پاک، ترک دوستی اور ترکیہ کی 103ویں سالگرہ

پاک، ترک دوستی اور ترکیہ کی 103ویں سالگرہ
تحریر: حیدرعلی
مادر عزیز پاکستان کی دوستی یوں توہمسائیہ ملک چین سے معروف ہے اور دُنیامیں جہاں پاک چین دوستی کی مثال دی جاتی ہے وہیں تُرکیہ وُہ ملک ہے جس کیساتھ نہ صرف برصغیرکے مسلمانوں کی صدیوں سے محبت وعقیدت کی وابستگی ہے بلکہ پاکستان اور ترکیہ تاریخی، مذہبی اور مشترکہ اقدار کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔پاکستان کے بانیان خصوصاًشاعرمشرق حکیم الامت،ڈاکٹرعلامہ محمداقبالؒاوربابائے قوم حضرت قائداعظم محمدعلی جناحؒ کو تو تُرکیہ کی حکومت اورعوام انتہائی عقیدت اورتکریم سے یادکرتے ہیں۔برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں کوآج بھی تُرکیہ کے عوام انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔تُرکیہ میں اِس وقت صدررجب طیب اردوان برسراقتدار ہیں اور اِن کی جماعت اور حکومت کی سب سے بڑی خوبی ہی یہی ہے کہ وُہ اپنے دوست ممالک اورخصوصاًمسلمان اورسب سے بڑھ کرپاکستان کی دوستی کے حوالے سے ہرپلیٹ فارم اور ہراہم قومی یابین الاقوامی مواقع پرذکرکرتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تاریخی وباہمی محبت ہے تووہیں دونوں ممالک ایک دوسرے کیساتھ ہرمشکل میں چٹان کی طرح کھڑے ہوتے ہیں۔آپریشن بنیان مرصوص معرکہ حق کے موقع پر بھی تُرکیہ نے پاکستان کابھرپور ساتھ دیابلکہ بھارتی گودی میڈیا نے توتُرکیہ کی پاکستان کی بھرپور حمایت پر سرپرآسمان اُٹھالیاتھا۔کشمیرکے حوالے سے تُرکیہ کاوہی موقف ہے جوپاکستان کاہے اورتُرکیہ۔آذربائیجان اورپاکستان کی دوستی اب ایک نئے دورمیں داخل ہوچکی ہے۔پاک تُرکیہ تعلقات کے حوالے سے میاں برادران کی خصوصی کاوشیں شامل ہیں خصوصاًوزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شہبازشریف اورتُرک صدررجب طیب ایردوان کابرادرانہ تعلق اورمُسلم اُمہ کے حوالے سے موقف بھی یکساں اورانتہائی مثبت اورحوصلہ افزاء ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعدرواں سال ہی تُرکیہ بھی اِس دفاعی معاہدے میں شامل ہوچکاہے۔گزشتہ روزہی تُرکیہ،سعودی عرب اورپاکستانی وفدنے خطہ کے امن وامان کے حوالے سے ایران کادورہ بھی کیاہے۔اُمیدواثق ہے کہ جس طرح خطہ بلکہ دُنیامیں امن بحالی کیلئے پاکستان قائدانہ طور پر کردار ادا کررہاہے بہت جلدامریکہ ایران دونوں فریق مذاکرات کی میزپربیٹھیں گے اوراِس حوالے سے دیگراسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ تُرکیہ امن بحالی میں پاکستان کی کاوشوں میں بھرپورشامل ہے۔گزشتہ روزہی جمہوریہ ترکیہ کی 103ویں سالگرہ کے موقع پروفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سفارتخانہ تُرکیہ میں بھی تقریب کاانعقاد کیاگیا۔تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شہبازشریف تھے۔سفارتخانے آمد پر ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو نے وزیر اعظم شہباز شریف کا خیرمقدم کیا۔تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ترک سفیر نے سالگرہ کا کیک کاٹا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ا عظم نے صدر رجب طیب ایردوان، حکومت اور ترک عوام کو قومی دن کی مبارکباد دی۔وزیر اعظم نے مزیدکہا کہ 29 اکتوبر 1923ء کو مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی گئی،صدر رجب طیب ایردوان کی مدبرانہ قیادت میں ترکیہ مضبوط عالمی قوت بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت، دفاعی ٹیکنالوجی اور جدید بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ترکیہ کا اہم مقام ہے، پاکستان اور ترکیہ کی لازوال دوستی کی ایک تاریخ ہے،تحریک خلاف کے دوران برصغیر کے مسلمانوں نے ترک بھائیوں کی بھرپور حمایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، 2005ء کے زلزلے کے بعد ترکیہ پاکستان کی مدد کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا، 2010ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران صدر رجب طیب ایردوان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ترکیہ کی جانب سے مظفرگڑھ میں جدید ہسپتال اور متاثرین کو سہولتیں فراہم کی گئیں،ترک خاتون اول نے سیلاب متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور جذبہ ایثار کا بے مثال مظاہرہ کیا،امینہ ایردوان کے جذبہ ایثار نے لاکھوں پاکستانیوں کے دل جیت لیے، رجب طیب ایردوان ہسپتال اور امینہ ایردوارن سکول صحت اور تعلیم کی سہولتوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ فروری 2023ء میں ترکیہ میں آنے والے زلزلے پر پاکستانی عوام نے ترک بھائیوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا،پاکستان نے ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے دوران ترکیہ کی حمایت اہل پاکستان کے لیے حوصلے کا باعث بنی،ترکیہ کی مخلصانہ حمایت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سیاست، تجارت، دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے، مکہ دفاعی مشترکہ معاہدہ صلاحیت اور علاقائی امن و استحکام کے عزم کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے، کراچی میں صدر رجب طیب ایردوان خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جا رہا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں،ترک سرمایہ کار پاکستان میں معاشی مواقع سے فائدہ اٹھائیں، دونوں ممالک کے تعلقات کو مشترکہ منصوبوں اور خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اوردونوں ممالک محض دوست نہیں بلکہ تاریخ اور ایمان کے رشتے میں بندھے ہوئے بھائی ہیں۔پاکستان اورتُرکیہ کے تاریخی تعلقات میں مزیدگرمجوشی اور دونوں ممالک میں ہونیوالے نئے تجارتی معاہدے خصوصاًمکہ دفاعی معاہدے میں تُرکیہ کی شمولیت کے بعددونوں ممالک کے تاریخی تعلقات ایک نئے دورمیں داخل ہوچکے ہیں جوآنیوالے وقتوں میں مزیدمضبوط ہوں گے۔





