Column

رشتے

رشتے

شہرِ خواب

صفدر علی حیدری

انسان ایک سماجی وجود ہے۔ وہ تنہا رہ سکتا ہے، مگر تنہائی اس کی فطرت نہیں۔ اسے زندگی کے ہر موڑ پر کسی نہ کسی کی رفاقت درکار ہوتی ہے۔ کوئی ایسا شخص جس سے وہ دل کی بات کہہ سکے، خوشیاں بانٹ سکے اور دکھوں کا بوجھ ہلکا کر سکے۔ یہی ضرورت رشتوں کو جنم دیتی ہے۔ لیکن رشتہ بن جانا اور اسے نبھانا دو الگ باتیں ہیں۔ بعض لوگ برسوں ساتھ رہنے کے باوجود ایک دوسرے کے قریب نہیں آ پاتے، جبکہ بعض مختصر تعلقات بھی عمر بھر یاد رہتے ہیں۔ میرے نزدیک کسی بھی رشتے کی مضبوطی کے لیے سات بنیادی چیزیں ضروری ہیں۔

پہلا مرحلہ: قبولیت

کسی بھی رشتے کی ابتدا قبولیت سے ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم دوسرے انسان کو اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت تسلیم کریں۔ ہر شخص کا مزاج، سوچ اور ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ دوسرا ہماری طرح سوچے یا ہماری پسند کے مطابق زندگی گزارے۔ اکثر رشتے اس وقت خراب ہوتے ہیں جب ہم دوسرے کو قبول کرنے کے بجائے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے لگتے ہیں۔ یہ محبت نہیں، ذہنی اجارہ داری ہے۔ کسی کو قبول کرنے کا مطلب اس کی ہر غلطی کی تائید نہیں بلکہ اس کی شخصیت کا احترام ہے۔

دوسرا مرحلہ: احترام

محبت خوب صورت جذبہ ہے، لیکن احترام کسی بھی تعلق کی بنیادی ضرورت ہے۔ اختلاف رشتے کا دشمن نہیں، بے عزتی اس کی دشمن ہے۔ اپنی رائے دیجیے، بحث کیجیے، مگر دوسرے کی شخصیت کو مجروح نہ کیجیے۔ غصے میں کہے گئے الفاظ برسوں کے تعلق کو چند لمحوں میں زخمی کر سکتے ہیں۔ محبت قربت پیدا کرتی ہے اور احترام اسے قائم رکھتا ہے۔

تیسرا مرحلہ: اعتماد

اعتماد کسی بھی رشتے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جہاں اعتماد نہ ہو وہاں شک جنم لیتا ہے اور جہاں شک مستقل جگہ بنا لے وہاں سکون باقی نہیں رہتا۔ اعتماد مسلسل سچائی، وعدوں کی پاسداری اور کردار کی مضبوطی سے پیدا ہوتا ہے۔ جو کہیں، اسے پورا کرنے کی کوشش کریں اور دوسرے کی غیر موجودگی میں بھی اس کی عزت کی حفاظت کریں۔جس رشتے میں انسان کو ہر لمحہ اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑے، وہاں محبت کے بجائے ذہنی تھکن جنم لینے لگتی ہے۔

چوتھا مرحلہ: احساس

احساس وہ قوت ہے جو دو انسانوں کو قریب لاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ دوسرا ہر مرتبہ اپنی تکلیف بیان کرے۔ بعض اوقات اس کی خاموشی اور چہرے کے تاثرات بھی بہت کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ کسی کی پسند یاد رکھنا، اس کی تھکن محسوس کرنا، خیریت دریافت کرنا اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونا احساس ہی کی صورتیں ہیں۔ کبھی کسی پریشان شخص کے پاس خاموشی سے بیٹھنا بھی بڑی تسلی بن جاتا ہے۔

پانچواں مرحلہ: گفتگو

بہت سے رشتے محبت ختم ہونے سے نہیں بلکہ گفتگو ختم ہونے سے ٹوٹتے ہیں۔ دل میں جمع ہونے والی شکایات، غلط فہمیاں اور ادھوری خواہشات رفتہ رفتہ فاصلے پیدا کرتی ہیں۔ ضروری ہے کہ رشتوں میں مکالمے کی گنجائش موجود رہے۔ گفتگو کا مطلب صرف اپنی بات کہنا نہیں بلکہ دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔ شکایت کو طنز، خاموشی کو سزا اور اختلاف کو انتقام میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ ایک سچا مکالمہ کئی فاصلے ختم کر سکتا ہے۔

چھٹا مرحلہ: سمجھوتہ

زندگی دو انسانوں کی مشترکہ مسافت ہے۔ اس میں ہر قدم پر ایک جیسی سوچ اور خواہش ممکن نہیں۔ کہیں ایک کو دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی پسند میں کمی کرنا پڑتی ہے اور کہیں دوسرے کو پہلے کی ضرورت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ تاہم سمجھوتے اور خود کو مٹا دینے میں فرق ہے۔ اگر ہر مرتبہ ایک ہی شخص جھکے اور اپنی خواہشات قربان کرے تو یہ سمجھوتہ نہیں، یک طرفہ بوجھ ہے۔ صحت مند رشتہ وہی ہے جس میں دونوں طرف سے لچک موجود ہو۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ بحث میں کون جیتا بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود تعلق کیسے برقرار رہا۔

ساتواں مرحلہ: تسلسل

رشتوں کو قائم رکھنا ایک مسلسل عمل ہے۔ ایک دن کی محبت یا کسی خاص موقع پر دیا گیا تحفہ تعلق کو ہمیشہ کے لیے مضبوط نہیں بنا سکتا۔ رشتے روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی توجہ سے پروان چڑھتے ہیں۔ کسی کو وقت دینا، خیریت پوچھنا، مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونا اور خوشی میں شریک ہونا بظاہر معمولی باتیں ہیں، مگر یہی تعلق کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔ جس طرح پودے کو ایک مرتبہ پانی دے کر ہمیشہ سرسبز نہیں رکھا جا سکتا، اسی طرح رشتے بھی مسلسل توجہ کے بغیر مرجھانے لگتے ہیں۔

رشتوں کی اصل خوب صورتی

ان سات بنیادی باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ رشتے صرف محبت سے نہیں چلتے۔ انہیں قبولیت، احترام، اعتماد، احساس، گفتگو، سمجھوتے اور تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی رشتے کو بہتر بنانے کی کوشش کا آغاز اپنی ذات سے ہونا چاہیے۔ ہم دوسرے سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سمجھے، ہماری عزت کرے اور ہماری ضروریات کا خیال رکھے، مگر اپنے رویے کا جائزہ نہیں لیتے۔

ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہماری نیت صاف ہے؟ کیا ہم دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہمارا کردار اس قابل ہے کہ کوئی ہم پر اعتماد کر سکے؟۔ میرے خیال میں ہوس اور محبت کا بنیادی فرق بھی یہی ہے۔ ہوس میں انسان دوسرے کو اپنی خواہش کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتا ہے، جبکہ محبت میں دوسرے کی شخصیت، عزت اور وجود کو اہمیت دی جاتی ہے۔ محبت میں حاصل کرنے سے زیادہ خیال رکھنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے سنا جائے، سمجھا جائے اور اس کی موجودگی کو اہمیت دی جائے۔ اگر ہم کسی کی زندگی میں یہ تین احساسات پیدا کر سکیں تو ایک خوب صورت رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ رشتے مطالبوں سے نہیں، رویوں سے پنپتے ہیں۔ محبت اظہار سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی بقا کردار، احترام اور احساس سے وابستہ ہے۔ شاید زندگی کا سب سے بڑا ہنر یہی ہے کہ ہم کسی کے لیے صرف پسندیدہ انسان نہ بنیں بلکہ قابلِ اعتماد، باعزت اور قابلِ احترام انسان بھی بنیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رشتہ محض تعلق نہیں رہتا، زندگی کا خوب صورت اثاثہ بن جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button