Column

آزمائش

آزمائش
شہرِ خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسان کی زندگی خوشی اور غم، آسائش اور محرومی، کامیابی اور ناکامی، صحت اور بیماری کے درمیان سفر کرتی ہے۔ کبھی زندگی پھولوں کی سیج محسوس ہوتی ہے اور کبھی کانٹوں کا راستہ۔ ایسے میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے: اللہ تعالیٰ انسان کو آزماتا کیوں ہے؟ اگر وہ سب کچھ جانتا ہے تو پھر امتحان کی ضرورت کیا ہے؟۔ اس کا جواب قرآن ہمیں دیتا ہے کہ آزمائش اللہ کے علم میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسان کے باطن کو عمل کی صورت میں ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ صبر، شکر، دیانت اور ایمان اس وقت پہچانے جاتے ہیں جب حالات ان کا مطالبہ کریں۔ قرآن کہتا ہے: ’’ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے‘‘۔ گویا زندگی خود ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں صرف دکھ نہیں، خوشی بھی آزمائش ہے؛ بیماری بھی امتحان ہے اور صحت بھی؛ غربت بھی اور دولت بھی۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ مشکل صرف تکلیف دینے آتی ہے، حالاں کہ بہت سی مشکلات انسان کو اس کے رب سے جوڑنے آتی ہیں۔ جب وسائل جواب دے دیتے ہیں، منصوبے ٹوٹ جاتے ہیں اور سہارے بکھر جاتے ہیں تو زبان سے بے اختیار نکلتا ہے’’ یا اللہ! اب تو ہی مدد فرما‘‘۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی بے بسی اور اللہ کی قدرت کو پہچانتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ’’ اور ہم نے انہیں بڑی پکڑ سے پہلے چھوٹی پکڑ کا مزہ چکھایا تاکہ وہ پلٹ آئیں‘‘۔
بعض حادثے، بیماریاں اور نقصانات اسی رجوع کا دروازہ بن جاتے ہیں جسے خوش حالی نے بند کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجیے‘‘۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ خوف، بھوک، مالی نقصان اور جانی صدمے انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر اس کا اصل پیغام مشکلات کی خبر نہیں بلکہ صبر کرنے والوں کے لیے خوش خبری ہے۔ پھر صبر کرنے والوں کی پہچان یوں بیان کی: ’’ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔ یہ صرف ایک دعا نہیں بلکہ ایک طرزِ فکر ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ خود بھی اللہ کی امانت ہے اور اس کے پاس موجود ہر نعمت بھی، تو محرومی کے باوجود دل میں سکون پیدا ہونے لگتا ہے۔قرآن ایک اور حقیقت بھی واضح کرتا ہے: ’’ اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی دونوں کے ذریعے آزماتے ہیں‘‘۔ ( الانبیائ: 35)۔ یعنی اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کو کیا ملا، بلکہ یہ ہے کہ اسے جو ملا، اس کے ساتھ اس نے کیا رویہ اختیار کیا۔رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ آزمائش انبیائے کرامٌ پر آتی ہے، پھر ان لوگوں پر جو ان کے بعد مرتبے میں قریب ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مصیبت اللہ کی ناراضی کی دلیل نہیں۔
حضرت ایوبٌ کی بیماری، حضرت یعقوبٌ کی جدائی، حضرت ابراہیمٌ کی قربانی اور رسول اکرمؐ کی طائف کی آزمائش ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ مشکل کتنی ہی بڑی ہو، اللہ سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا’’ مومن کا ہر معاملہ خیر ہے، خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے‘‘۔ یہی مومن کی اصل کامیابی ہے کہ وہ حالات کا غلام نہیں بنتا بلکہ ہر حال میں اپنے رب سے جڑا رہتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کی تعلیمات آزمائش کو کردار سازی سے جوڑتی ہیں۔ آپؓ سے منسوب معروف قول ہے کہ صبر ایمان کے لیے ایسا ہے جیسے جسم کے لیے سر۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ صبر محض خاموشی نہیں بلکہ مشکل میں اپنے اخلاق، انصاف اور خدا پر بھروسے کو قائم رکھنا ہے۔ حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر انسان کا کردار اس کے اختیار میں رہتا ہے، اور یہی کردار آزمائش میں اس کی اصل پہچان بنتا ہے۔
ہر آزمائش کا فیصلہ خود مشکل نہیں کرتی، بلکہ مشکل کے بعد انسان کا رویہ کرتا ہے۔ اگر بیماری انسان کو دعا، نماز اور عاجزی کی طرف لے آئے تو وہ بیماری اس کے لیے روحانی نعمت بن سکتی ہے۔ اگر کاروباری نقصان اسے حلال رزق کی طرف لوٹا دے تو وہ خسارہ محض مالی نقصان نہیں رہتا۔ لیکن اگر انسان مشکل میں اللہ سے بدگمان ہو جائے، عبادت چھوڑ دے یا دوسروں کے لیے تلخی کا سبب بن جائے تو اسے اپنے باطن کا جائزہ لینا چاہیے۔ البتہ غم کرنا، رونا یا انسانوں سے مدد لینا خدا سے دوری نہیں۔ حضرت یعقوبٌ نے فرمایا: ’’ میں اپنی پریشانی اور اپنا غم صرف اللہ سے بیان کرتا ہوں ‘‘۔
اصل بات یہ ہے کہ دکھ میں دل اپنے رب سے منقطع نہ ہو۔ ہم عموماً آزمائش کو صرف مصیبت سے جوڑتے ہیں، حالاں کہ مال، اولاد، صحت، شہرت، عہدہ اور اقتدار بھی امتحان ہیں۔ غریب کے لیے غربت آزمائش ہے تو امیر کے لیے دولت۔ بے اولاد کے لیے محرومی امتحان ہے تو صاحبِ اولاد کے لیے تربیت۔ بے اختیار کے لیے صبر امتحان ہے تو صاحبِ اختیار کے لیے انصاف۔ بعض لوگ مصیبت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں مگر خوش حالی میں بھول جاتے ہیں، حالاں کہ شکر بھی عبادت ہے اور نعمت کا صحیح استعمال بھی امتحان کا حصہ ہے۔
ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ ہم کسی کی بیماری، حادثے یا غربت کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ اسی طرح ہر تکلیف کو لازماً اللہ کی خصوصی محبت کی علامت بھی نہیں کہا جا سکتا۔ مصیبت ایک تکلیف دہ واقعہ ہے، جب کہ آزمائش ایک وسیع تر حقیقت ہے جس میں نعمتیں اور محرومیاں دونوں انسان کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس لیے ہمیں دوسروں کے بارے میں فیصلے کرنے کے بجائے اپنے اعمال اور اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے۔زندگی کی ہر مشکل بدقسمتی نہیں ہوتی۔ بعض مشکلات ہمیں ہماری حقیقت دکھاتی ہیں، بعض ہماری اصلاح کرتی ہیں، بعض ہمارے اندر چھپی قوت جگاتی ہیں اور بعض ہمیں اس دروازے تک پہنچا دیتی ہیں جسے ہم خوش حالی میں بھول چکے ہوتے ہیں۔ البتہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ دعا کرنا، علاج کرانا، محنت کرنا، مشورہ لینا اور حالات بدلنی کی کوشش کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے۔ انسان کوشش کرتا ہے، نتیجہ اللہ کے سپرد کرتا ہے۔ اس لیے زندگی میں صرف یہ نہ دیکھیے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا، یہ بھی دیکھیے کہ اس کے بعد آپ کے اندر کیا بدلا۔ آپ کا دل خدا کے قریب ہوا یا دور؟ عاجزی بڑھی یا تکبر؟ دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی یا اپنی تکلیف دوسروں کے لیے اذیت بن گئی؟۔ شاید آزمائش کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ بعض اوقات انسان خدا کو خوش حالی میں نہیں پاتا، مگر ایک مشکل اسے اس دروازے تک پہنچا دیتی ہے جہاں سے واپسی نہیں، قربت کا سفر شروع ہوتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے :
گزری ہے آزمائش مہر و وفا میں عمر
فرصت مجھے ملی نہ کبھی امتحان سے

جواب دیں

Back to top button