ColumnImtiaz Aasi

انتقامی سیاست

انتقامی سیاست

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو انتقام سے عبارت ہے۔ حالانکہ سیاست میں ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ریاست پاکستان میں سیاسی اختلافات کو ذاتی اختلاف میں بدلنے کا رواج پڑ چکا ہے۔ سب سے بڑی خرابی یہ پیدا ہو چکی ہے جب کوئی حکومت کسی سیاست دان سے نالاں ہوتی ہے وہ سیاست دان حکومتی عتاب کا شکار ہو جاتا ہے۔ عام طور پر سیاست دان جمہوری روایات کے بڑے دعویٰ دار بنتے ہیں جب کوئی سیاست دان ان کے خلاف کوئی بات کہہ دے تو ایسے سیاست دانوں کو ریاست مخالف کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے اب تک جیتنے ادوار گزرے ہیں کوئی حکومت ایسی نہیں جس نے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں نہیں ڈالا۔ بھٹو کے دور میں چودھری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ بناکر انہیں بلوچستان کی مچھ جیل بھیج دیا گیا۔ بھٹو نے گورنر بلوچستان نواب محمد اکبر خان بگٹی کو بھٹو کو قتل کرنے کو کہا تو انہوں نے جواب دیا وہ ہمارا مہمان ہے۔ جہاں تک عوام کے ساتھ سیاسی رہنمائوں کا رویہ ہے اقتدار میں آنے سے قبل بڑے بڑے وعدے کریں گے اقتدار میں آنے کے بعد وہ تمام وعدے جو انہوںنے غریب عوام کے ساتھ کئے ہوتے ہیں بھلا دیئے جاتے ہیں۔ نگران دور حکومت میں میاں شہباز شریف نے چارسدہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے کپڑے بیچ کر لوگوں کو سستا آٹا مہیا کرنے کا اعلان تو کر دیا مگر وہ اپنا وعدہ ایفا نہ کر سکے۔ آج ہم سیاست دانوں کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سیاسی مخالفین کے ساتھ انتقامی رویے کی بات کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی بات ہے سیاسی مخالفین کو آزاد کشمیر کے دلائی کیمپ میں رکھا جاتا تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر نذیر، مسلم لیگ کے رہنما خواجہ رفیق، نواب محمد احمد خان انہی کے دور میں شہید کر دیئے گئے۔ یہ وہ سیاست دان تھے جنہیں بھٹو صاحب کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ گو جناب ذوالفقار علی بھٹو عوام کے مقبول ترین لیڈر تھے مگر تنقید برداشت کرنے کا ان میں ذرا بھر حوصلہ نہیں تھا۔ بھٹو کی مقبولیت بارے ایک بات مشہور ہے وہ اگر بجلی کے کھمبے کو بھی ٹکٹ دیتے وہ کامیاب ہو جاتا۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے یہاں تک کہ بے نظیر بھٹو کی تصاویر ہیلی کاپٹروں سے پھینکی گئیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں شیخ رشید کے خلاف اس وقت کے گورنر چودھری الطاف حسین نے کلاشنکوف کا مقدمہ قائم کیا اعجاز الحق کے خلاف بھی کلاشنکوف کا مقدمہ درج ہوا۔ نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور آصف علی زرداری کے خلاف مختلف نوع کے مقدمات قائم ہوئے۔ یہ علیحدہ بات ہے سیاست دانوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے خلاف مقدمات ختم کرا لئے ورنہ جن سیاست دانوں نے ان کے خلاف مقدمات بنائے وہ اقتدار میں ہوتے تو مقدمات ختم کرانے والے سیاست دان جیلوں کی ہوا کھا رہے ہوتے۔ اگر کوئی حقیقت سمجھے تو پاکستان کی سیاست مبینہ طور پر کرپشن سے آلودہ ہے جس سیاست دان کو اقتدار میں آنے کا موقع ملتا ہے وہ اثاثے بنانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ عجیب تماشا ہے جب اقتدار میں کوئی ہوتا ہے کرپشن کسی کو دکھائی نہیں دیتا لیکن جونہی کوئی حکومت کے خلاف زبان کھولے اس کے خلاف مقدمات کھل جاتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی جیسے ہی اقتدار سے ہٹایا گیا مقدمات کی بھرمار ہو گئی۔ ملکی تاریخ کا وہ واحد سیاست دان ہے جس کے خلاف تین سو سے زائد مقدمات بنائے گئے ہیں تاہم اس کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہوا ہے بلکہ بڑی جوان مردی سے جیل کاٹ رہا ہے۔ عمران خان کی بہنوں کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں جنہیں ایم پی او کے تحت نظر بند رکھا گیا ہے ۔ آخر انتقامی سیاست کا سلسلہ کب ختم ہو گا۔ آج کل جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن حکومت کی ہٹ لسٹ پر ہیں ان کے خلاف مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی حکومت کے اتحادی تھے کسی کو ان کی کرپشن دکھائی نہیں دی لیکن جیسے ہی انہوں نے حکومت کے خلاف منہ کھولا ہے ان کے خلاف الزامات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ایکس پر کے پی کے کی مشیر اطلاعات محترمہ ثمر بلور کا بیان نظر سے گزارا تو میں سوچوں میں گم ہو گیا۔ مفتی محمود سینٹر پشاور میں کی تعمیرات میں انہیں اراضی کو تجاوز کرنے کی اب خبر ملی ہے ورنہ تو مفتی صاحب کے مرکز کو تعمیر ہوئے برسوں گزر چکے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کا ایک مشہور آستانہ کی اراضی بارے سی ڈی اے کو اب علم ہوا ہے حالانکہ وہ آستانہ کئی عشروں سے قائم ہے۔ تعجب ہے جن جن اداروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ سرکاری اراضی پر تجاوز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے انہیں پوچھا نہیں جا رہا ہے الٹا تجاوز کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کئے جاتے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے صوبے میں کرپشن ہونے کا الزام لگایا ہے جبکہ وزیراعلی ٰ کا دعوی ہے وہ کرپشن کی نشاندہی کریں۔ سوال ہے کرپشن کوئی مرئی چیز تو ہے نہیں جو دیکھی جا سکے۔ رشوت دینے والے عوام کے سامنے لین دین تو نہیں کرتے بلکہ یہ کام تو انڈر ہینڈ ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ جہاں تک مریم نواز صاحبہ کی بات ہے کسی ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی سے معاملات بگڑے ہیں۔ چند ہفتے قبل سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ کا بیان نظر سے گزرا جس میں انہوں نے پنجاب کے محکمہ پولیس کی بعض خواتین افسران کی کرپشن کی بات کی تھی۔ سوال ہے دال میں کچھ تو کالا ضرور ہے جس کی ایک ذمہ دار اور راست باز سابق پولیس افسر نشاندہی کر رہا ہے۔ اگر کوئی کسی محکمہ میں کرپشن کی بات کرئے تو اس میں وزیراعلیٰ کو بھی برہم نہیں ہونا چاہیے بلکہ کرپشن میں ملوث افسران کا سراغ لگانے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ سرکاری محکموں سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

Back to top button