Column

ہم اپنے لئے ہی جیتے رہے، مگر

ہم اپنے لئے ہی جیتے رہے، مگر!

عابد ضمیر ہاشمی

انسان اپنی ذات کے لیے جتنا آسانی سے جیتا ہے، دوسروں کے لیے جینا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنا، اپنی خوشیوں کا خیال رکھنا، اپنی ضروریات پوری کرنا اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنا بظاہر کوئی مشکل کام نہیں، لیکن جب انسان اپنی ذات سے نکل کر کسی دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ، کسی کی خوشی کو اپنی خوشی اور کسی کی ضرورت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے لگتا ہے تو زندگی کے راستے بدل جاتے ہیں۔

اپنے لیے جینے والے انسان کو زیادہ حساب نہیں دینا پڑتا۔ وہ تھکا ہوا ہو تو آرام کر لیتا ہے، پریشان ہو تو خود کو تسلی دے لیتا ہے، بھوکا ہو تو اپنے لیے کھانا تلاش کر لیتا ہے اور تنہا ہو تو اپنی مصروفیات میں پناہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ مگر دوسروں کے لیے جینے والا انسان اپنی تھکن چھپا لیتا ہے، اپنے آنسو پی جاتا ہے اور اپنی پریشانیوں کو دل کے کسی کونے میں دفن کر دیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کئی لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات سے محروم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عجیب تضاد ہے۔ یہاں ہر شخص چاہتا ہے کہ کوئی اس کا احساس کری، اس کی پریشانی سمجھے، اس کے دکھ میں شریک ہو، اس کی خاموشی کو پڑھے اور اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھامے، لیکن جب کسی دوسرے کو ہماری ضرورت پڑتی ہے تو ہمارے پاس مصروفیات کی ایک طویل فہرست موجود ہوتی ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے لیے وقت نکالیں، مگر دوسروں کے لیے چند لمحے نکالنا بھی مشکل سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی تکلیف کو پہاڑ اور دوسروں کے دکھ کو معمولی واقعہ سمجھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیاں معاف کر دی جائیں، لیکن دوسروں کی معمولی کوتاہی بھی ہمارے رویوں میں نفرت پیدا کر دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم اتنی خود غرض کیوں ہو گئے ہیں؟، کبھی کسی ایسے شخص کو غور سے دیکھیے جو اپنے خاندان، دوستوں، رشتے داروں اور معاشرے کے لیے جیتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرنے کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے۔ والدین کی خوشی کے لیے اپنی سہولتیں چھوڑ دیتا ہے۔ بہن بھائیوں کی مستقبل کے لیے اپنی جوانی کی آسائشیں بھول جاتا ہے۔ دوست کی مشکل میں اپنا سکون دائو پر لگا دیتا ہے اور کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتا کہ اس کے اپنے حالات کیسے ہیں۔ مگر افسوس! ایسے لوگوں کے حصے میں اکثر شکریہ بھی نہیں آتا۔

جب تک وہ دوسروں کے کام آتے رہیں، انہیں اچھا انسان کہا جاتا ہے۔ جس دن وہ اپنی تھکن کا اظہار کر دیں، اپنی مجبوری بتا دیں یا کسی کی مدد سے معذرت کر لیں، اسی دن ان کے خلوص پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ جو شخص برسوں سے دوسروں کے لیے کھڑا ہے، اسے بھی کبھی کسی کے سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ہم نے دوسروں کے لیے قربانی دینے کو فرض اور اپنی ذات کا خیال رکھنے کو خود غرضی بنا دیا ہے۔ حالانکہ انسان کو اپنی زندگی، اپنے سکون اور اپنی عزتِ نفس کا خیال رکھنے کا بھی پورا حق ہے۔ دوسروں کے لیے جینا یقیناً خوب صورت عمل ہے، مگر اپنی ذات کو مکمل طور پر مٹا دینا دانش مندی نہیں۔

زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو خوش رکھتے رکھتے خود اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ وہ محفلوں میں مسکراتے ہیں، لوگوں کے مسائل سنتے ہیں، دوسروں کو حوصلہ دیتے ہیں، مگر جب رات کی تنہائی میں اپنے دل کا بوجھ اتارنے بیٹھتے ہیں تو ان کے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جس کے سامنے وہ بے خوف ہو کر رو سکیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں سجانے والے بعض اوقات اپنی آنکھوں میں نمی لیے زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کے لیے وقت نکالنا، کسی کی بات سننا، کسی کی عزت رکھنا، کسی کی خاموشی کا احترام کرنا اور کسی کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا بھی انسانیت ہے۔ ہر مدد پیسوں سے نہیں ہوتی۔ کبھی ایک اچھا جملہ، ایک فون کال، ایک تسلی، ایک ملاقات اور ایک مخلصانہ رویہ بھی کسی ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے دیتا ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر کسی کے لیے خود کو قربان کرنا ضروری نہیں۔ جو لوگ آپ کی محبت کو کمزوری، آپ کی خاموشی کو بے بسی اور آپ کی قربانی کو اپنا حق سمجھنے لگیں، وہاں اپنی حدود متعین کرنا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے لیے جینا تبھی خوب صورت ہے جب اس میں اپنی ذات کی عزت بھی محفوظ رہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں، اچھا انسان بننا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ دولت، عہدہ، شہرت اور اختیار انسان کو بڑا نہیں بناتے، بلکہ کسی دوسرے کے کام آنا، کسی کے آنسو پونچھنا اور کسی کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا انسان کو عظیم بناتا ہے۔

یاد رکھیے! دنیا میں اپنے لیے جینے والے بہت ہیں، مگر دوسروں کے لیے جینے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی قدر کیجیے جو آپ کے مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ان کی محبت کو معمول نہ سمجھیے، ان کی قربانیوں کو فراموش نہ کیجیے اور ان کی خاموشی کو ہمیشہ مضبوطی کا نام نہ دیجیے۔ کیونکہ جو انسان ہر ایک کے لیے مضبوط دکھائی دیتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ اندر سے بھی اتنا ہی مضبوط ہو۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ اپنے لیے جینا زندگی کی ضرورت ہے، مگر دوسروں کے لیے جینا انسانیت کی خوب صورتی ہے۔ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کیجیے، مگر اپنی ذات کو بھی نظرانداز نہ کیجیے۔ کسی کے لیے چراغ بنیے، مگر اتنا بھی نہ جل جائیے کہ آپ کے اپنے اندر اندھیرا چھا جائے۔ زندگی صرف اپنے لیے مسکرانے کا نام نہیں، کبھی کسی دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ بن جانے کا نام بھی ہے۔ مگر یاد رکھیے، دوسروں کے لیے جیتے جیتے خود کو کھو دینا بھی کوئی کامیابی نہیں!

جواب دیں

Back to top button