خطرہ ابھی باقی ہے !!

خطرہ ابھی باقی ہے !!
محمد مبشر انوار
اسرائیل کے عام اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات ہو چکے ہیں اورتوقعات کے مطابق،کو کہ جزوی طور پر پوری نہیں ہوئی،انتخابی نتائج سامنے آ چکے ہیں،جزوی اس حوالے سے کہ شدید توقع تھی کہ اسرائیل میں نیتن یاہو واضح شکست سے دوچار ہوں گے لیکن نیتن یاہو کا اتحاد اور جماعت ،انتخابات میں اکثریت تو حاصل کر چکے ہیں مگر حکومت سازی میں ان کا امکان کم نظر آتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ میں ڈیمو کریٹس نے میدان مار لیا ہے اور ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ ان انتخابی نتائج سے کیا کچھ ممکن ہو سکے گا ،کیا ایران کے خلاف جنگ بند ہو جائیگی؟یا ٹرمپ کانگرس کے خلاف نئے سرے سے صف بندی کریں گے؟کیا ٹرمپ کا مواخذہ ہو سکے گا یا مواخذے سے بچ جائیں گے؟ ڈیموکریٹس کے ساتھ ورکنگ ریلیشن قائم ہو سکے گا یا نہیں؟کیا نیتن یاہو اقتدار سے باہر ہو جائیگا؟نیتن یاہو کا مستقبل کیا ہو گا؟یہ سوالات بظاہر انتخابی نتائج کے ساتھ آسان دکھائی دیتے ہیں لیکن آئینی وقانونی صورتحال کے تناظر میں ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے اور نہ ٹرمپ اور نہ ہی نیتن یاہو اتنی آسانی سے اپنے عزائم سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلیکنز کی شکست کی وجوہات کیا رہی ہیں۔ امریکی نائب صدر وینس نے ناکامی پر کھل کر کہا ہے کہ ری پبلیکنز کی شکست کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جنگ ہے، جبکہ دوسری وجہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات رہے ہیں، جس کے باعث ری پبلیکنز کو انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور اب بھی جے ڈی وینس اپنے طور پر ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش بھی کر رہے ہیں تو دوسری طرف ان کی طرف سے یہ دعوی بھی سامنے آیا ہے کہ وہ نجی محفل میں ٹرمپ کو یہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ مزید جنگ کی بجائے ،معاہدے کی کوشش کریں،جسے ٹرمپ نے قبول نہیں کیا۔ ٹرمپ اب بھی اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں دوبارہ بھی موقع ملا تو وہ پھر ایران کے خلاف یہی قدم اٹھائیں گے اور کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے،جبکہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے جے ڈی وینس بھی اس سوچ کے حامل ہیں لیکن اس کے باوجود وینس ایران کے خلاف جارحیت کے حامی بھی نہیں ہیں۔ بہرکیف اب صورتحال بدل چکی ہے اور کانگریس میں ڈیموکریٹس کی برتری کے بعد،ٹرمپ کے لئے یہ آسان نہیں رہا کہ وہ جنگ کے متعلق اپنی من مرضی کر سکیں گو کہ ابھی بھی صدارتی اختیارات ان کے پاس ہی ہیں لیکن اب کانگرس کا کنٹرول نسبتا زیادہ ہو گا اور ٹرمپ کانگرس کو بہرحال جوابدہ ہوں گے۔ بجٹ ،قرض،خارجہ پالیسی،ٹیرف و تجارت وغیرہ جیسی پالیسیوں پر وائٹ ہائوس اور کانگرس کے درمیان سخت محاذ آرائی کی توقع کی جارہی ہے جبکہ سب سے اہم دونوں فریقین کے درمیان اگلے صدارتی انتخاب2028کی انتخابی مہم کا بیانیہ ہو گا کہ کون اگلے صدارتی انتخاب میں مضبوط و مقبول بیانیہ بنا کر عوام کے سامنے آتا ہے ۔ ان میں سے بجٹ اورقرض کے حوالے سے ممکنہ طور پر ٹرمپ سمجھوتہ کرتے دکھائی دیں گے،جبکہ دیگر معاملات میں ٹرمپ اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کریں گے اور کانگرس کی قدغنوں کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ جس کے متعلق وہ خود کہہ چکے ہیں کہ وہ مسٹر ویٹو کا کردار ادا کریں گے،ٹرمپ کے مزاج کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انتخابی معرکے کے دوران ٹرمپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں مگر عوامی رائے سامنے آنے کے بعد اور قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے قوی امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ ڈیمو کریٹس کے ساتھ اپنے معاملات ؍ورکنگ ریلیشن کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ظہران ممدانی کے نیویارک میئر انتخابات سے قبل دونوں کے درمیان سخت لفظی جنگ جاری رہی تھی مگر انتخابی نتائج کے بعد نہ صرف ٹرمپ نے ظہران ممدانی کو قبول کیا بلکہ اس کے ساتھ اچھے ورکنگ ریلیشنز بھی قائم ہیں۔ درحقیقت ترقی یافتہ،مہذب ( کہنے کی حد تک یا اپنے اندرونی معاملات کی حد تک)،اور جمہوریت پسند معاشروں کی یہی خوبصورتی ہے کہ وہ نہ صرف انتخابی عمل کو قدرے شفاف رکھتے ہیں بلکہ عوامی رائے کا احترام بھی کرتے ہیں،بلٹ کی بجائے بیلٹ کا احترام کرتے ہیں۔ رہی بات ٹرمپ کے مواخذے کی،تو یہ تھوڑا مشکل کام دکھائی دیتا ہے کہ جتنا آسان کہنا ہے،قانونی طور پر کرنا اتنا ہی مشکل نظر آتا ہے گو کہ ڈیموکریٹس کو کانگریس میں برتری تو حاصل ہو چکی ہے لیکن ٹرمپ کے مواخذے میں جو بنیاد درکار ہے،اس کے موجود ہونے کے باوجود،ایوان نمائندگان اور سینیٹ سے اس کی منظوری اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک ری پبلیکنز ارکان ڈیموکریٹس کا ساتھ نہ دیں،جو بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ سینیٹ میں دوتہائی اکثریت سے ہی مواخذہ کامیاب ہو سکتا ہے،اور یہ عددی برتری صرف ڈیموکرٹیس کو حاصل دکھائی نہیں دیتی،لہذامواخذہ ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا البتہ دیگر امور پر ٹرمپ کی مشکیں کسنے یا من مرضی کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
اب ذرا اسرائیل کی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ آج کے روز اسرائیلی صدر حکومت سازی کے لئے گادی آئزن کوٹ کو نامزد کریں گے کہ وہ اپنی حکومت کی تشکیل کریں ،جس کے لئے انہیں 28دن کی مدت دی جائیگی ،حکومت سازی کرنے کے لئے صدر اسحق ہرزوگ کے پاس گادی آئزن کوٹ کوحکومت سازی کے لئے 67ارکان کی حمایت مل چکی ہے۔ ان 67ارکان میں گادی آئزن کوٹ کے اپنے اتحاد کی 48نشستیں اور عرب جماعتوں ( جوائنٹ لسٹ اور رعام) کی 19نشستوں کے ساتھ گادی آئزنکوٹ کو برتری مل چکی ہے اور ان اراکین نے گادی آئزنکوٹ کی حکومت بنانے کی حمایت کی ہے لہذا اسرائیلی صدر اتوار 8نومبر کو آئزنکوٹ کو حکومت سازی کے لئے باضابطہ نامزد کریں گے بشرطیکہ معاملات معمول کے مطابق رہے۔ بصورت دیگر ممکنہ طور پر حکومت سازی کا عمل موخر ہو سکتا ہے جس کی بنیادی وجہ ہنگامی صورتحال و قومی سلامتی کا تحفظ ہو سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال کیونکر ہو گی؟اسرائیلی قانون کے مطابق حکومت سازی کے لئے ابتدائی طور پر 28دن دئیے جاتے ہیں اور اس میں مزید 14دن کی توسیع بھی ممکن ہے لیکن اگر فوری طور پر ملکی سلامتی ،ہنگامی صورتحال یا جنگی صورتحال کا سامنا ہو جائے تو حکومت سازی کی بجائے ،اولین ترجیح قومی مفاد کو دی جاتی ہے،جو بالعموم دنیا بھر کی ریاستوں میں ہوتا ہے،اس کا ایک مظاہرہ اس وقت یوکرین میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زیلنسکی کی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن چونکہ ملک جنگ سے دوچار ہے لہذا یوکرین میں عام انتخابات کو موخر ہیں اور زیلنسکی ہی امور مملکت چلا رہے ہیں۔ اس کو ذہن میں رکھیں اور سوچیں کہ نیتن یاہو جو بیک وقت کئی ایک مقدمات میں مطلوب ہے،کس وجہ سے اقتدار میں ٹھہر سکتا ہے ؟میری دانست میں اس کی ایک ہی وجہ دکھائی دیتی ہے کہ کسی طرح اسرائیل میں جنگی صورتحال پیدا ہو جائے اور کیا نیتن یاہو اکیلا ،امریکی اعتماد کے بغیر ،ایران پر حملہ کر سکتا ہے یا ایران کے ساتھ سینگ پھنسا سکتا ہے؟امریکہ کی عمومی روایت یہی رہی ہے کہ شکست خوردہ کو ہمیشہ کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے لیکن کیا یاہو کے معاملے میں امریکہ ایسا کرسکتا ہے؟بالخصوص ایپسٹین فائلز اور ٹرمپ کی اپنی خواہش کہ وہ ایران جنگ سے ناکامی کا لیبل اپنے ماتھے پر چسپاں نہیں کرانا چاہتا،گو کہ میدان جنگ اور مذاکرات کی میز پر اب تک امریکہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پایا،اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس امر کا اظہار کررہا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو نا مکمل نہیں چھوڑے گا۔ دوسری طرف اسرائیل میں ابھی تک عبوری اقتدار بھی نیتن یاہو کے پاس ہی ہے اور اس عبوری اقتدار کے باوجود نیتن یاہو کے پاس کسی بھی ملک کے خلاف جنگ کرنے کے اختیارات بھی موجود ہیں، خواہ یہ جنگ ایران کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔اس پس منظر میں نیتن یاہو اور ٹرمپ کی اسرائیلی انتخابات کے بعد ہونے والی فون کال کے حوالے سے یہ خبریں بھی آ چکی ہیں کہ دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہونے کے علاوہ جنگ کے متعلق بھی بات ہوئی ہے اور گمان یہی رہا تھا کہ امریکہ اپنے وسط مدتی انتخاب سے پہلے ایران پر حملہ کری گا لیکن بوجوہ امریکہ نے ایران پر بڑا حملہ نہیں کیا گو کہ اس دوران جزیرہ قشم پر کوشش کی تھی مگر اس کو وسیع پیمانے پر نہیں پھیلایا گیا۔ نیتن یاہو اگر ذاتی مفاد اور اقتدار کا سوچتے ہوئے ازخود ایران پر حملہ کرتا ہے اور جوابی حملے کے بعد،امریکہ اپنی روایت کے مطابق اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے( جس کو تقویت اس امر سے ملتی ہے کہ امریکہ نے اپنے اسلحہ ذخائر اس دوران اسرائیل منتقل کئے ہیں)تو اس صورت میں اسرائیل میں ہنگامی صورتحال ہو سکتی ہے اور نیتن یاہو عبوری حکومت کو طول دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ اتنی طوالت اختیار کر سکتی ہے کہ نیتن یاہو ایک طویل عرصے اقتدار پر قابض رہ سکیں ؟جبکہ امریکہ کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ مختصر مگر شدید حملہ کرنے کاارادہ رکھتا ہے،لہذا اس پس منظر میں جب تک اسرائیل میں انتقال اقتدار ہو نہیں جاتا،یہ کہا جا سکتا ہے کہ خطرہ ابھی باقی ہے۔







