CM RizwanColumn

بلاول کی تازہ تلقین چہ معنی دارد؟ 

جگائے گا کون؟

  1. بلاول کی تازہ تلقین چہ معنی دارد؟

تحریر: سی ایم رضوان

گزشتہ روز لاڑکانہ میں اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سیاستدانوں اور وفاق کو باہمی سیاسی لڑائیوں، محاذ آرائی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے غریب عوام کے معاشی دکھوں، تنخواہوں، گرانی اور بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں معاشی بحران شدید تر ہو چکا ہے، جس سے عام شہری پس رہا ہے، اس لئے تمام فریقین کو اختلافات بھلا کر عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح بنانا چاہیے۔ اربوں روپے کی جائیدادوں اور کاروباروں کے مالک بلاول بھٹو زرداری کی زبان سے پاکستان کے غریبوں کے دکھوں کی بات کوئی نئی بات نہیں بلکہ پاکستانی سیاست کی تمام تاریخ میں ’’ غریب‘‘ ہمیشہ سیاسی نعروں کا مرکزی زبانی کلامی نقطہ رہا ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ تلخ تجربات اور سنسنی خیز انکشافات کے بعد یہ عقدہ کھلا ہے کہ کھربوں پتی بلاول بھٹو جیسے ہمارے تمام سیاست دانوں کے اس طرح کے بیانیے صرف اقتدار کی ضرورت اور اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے مختلف تقاضوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ کیونکہ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ بلاول بھٹو جس پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں وہ پیپلز پارٹی گزشتہ ساڑھے 15سال سے مسلسل صوبہ سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے۔ اگر صرف ان کے نعروں اور بیانات کے بجائے کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو سندھ کے پسماندہ اضلاع ( جیسے تھر پارکر، بدین، اور خود لاڑکانہ) میں صحت، پینے کے صاف پانی اور تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ ہی خستہ حالی کا شکار ہے۔ بچوں کی غذائی قلت اور لاڑکانہ کے ہسپتالوں کی صورتحال اکثر سوالات کی زد میں رہتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ اور سابقہ اتحادی حکومتوں ( پی ڈی ایم اور موجودہ وفاقی سیٹ اپ) میں اقتدار اور حکمرانی کا باقاعدہ حصہ ہے اور رہی ہے۔ اور بھی ریکارڈ پر ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر مبنی ٹیکس، بجلی و گیس کی مہنگائی اور منی بجٹ کی منظوری میں حکمران اتحاد کے فیصلوں کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے اور رہی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے اور پڑ رہا ہے۔ ایسے میں صرف تقریر کی حد تک حکومت سے تھوڑی دیر کے لئے الگ ہو کر غریبوں کے دکھوں کے مداوا کی تلقین چہ معنی دارد؟ یہ ہمارے عوام کی بدقسمتی ہے کہ صرف بلاول بھٹو ہی نہیں پاکستان کے روایتی سیاسی نظام میں اسمبلیوں میں موجود اکثر نمائندے خود بڑے جاگیردار، نواب اور سرمائے کے مالک ہیں مگر اسمبلیوں میں محض کارروائیوں کے لئے غریب کے لئے آواز اٹھانے کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن جب زراعت پر ٹیکس لگانے، جاگیردارانہ مراعات ختم کرنے، یا امرا پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کا وقت آتا ہے تو یہی سیاست دان قانون سازی کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور غریبوں کے دکھوں کے عملی مداوا کی بات تک کو بھی التوا میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ ہر دور میں پاکستان کی ہر سیاسی جماعت ( خواہ وہ پی پی پی ہو، ن لیگ ہو یا پی ٹی آئی) اپوزیشن میں ہو تو غریب کی ہمدرد بن جاتی ہے، جبکہ حکومت میں آتے ہی معاشی مجبوریوں اور بین الاقوامی معاہدوں کا بہانہ بنا کر غریب پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیتی ہے، لیکن بلاول بھٹو تو اس سے بھی باریک کارروائی یہ ڈال رہے ہیں کہ سندھ، وفاق، جی بی اور ایوان صدارت میں حکمران ہونے کے باوجود صرف مشورہ پر گزارا کر رہے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ بلاول بھٹو جیسے ہمارے اکثر سیاسی قائدین کے بیانات اور حقیقی کردار میں یہی بنیادی تضاد ہے کہ غریب عوام کو ووٹ بینک کے طور پر تو استعمال کیا جاتا ہے، لیکن معاشی و انتظامی اصلاحات کرتے وقت ان کی بہتری کے لئے دور رس اقدامات کے بجائے صرف نعروں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دل میں غریبوں کا انتہائی درد رکھنے والے بلاول بھٹو زرداری اور زرداری خاندان کے ظاہر کردہ اثاثوں، جائیدادوں اور کاروبار کے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کروائی گئی دفتری دستاویزات اور عوامی ریکارڈ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے اثاثے اور جائیدادیں 1.5ارب سے 1.6ارب روپے تک ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ کے مختلف اضلاع ( لاڑکانہ، رتوڈیرو، سانگھڑ، ٹنڈو اللہ یار وغیرہ) میں سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی اور جائیدادیں جبکہ اسلام آباد ( جی سکس) میں 1200مربع گز کا بنگلہ۔ بیشتر زرعی اراضی اور دیگر جائیدادیں نانا ( ذوالفقار علی بھٹو) اور خاندان کی طرف سے بطور تحفہ ظاہر کی گئی ہیں۔ یہی نہیں متحدہ عرب امارات ( دبئی) اور برطانیہ ( یو کے) میں کاروبار، جائیدادیں اور آف شور اکائونٹس بھی ملکیت میں ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کو دئیے گئے گوشواروں کے مطابق ان کا بینک بیلنس 12کروڑ روپے سے زائد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح زرداری خاندان کے کاروبار اور ملکیتیں بھی حیران کن ہیں آصف علی زرداری اور زرداری خاندان کی کاروباری و زرعی وابستگیوں میں سندھ ( خاص طور پر نواب شاہ اور سانگھڑ) میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں ہیں۔ خاندان کے مختلف افراد شوگر ملز ( مثلاً انصاری شوگر ملز، نوری آباد وغیرہ) اور دیگر صنعتی گروپس میں ہولڈنگز یا شیئرز رکھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس خوش قسمت اور غریب دوست خاندان کی کراچی، اسلام آباد اور بیرون ملک ( دبئی اور لندن) میں مختلف رہائشی اور کمرشل املاک بھی ہیں۔ یہاں کوئی تحقیقاتی سروے یا نیا انکشاف نہیں کیا جا رہا بلکہ الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائے جانے والی معلومات ہی بیان کی گئی ہیں۔ ان گوشواروں میں سالانہ مالیاتی گوشوارے اور ٹیکس تفصیلات درج کی روزانہ کی آمدن یا ڈیلی کیش فلو کا کوئی دفتری حساب عام رکارڈ پر موجود نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان کی سالانہ آمدن جو کہ بنیادی طور پر زرعی حاصلات یعنی زمینوں سے آنے والی فصلوں اور زراعت کے منافع پر مشتمل ہوتی ہے کا ریکارڈ بھی درج نہیں کیا گیا۔ سرمایہ کاری اور بزنس منافع بھی نجانے کتنا ہے جو کہ مختلف کاروباری اداروں، شیئرز اور املاک کے کرائے یا بیرون ملک سرمایہ کاری سے حاصل ہوتی ہے۔ یہاں اگر پاکستان کے غریبوں کی بات کی جائے تو ان کے مسائل کی گنتی مشکل ہے اور بلاول کے وسائل کی گنتی مشکل ہے۔

اب آتے ہیں اس امر پر کہ بلاول بھٹو تلقین کس کو کر رہے ہیں۔ یعنی وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی دولت کی تفصیلات کی جانب۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے خاندان ( شریف خاندان) کے ظاہر کردہ اثاثوں، جائیدادوں اور کاروباری املاک کی تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرائے گئے مالیاتی کاغذات، کاغذاتِ نامزدگی اور عوامی ریکارڈ کی روشنی میں مختلف برسوں کے دفتری گوشواروں میں شہباز شریف کے کل ذاتی اثاثوں کی قدر 15 کروڑ سے 25کروڑ روپے کے درمیان ظاہر کی گئی ہے ( جو کہ کاغذاتِ نامزدگی میں واجبات اور قرضوں کے بعد نیٹ ورتھ بتائی جاتی ہے)۔ اس کے علاوہ ان کی لندن ( برطانیہ) میں رہائشی املاک، جن کی ظاہر کردہ مالیت دستاویزات میں 5 سے 8کروڑ روپے کے قریب ہے جبکہ شیخوپورہ اور لاہور کے قریب سیکڑوں کنال زرعی اراضی۔ مری میں رہائشی جائیدادیں، املاک۔ جبکہ بینک اکائونٹس میں کروڑوں روپے کی رقم، نیز بعض مالیاتی سالوں میں خاندان کے افراد سے قرضہ جات اور واجبات بھی گوشواروں کا حصہ رہے ہیں۔ جبکہ شریف خاندان کی دہائیوں پر محیط صنعتی تاریخ ہے اور وہ پاکستان کے بڑے صنعتی اور تجارتی گروپس میں شمار ہوتے ہیں۔ اس خاندان کی ملکیت یا حصص میں مختلف شوگر ملز شامل رہی ہیں، جن میں حمزہ شوگر ملز، چودھری شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز وغیرہ نمایاں ہیں۔ علاوہ ازیں اتفاق ٹیکسٹائل، شریف ملز اور دیگر صنعتی یونٹس میں خاندان کے شیئرز ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد کے نام پر پولٹری پروسیسنگ، ڈائری پروڈکٹس اور فیڈ ملز کے کاروبار بھی ہیں۔ خاندان کے دیگر ارکان ( جیسے حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور مریم نواز) مختلف کاروباری گروپس اور املاک کے شیئرز رکھتے ہیں۔ قانونی و دفتری طور پر الیکشن کمیشن یا فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں سالانہ مالیاتی گوشوارے اور ٹیکس ریٹرنز تو جمع ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے کسی بھی سیاستدان یا ان کے خاندان کا روزانہ کی آمدن کا کوئی سرکاری رکارڈ عمومی طور پر شائع نہیں ہوتا۔ لیکن یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کو مختلف فیکٹریوں، شوگر ملز، ٹیکسٹائل اور دیگر شیئرز کا سالانہ منافع بھی ملتا ہے۔ زرعی زمینوں کی فصلوں سے آمدن بھی آتی ہے۔ اندرون و بیرون ملک املاک کے سالانہ کرائے اور دیگر سرمایہ کاری کا عائد ہونے والا منافع بھی ان کے اکائونٹس میں آتا رہتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے غریبوں کے دکھوں کے لئی بیانات کس حد تک سنجیدہ اور خوش کن ہو سکتے ہیں جو خود سونے کے چمچ سے کھاتے ہیں اور غریبوں کے کھانے کے لئے تو کچھ بچا ہی نہیں۔

جواب دیں

Back to top button