی طرح سرنڈر کرنے کی بجائے، کانگریس اور سینیٹ کو زچ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اپنی اس کوشش میں یقینی طور پر فریقین بعد ازاں کسی نہ کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے، جس کے نظائر امریکی نظام میں موجود ہیں۔ میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ کو از خود مستعفی ہو جانا چاہئے کہ جمہوری اقدار کا تقاضہ یہی ہے مگر چونکہ امریکی نظام میں صدر ٹرمپ کا اپنا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہوتا ہے لہذا کانگریس یا سینیٹ میں اکثریت کھونے سے صدر ٹرمپ کی حیثیت نہ متاثر ہوتی ہے اور نہ ہی اس پر کسی قسم کا اثر پڑتا ہے، اس لئے انہیں اپنی مدت صدارت جاری رکھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ الگ بات کہ ڈیمو کریٹس اکثریت حاصل کرنے کے بعد، اور ٹرمپ کے مسٹر ویٹو کا کردار ادا کرنے پر، ٹرمپ کی خواہشات کے برعکس ان سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے، ان کے مواخذے کی تحریک ایسے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سامنے لے آئیں کہ جس کا سامنا ٹرمپ کر ہی نہ سکیں اور ازخود مستعفی ہوجائیں یا مواخذے کی صورت گھر چلے جائیں، بہرحال اس میں وقت تو لگے گا کہ امریکہ میں ذاتی؍ سیاسی انتقام کی بجائے نظام کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ اور نیتن یاہو مسلسل اور تواتر کے ساتھ ایک ہی راگ الاپتے نظر آتے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت ایران کے معاملے میں سرخرو ہو کر نکلنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ مسلسل کوششیں تو کر رہے ہیں لیکن ایران کسی بھی طرح تاحال ان کے قابو نہیں آرہا ہی بلکہ ان کوششوں میں ایک طرف امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنے فوجی اڈوں کو تقریبا نہ صرف گنوا دیا ہے، اپنی ساکھ کو بھی ملیا میٹ کروا چکا ہے۔ دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں گاڑھے اپنے پنجے، بھی تڑوا بیٹھا ہے لیکن اس کے باوجود تاحال ایران کو زیر کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے کہ میدان جنگ میں امریکی شکست نوشتہ دیوا ر ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ کی کوشش ہے کہ کسی طرح ایران کو مذاکرات کی میز پر زیر کر لے جبکہ ایران میدان جنگ میں جیتی ہوئی بازی کو کسی بھی صورت مذاکرات کی میز پر کھونے کے لئے تیار نہیں۔ صدر ٹرمپ ایک طرف ایران کو سخت جنگ کی دھمکیاں دیتے ہیں تو دوسری طرف پس پردہ مذاکرات کو جاری بھی رکھنا چاہتے ہیں اور تیسر ی طرف ان مذاکرات کی آڑ میں ایک مرتبہ پھر ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی تیاریاں بھی کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اپنی فیس سیونگ کی خاطر ایران پر دبائو بڑھانی کے باوجود، ایران کو اپنی شرائط پر معاہدے کے لئے آمادہ نہیں کر پائے کہ ایران اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے کہ اگر امریکہ معاہدہ چاہتا ہے تو ثالثوں کے ذریعہ دئیے گئے سات نکاتی ایجنڈے کو تسلیم کرنے پر ہی مذاکرات ہوسکتے ہیں وگرنہ ایران کسی بھی قسم کی صورتحال کے لئی تیار ہے البتہ اگر اب جارحیت ہوئی تو ایران کسی ریڈ لائن کو خاطر میں نہیں لائے گا اور نہ ہی ایران کا جواب محدود ہو گا بلکہ ایران اپنی مرضی کے محاذ پر امریکہ کو جواب دے گا۔ صورتحال انتہائی گھمبیر دکھائی دیتی ہے اور روایتی جنگ میں امریکہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کہ ایران نے اپنی فضائوں اور سمندروں کو امریکی فضائیہ اور بحریہ کا قبرستان بنا رکھا ہے، امریکی جنگی طیارے ہوں، ڈرونز ہوں یا ہیلی کاپٹرز،ایران کسی بھی حربے ؍ فضائی ہتھیار کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مار گراتا ہے۔ الیکٹرانک وار فیئر کے اس دور میں سب سے بنیادی کامیابی کسی بھی آبجیکٹ کی فریکوئنسی پر قابو پانا ہے اور ایران نے امریکی فضائیہ کے سٹیلتھ طیاروں، مہنگے اور جدید ترین ڈرونز کو نہ صرف فضا میں فریکوئنسی کو ہیک کر کے، تباہ کیا ہے بلکہ جدید ترین ڈرون طیارے کو بحفاظت ایران میں اتار بھی لیا ہے۔ امریکہ کے انتہائی جدید ڈرونز MQ9کی حالت یہ ہے کہ اب تک کی خبروں کے مطابق ایران نے 60کی تعداد میں MQ9ڈرونز تباہ کرکے امریکہ کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے ،امریکہ کا یہ نقصان صرف مالی ہی نہیں ہے بلکہ خبر یہ ہے کہ یہ امریکی ڈرونز، اپنے مقاصد بھی پورے نہیں کر پائے کہ جاسوسی کی غرض سے اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو خاطر خواہ معلومات پہنچانے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ایران کی جانب سے یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے مزید جدید ترین ڈرون MQM 170مکمل طور پر ہیک کرکے، ایران میں بحفاظت اتار لئے ہیں اور توقع ہے کہ ایران ان ڈرون طیاروں کی ریورس انجینئرنگ کر کے، اپنی استعداد میں اضافہ کرے گا۔ اس صورتحال میں امریکہ جس نے ایران پر جارحیت کرتے وقت تین اہداف سامنے رکھے تھے، رجیم چینج، جوھری پروگرام اور افزودہ یورینیم کا حصول، اس میں تاحال امریکہ جزوی طور پر صرف پہلا ہدف حاصل کر پایا ہے کہ ایران کی صف اول کی قیادت کو شہید کر سکا ہے لیکن رجیم چینج کا خواب ادھورا ہے جبکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران عرصہ دراز سے سپریم لیڈر کے فتویٰ پر عمل پیرا ہے اور کہہ چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا، جبکہ افزودہ یورنیم کے حوالے سے ایران نے امریکہ کو دوٹوک جواب دے رکھا ہے کہ نہ تو ایران اپنا افزودہ یورنیم تلف کرے گا، نہ ہی امریکہ یا کسی اور کے حوالے کرے گا کہ یا خالصتا ایران کا اثاثہ ہے اور ایران اپنے اثاثے کو کسی بھی صورت کسی اور کے حوالے نہیں کرے گا۔
یہ تمام صورتحال امریکہ اور اسرائیل کے لئے کسی بھی طرح پسندیدہ دکھائی نہیں دیتی، اور امریکہ و اسرائیل ہر صورت یہ چاہتے ہیں کہ ایران کو زیر کیا جائے، گزشتہ برس بھی امریکہ نے اپنی سی کوشش کی تھی کہ ایران کی جوہری تنصیبات، جو پہاڑوں میں زیر زمین ہیں، پر بنکر بسٹر بم مار کر ان کو تباہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی ایرانی اثاثوں کو بھی ملیا میٹ کیا جا سکے لیکن ایران کی دور اندیشی کام آئی اور امریکہ باوجود یہ کہ بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کے، ایران کے اثاثوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب بھی صورتحال یہی ہے کہ اپنی تمام تر روایتی جارحیت کے باوجود امریکہ ایران کو زیر کرنے میں ناکام رہا ہے اور قریبا تمام امریکی میڈیا اس وقت ایک بات پر نہ صرف متفق دکھائی دیتا ہے بلکہ اس پر کھل کر بات کر رہا ہے کہ وسط مدتی انتخاب کے بعد صدر ٹرمپ، ایران کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ دوسری طرف صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی یہ کہا جارہا ہے کہ وہ انسانی جانوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں بشرطیکہ ایران معاہدہ کر لے وگرنہ امریکہ ایران کو دس منٹ میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان بذات خود اس امر کا اظہار ہے کہ صدر ٹرمپ بہرطور محدود صلاحیت کے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں، جس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ یہ وسط مدتی انتخاب کے بعد ہو گا لیکن امریکہ اس کی ابتداء انتخابات کی رات ہی کر چکا ہے۔ قشم جزیرے پر حملوں کا پھر آغاز ہو چکا ہے، کوہ کلنگ بھی امریکی ہدف ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اگر امریکہ جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطی سمیت جنوب مغربی ایشیا پر بھی ہوں گے، کیا چین اور روس اب بھی جب مشرق وسطی تباہی کے دہانے پر ہے، خاموش رہیں گے؟ ۔







